ایک سال کے تعطل کے بعد ٹوکیو اولمپک کھیلوں کا بالآخر آغاز، پاکستانی کھلاڑیوں کے مقابلے آج سے شروع

پاکستان کی طرح سے ملک کا جھنڈا اٹھانے والی ماحور شہزاد اور محمد خلیل اختر۔ ماحور نے ماسک نہیں پہنا ہوا تھا جس کے بارے میں کئی جگہوں پر بات بھی کی گئی

،تصویر کا ذریعہMaja Hitij/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

پاکستان کی طرف سے ملک کا جھنڈا اٹھانے والی ماحور شہزاد اور محمد خلیل اختر

ٹوکیو اولمپکس کی افتتاحی تقریب ایک ایسے سٹیڈیم میں ہو رہی ہے جو کہ تقریباً خالی ہے۔ کورونا وائرس کے وبائی مرض کی وجہ سے اس میں معمول کی کوریوگرافی کی کمی نظر آ رہی ہے اور کووڈ 19 کے متاثرین کی یاد میں اس میں ایک لمحہ کے لیے خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

ٹیموں کی پریڈ میں معمول سے کم کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں اور جھنڈا اٹھانے والے اکثر کھلاڑیوں نے ماسک پہن رکھے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا جھنڈا اٹھانے والوں نے ماسک نہیں پہنا ہوا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

ماحور شہزاد اور خلیل اختر نے زیادہ تر ماسک اتارا ہوا تھا جس کے بارے میں کئی جگہوں پر بات بھی کی گئی

شہنشاہ ناروہیٹو کھیلوں کا باضابطہ افتتاح کر رہے ہیں جیسا کہ ان کے دادا نے 1964 میں آخری ٹوکیو اولمپکس میں کیا تھا۔ جاپانی شہنشاہ اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کے صدر تھامس بیک سٹیڈیم میں ماسک پہن کر داخل ہوئے اور ایک دوسرے سے دور سماجی فاصلے پر بیٹھنے سے پہلے انھوں نے ایک دوسرے کو جھک کر سلام کیا۔ صرف پندرہ عالمی رہنما اس افتتاحی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔

ٹوکیو کے سٹیڈیم کے باہر جہاں اولمپکس کی افتتاحی تقریب ہو رہی ہے، مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین کے ایک چھوٹے گروپ نے کھیلوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہJamie Squire/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

ٹونگا کی ٹیم سٹیڈیم میں داخل ہوتے ہوئے

ٹوکیو میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کی سڑکیں آج صبح پر سکون ہیں۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر اس کی وجہ یہ ہے کہ شہری شہر میں ہنگامی حالت سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ انھوں نے جو پانچ اولمپکس گیمز میں رپورٹنگ کی ہے آج کا مزاج ان سے قدرے مختلف ہے۔

پاکستانی کھلاڑیوں کے دس رکنی دستے کی افتتاحی تقریب میں قیادت بیڈمنٹن کی قومی چیمپئین ماحور شہزاد نے کی اور پہلی بار اولمپک کھیلوں میں کوئی خاتون پاکستان کا جھنڈا لے کر سٹیڈیم میں داخل ہوئیں۔

جہاں تک مقابلوں کی بات ہے، تو پاکستان کی جانب سے سب سے پہلی میدان میں اترنے والی کھلاڑی بھی ماحور ہی ہوں گی جن کا 24 جولائی کو میزبان ملک جاپان کی سابق ورلڈ نمبر ون اور موجودہ ورلڈ نمبر فائیو آکانے یاگاموچی سے مقابلہ ہوگا۔

ماحور شہزاد کا میچ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق صبح 5.40 پر کھیلا جائے گا۔

اسی روز، پاکستانی وقت کے مطابق صبح دس بجے پاکستان کے شوٹر گلفام جوزف مردوں کے سو میٹر کے ائیر پسٹل مقابلوں کے کوالی فیکیشن مقابلے میں شرکت کریں گے۔

اگلے روز یعنی جولائی 25 کو پاکستانی ویٹ لفٹر 67 کلوگرام کی کیٹگری کے مقابلوں میں حصہ لیں گے۔ یہ مقابلے پاکستانی وقت کے مطابق شام 3.50 پر شروع ہوں گے۔

طلحہ طالب نے سال 2018 میں کامن ویلتھ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیت کر نیا قومی ریکارڈ بنایا انہوں نے سال 2016 میں کامن ویلتھ یوتھ ویت لفٹنگ مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

امریکہ کی ٹیم اپنے بڑے دستے کے ساتھ

ایسا 1976 کے بعد پہلی بار ہو رہا ہے کہ کوئی ویٹ لفٹر اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہو۔ 1976 میں ارشد ملک نے آخری مرتبہ ویٹ لٹنگ کی کیٹیگری میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی ۔

ماحور شہزاد 27 جولائی کو دوبارہ کورٹ میں اتریں گی جہاں ان کا سامنا برطانیہ کی کرسٹی گلمور سے ہوگا اور یہ میچ پاکستان کے وقت کے مطابق صبح دس بجے کھیلا جائے گا۔

اس روز پاکستانی پیرام حسیب طارق سو میٹر فری سٹائل کے مقابلے میں شرکت کریں گے جو تین بجے دوپہر میں ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دو روز بعد جولائی 29 کی صبح سات بجے پاکستان کے جوڈو پلئیر شاہ حسین شاہ کا مصر کے رمضان درویش سے مردوں کے 100 کلوگرام کیٹگری میں مقابلہ ہوگا جو کہ پاکستانی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوگا۔

جوڈو ماسٹر شاہ حسین شاہ پاکستان کے شہرہ آفاق باکسر حسین شاہ کے صاحبزادے ہیں ، حسین شاہ نے سال 1988 کے سیول اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا جس کے بعد آج تک پاکستان اولمپکس میں کوئی انفرادی تمغہ نہیں جیت سکا۔

شاہ حسین شاہ نے 2014 میں گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ وہ دو مرتبہ ساؤتھ ایشین گیمز میں طلائی تمغے جیت چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہInstagram/ShahHussainShah

اگلے روز 30 جولائی کو دوپہر ساڑھے تین بجے پیراک بسمہ خان خواتین کی 50 میٹر کے فری سٹائل مقابلے میں شرکت کریں گی۔

پہلی اگست کو صبح ساڑھے چار بجے پاکستان کے مایہ ناز شوٹر خلیل اختر اور جی ایم بشیر مردوں کے 25 میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلے میں شرکت کریں گے۔

اگلے روز دو اگست کی صبح ساڑھے چھے بجے پاکستانی اتھیلیٹ نجمہ پروین عورتوں کے دو سو میٹر کی ریس میں شرکت کریں گی۔

نجمہ سال 2016 میں ریوڈی جنیرو اولمپکس کے 100 میٹرز کے مقابلے میں شرکت کر چکی ہیں اور فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی نجمہ پاک آرمی سے منسلک ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نجمہ پروین نے سال 2019 کی پشاور نیشنل گیمز میں 6 گولڈ میڈلز حاصل کءے ، انہوں نے 2019 میں نیپال میں ہونیوالی ساؤتھ ایشین گیمز میں ایک طلائی، دو چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

اگست کی چار تاریخ کو پاکستان کے ارشد ندیم صبح پانچ بجے جیولین تھرو کے مقابلے میں شرکت کریں گے۔

ارشد ندیم ٹوکیو اولمپکس میں براہ راست کوالیفائی کرنے والے واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

میاں چنوں سے تعلق رکھنے ارشد ندیم واپڈا سے منسلک ہیں۔ ارشد ندیم نے 2019 میں نیپال میں ہونے والی ایشین گیمز میں جیولن تھرو میں 86 اعشاریہ 29 میٹر دور نیزہ پھینک کر طلائی تمغہ حاصل کیا تھا جبکہ 2018 میں جکارتہ میں ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ بھی حاصل کر چکے ہیں۔