سمیع چوہدری کا کالم: کیا شان ولیمز کی ٹیم پریشر کو پچھاڑ دے گی؟

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار
شان ولیمز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’پریشر ایک ایسی چیز ہے جسے نہ آپ چھو سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ صرف ایک احساس ہے۔ جب ہم اپنے کھلاڑیوں کو اس پر قابو پانا سکھا دیں گے تب ہم صحیح سمت میں جانے لگیں گے۔ یہ (سیریز) ایک امتحان ہو گی مگر ہم اپنے نوجوان کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں گے۔‘

یہ کہنا تھا زمبابوے کے قائم مقام کپتان شان ولیمز کا، جو پاکستان کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے آغاز سے قبل اپنی ٹیم کی ہمت بندھا رہے تھے۔

پاکستان اپنی حالیہ پرفارمنسز کے طفیل دنیائے کرکٹ کی نہایت چیلنجنگ ٹیموں میں شمار ہونے جا رہا ہے جبکہ زمبابوے کی کرکٹ آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں ڈیڑھ دہائی پہلے تھی۔ ایسے میں بظاہر دونوں ٹیموں کا کوئی جوڑ بنتا دکھائی نہیں دیتا۔

مگر مصباح الحق کی بات بھی بالکل بجا ہے کہ اس سیریز میں زمبابوے وہ ٹیم ہو گی جس کے پاس کھونے کو کچھ نہیں۔ اسی لیے وہ اپنی ٹیم کو جی جان سے کھیلنے کی تلقین کر رہے ہیں۔

سمیع چوہدری کے دیگر کام پڑھیے

رینکنگ میں چھوٹی ٹیموں کے خلاف کھیلنے میں مسئلہ یہی درپیش ہوتا ہے کہ اگر آپ جیت جائیں تو یہ کوئی قابلِ ذکر بات نہیں سمجھی جاتی لیکن اگر آپ شکست کھا جائیں تو یہ ’بہت بڑی‘ بات ہوتی ہے۔ ایسے جھٹکے بسا اوقات تو ڈریسنگ روم کا سارا اعتماد ہی متزلزل کر چھوڑتے ہیں۔

اس سیاق و سباق میں یہ سیریز زمبابوے سے کہیں زیادہ پاکستان کے لیے اہم ہے مگر پریشانی کی کوئی بات یہ نہیں کہ پچھلے چند ماہ میں پاکستانی ٹیم نے پے در پے جیتنے کی عادت اپنا لی ہے اور اب تو اس میں ہوم گراؤنڈز سے باہر کی فتوحات بھی شامل ہو چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بلکہ جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ سیریز تو نہایت خاص رہی کہ اسی سیریز میں پاکستان نے دو بار ریکارڈ اہداف کے حصول میں کامیابی دکھائی۔ بڑے اہداف کے تعاقب میں پاکستان کا ٹریک ریکارڈ کبھی ایسا متاثر کن نہیں رہا تھا اور حالیہ کامیابیوں نے یقیناً ڈریسنگ روم میں اعتماد کی ایک نئی لہر پھونک ڈالی ہو گی۔

لیکن جس کمزوری کو شان ولیمز کے بولر ٹارگٹ کرنا چاہیں گے، وہ پاکستان کا ناقابلِ اعتبار مڈل آرڈر ہے جو پچھلی چند سیریز میں متواتر زیرِ بحث رہا ہے۔ الجھن یہ بھی ہے کہ مڈل آرڈر ابھی تک اپنا ’آرڈر‘ ہی طے نہیں کر پایا۔

ایسے میں فخر زمان کو ون ڈاؤن پوزیشن پر مستقل کر دینا ایک اچھی اپروچ ہے جو پاکستان کو ممکنہ ابتدائی نقصان کے بعد بھی بڑے اہداف کے تعاقب میں فائدہ دے سکتی ہے۔لیکن حیدر علی کو مڈل آرڈر میں کھلانا ابھی تک نہ تو خود ان کے لیے سودمند ہو سکا اور نہ ہی مڈل آرڈر کے لیے۔

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ دن بدن قریب آ رہا ہے۔ ایسے میں چند ایک اہم فیصلے باقی ہیں جن کے طے کرنے کے لیے یہ سیریز بہت کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا شان ولیمز کی نوجوان ٹیم انھیں ایسا کرنے کا موقع دے گی یا پھر واقعی پریشر جیسی ’غیر مرئی‘ چیز کا بوجھ اتار پھینکے گی؟

پچ اور موسم کی صورتحال: آئندہ چند روز ہرارے میں موسم معتدل رہنے کا امکان ہے۔ ہرارے سپورٹس کلب کی وکٹ بڑے اہداف کے تعاقب میں سازگار ثابت ہوتی ہے۔ یہاں کھیلا گیا آخری ٹی ٹونٹی جولائی 2018 میں انٹرنیشنل ٹرائی سیریز کا فائنل تھا جس میں پاکستان نے 184 رنز کا ہدف حاصل کر کے آسٹریلیا پر فتح حاصل کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رواں سیریز میں زمبابوے کو برینڈن ٹیلر اور کریگ ایرون کی خدمات بھی دستیاب ہوں گی جو افغانستان کے خلاف سیریز میں دستیاب نہیں تھے۔ ان دونوں تجربے کار بلے بازوں کی واپسی سے زمبابوے کی بیٹنگ لائن کو خوب استحکام ملے گا۔

دونوں ٹیموں کی ممکنہ الیون یہ ہو سکتی ہے:

زمبابوے: تناشی کامنکاموے، برینڈن ٹیلر، شان ولیمز، کریگ ایرون، ویزلے مدھویرا، رگس چکابوا، رائن برل، ڈونلڈ تریپانو، ویلنگٹن مساکدزا، بلیسنگ مزربانی، رچرڈ نگروا۔

پاکستان: محمد رضوان، بابر اعظم، فخر زمان، محمد حفیظ، حیدر علی، آصف علی، فہیم اشرف، محمد نواز، حسن علی/ عثمان قادر، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف/ محمد حسنین۔

میچ پاکستانی وقت کے مطابق آج سہہ پہر دو بجے شروع ہو گا۔