جنوبی افریقہ میں پاکستان نے تیسرے ایک روزہ میچ میں 28 رنز سے کامیابی حاصل کر کے سیریز اپنے نام کر لی

فخر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ کو سنچورین میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ایک روزہ میچ میں 28 رنز سے شکست دے کر سیریز میں کامیابی حاصل کر لی۔

پاکستان کے لیے یہ کامیابی اس لحاظ سے بڑی اہم ہے کہ اس میچ میں پاکستان ٹیم کے صف اول کے بلے بازوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد صف اول کے گیند بازوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور ٹیم کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالا۔

لیکن ایک کمزوری جو ٹیم میں کئی مرتبہ نظر آ چکی ہے وہ مڈل آڈر کے بلے بازوں کی ناکامی یا توقعات پر پورا نہ اترنا ہے۔

پاکستان کے اوپنرز امام الحق اور فخر زمان نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے پہلی ووکٹ کی شراکت میں 112 رنز بنائے۔ امام الحق 73 گیندوں میں 57 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

فخر زمان نے اس میںچ میں سنچری بنائی یہ ان کی ایک روزہ میچوں میں مسلسل دوسری سنچری تھی۔

کپتان بابر اعظم نے ایک مرتبہ پھر اپنا لوہا منوایا اور 94 رنز بنائے۔ وہ میچ کی آخری گیند پر باونڈری سے چند قدم کے فاصلے پر کیچ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شاہین شاہ آفریدی نے پہلی وکٹ حاصل کی

اس سے قبل وہ سیریز کے پہلے میچ میں سنچری سکور کر چکے تھے۔

فخر اور امام کے آؤٹ ہونے کے بعد ایک طرف تو بابر اعظم ڈٹے رہے لیکن دوسری طرف سے ووکٹیں گرتی رہیں۔

رضوان، سرفراز، فہیم اشرف اور محمد نواز اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے اور جنوبی افریقہ کے سپنروں کے خلاف بے بس نظر آئے۔ جنوبی افریقی سپنر کشوا مہاراج نے تین پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

عثمان قادر نے اپنے پہلے میچ میں ووکٹ حاصل کی

حسن علی نے پاکستان کی اننگز کو 320 کے مجموعی سکور تک لے جانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے گیارہ گیندوں میں 32 رنز بنائے۔ آخری اووروں میں انہوں نے جس انداز میں چھکے لگائے اس سے انہوں نے اپنی بیٹنگ کرنے کی صلاحیت کو ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا۔

بابر اعظم نے بھی آخری اووروں میں زبردست شاٹس لگائے۔ بابر اور حسن علی کی 60 رنز سے زیادہ کی شراکت کی وجہ سے پاکستان یہ میچ جیتنے میں کامیاب رہا۔

پاکستان کی طرف سے باولنگ میں شاہین شاہ آفریدی منجھے ہوئے، تجربہ کار کھلاڑی نظر آئے اور انہوں نے تین ووکٹیں حاصل کئیں۔ انہوں نو اووروں اور تین گیندوں میں 58 رنز دیئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

محمد نواز نے بھی تین ووکٹیں لیں اور انہوں نے سات اوور پھینکے اور 34 رنز کھائے۔

اس میچ کے لیے جنوبی افریقہ کی ٹیم میں سات تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود اس ٹیم نے زبردست مقابلہ کیا۔

جنوبی افریقہ کی اننگز کی سب سے قابل ذکر بات ویرائین اور فیلکووایو کی چھٹی ووکٹ کی شاندار شراکت تھی۔ اس شراکت سے ٹیم میچ میں واپس آ گئی تھی لیکن حارث روف نے اس موقع پر ویرائین کو آؤٹ کر دیا۔ ان کا کیچ عثمان قادر نے پکڑا۔

جنوبی افریقہ کی پانچ ووکٹیں گر جانے کے بعد ویرائین اورفیلکووایو کے درمیان جو شراکت ہوئی اس سے میچ کا پانسہ پلٹنے لگا تھا۔

ویرائین کی وکٹ 251 کے مجموعی سکور پر گری اور اس کے بعدفیلکووایو 257 کے مجموعی سکور پر آؤٹ ہو گئے۔ یہاں پہنچ کر جنوبی افریقہ کے لیے میچ جیتنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی اور پھر پاکستانی بولر پوری طرح میچ پر حاوی ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کی جانب سے اس میچ میں چار تبدیلیاں کی گئی تھیں جنوبی افریقہ کے پانچ صف اول کے کھلاڑی انڈین پریمئیر لیگ میں شرکت کرنے کے لیے انڈیا روانہ ہو گئے ہیں جن کی جگہ انھوں نے نئے کھلاڑیوں کو موقعہ دیا۔

پاکستان کے لیے معروف لیگ سپنر عبدالقادر کے بیٹے عثمان قادر نے اپنا پہلا ایک روزہ میچ کھیلا جبکہ سابق کپتان اور وکٹ کیپر سرفراز احمد بھی ایک سال کے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں۔

پاکستانی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے: امام الحق، فخر زمان، بابر اعظم، محمد رضوان، سرفراز احمد، محمد نواز، فہیم اشرف، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی، عثمان قادر، حارث رؤف

جنوبی افریقہ کی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے: جے جے سمٹس، کیشوو مہاراج، ٹیمبا باووما، بیئورن ہینڈرکس، ہینریخ کلاسن، ڈیرن ڈوپاولن، اینڈیل فیلکووایو، کائیل ویرائین، ائیڈن مارکرام، جانے من مالن، لوتھو سپاملا

سوشل میڈیا پر ردِعمل:

،تصویر کا ذریعہ@shaziyaaM

جنوبی افریقہ کو ہوم گراؤنڈ میں شکست دینے اور سیریز کی جیت کو لے کر سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین اگرچہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تاہم انھیں بابر اعظم کے سینچری نہ کرنے کا دکھ بھی ہے۔

شاہد عباسی نامی صارف نے لکھا ’بابر اعظم، جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے میچ کو فائٹنگ ایونٹ بنانے کا شکریہ۔ 82 گیندوں پر 94 رنز سے پھر منوایا کہ صلاحیت ہو تو مشکل میں بھی موقع نکل ہی آتا ہے۔‘

افتخار الدین نے پاکستانی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ’یہ پہلی ایشئین ٹیم ہے جس نے جنوبی افریقہ کو ان کے اپنے ملک میں دوبار ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز میں شکت دی۔‘

بیشتر صارفین نے فخر زمان کی اننگز اور شاہین شاہ آفریدی کی بالنگ کی بھی تعریف کی۔

ایک اور صارف نے لکھا ’صرف پاکستانی ٹیم ہی بورنگ میچ کو دلچسپ بنا سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@UKalanchwi

تاہم اس موقع پر کچھ افراد پاکستان کے سابقہ کپتان سرفراز کی واپسی سے بھی خاصے خوش نظر آئے۔

زینب رضوی نے لکھا کہ آپ سرفراز سے کپتانی تو واپس لے سکتے ہیں مگر میچ کے دوران ان کے حوصہ افزائی کرنے اور ڈانٹنے والی عادت کو ختم نہیں کروا سکتے۔

،تصویر کا ذریعہ@smqureshi

کچھ صارفین یہ بھی یاد دلاتے نظر آئے کہ جنوبی افریقہ کی یہ ٹیم اپنے تین بہترین بالرز اور کیونٹن ڈی کاک اور ملر کے بغیر کھیل رہی تھی۔