انگلینڈ کا دورہ پاکستان منسوخ: انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو اپنے ہی ملک میں تنقید کا سامنا

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ایتھرٹن

،تصویر کا ذریعہBBC/Getty Images

نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کے پاکستان میں کھیلنے سے انکار سے پیدا ہونے والی صورتحال میں پاکستان میں اس کا شدید ردعمل سامنے آنا فطری امر ہے لیکن یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ ان دونوں ملکوں، خصوصاً انگلینڈ میں اس فیصلے کو ان ہی کے لوگوں نے مضحکہ خیز اور ناقابل قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم کو پہلے ون ڈے انٹرنیشنل شروع ہونے کے محض چند گھنٹے پہلے دستبردار کروا کر وطن واپس بلانے کا جو حیران کن فیصلہ کیا تھا اس کا سبب اس نے اپنے کھلاڑیوں کو ملنے والی دھمکیوں (سکیورٹی تھریٹس) کو قرار دیا تھا لیکن انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے فیصلے کا تعلق کسی طور بھی سکیورٹی خدشات سے نہیں ہے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کے لیے اپنی مردوں اور خواتین ٹیموں کو پاکستان نہ بھیجنے کے بارے میں جو مؤقف اختیار کیا ہے اس کا تعلق بائیو سکیور ببل اور کھلاڑیوں کی ذہنی صحت سے متعلق ہے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے دورے کو ختم کرنے سے متعلق جو پریس ریلیز جاری کی اس میں واضح طور پر یہ بات نوٹ کی گئی کہ اس میں لفظ سکیورٹی موجود نہیں تھا۔

انگلینڈ کے مقتدر صحافی سابق کرکٹرز یہاں تک کہ موجودہ کھلاڑی اپنے ہی کرکٹ بورڈ کے فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں اور اسے ایک کمزور دلیل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

برطانوی ہائی کمیشن فیصلے سے لاتعلق

برطانوی ہائی کمشنر کرسچئن ٹرنر منگل کی شب پاکستان کے دو نجی ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں مہمان کے طور پر شریک ہوئے تھے اور ان کی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی منسوخی کا یہ فیصلہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے خود کیا ہے اور اسلام آباد میں موجود برطانوی ہائی کمیشن نے اس سلسلے میں اپنے کرکٹ بورڈ کو کوئی ہدایت نہیں کی تھی۔

انھوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان سے متعلق برطانیہ کی ٹریول ایڈوائزری میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطانوی ہائی کمیشن نے اس دورے کو سپورٹ کیا تھا۔

برطانوی ہائی کمشنر وہ پہلے شخص نہیں ہیں جنھیں اپنی کرکٹ ٹیم کے پاکستان نہ آنے کا افسوس ہے بلکہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے پر شدید ردعمل کی لہر پہلے ہی سے چل پڑی تھی جس میں انگلینڈ کی خواتین کرکٹرز کی آوازیں بھی شامل ہو گئیں۔

انگلینڈ کی سابق کپتان شارلٹ ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دو سال میں دو مرتبہ ایسے وقت میں انگلینڈ کا دورہ کیا جب یہاں حالات اچھے نہیں تھے۔

’اس کے باوجود پاکستانی ٹیم قرنطینہ میں رہی اور اس نے میچز کھیلے۔ اب یہ انگلینڈ کی ذمہ داری تھی کہ وہ پاکستان کا دورہ کرتا لیکن جو کچھ ہوا وہ مایوس کن ہے۔‘

انگلینڈ کی خاتون کپتان ہیدر نائٹ کہتی ہیں کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ کرتے وقت کھلاڑیوں سے کسی قسم کا صلاح مشورہ نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

صحافی جارج ڈوبیل کے مطابق ای سی بی چیف ایگزیکٹو ٹام ہیریسن نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر وسیم خان کو اس انتہائی اہم معاملے پر خود اطلاع دینے کی زحمت گوارا نہیں کی بلکہ یہ ذمہ داری چیف آپریٹنگ افسر ڈیوڈ ماہونی کو سپرد کی گئی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا 'دوہرا معیار'

انگلینڈ کے سینیئر صحافی جارج ڈوبیل کے خیال میں انگلینڈ اینڈ ویلز کا یہ فیصلہ اس کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

جارج ڈوبیل نے اپنے مضمون میں انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو یہ یاد دلایا ہے کہ ماضی میں انگلینڈ میں دہشت گردی کے متعدد واقعات کےباوجود وہاں انٹرنیشنل کرکٹ جاری رہی ہے جبکہ کووڈ کی انتہائی مشکل صورتحال میں ویسٹ انڈیز اور پاکستان کی ٹیموں نے گذشتہ سال انگلینڈ کا دورہ کیا۔

جارج ڈوبیل کا یہ نکتہ انگلینڈ کے اس فیصلے کے تناظر میں بہت اہمیت رکھتا ہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں صرف چار روز قیام کرنا تھا جس میں سے ایک دن کا قرنطینہ اور لگاتار دو دن میچ کھیلنے تھے۔

'انگلینڈ کرکٹ بورڈ چاہتا تو وہ اس دورے کے لیے 14 کھلاڑیوں کا آسانی سے انتخاب کر سکتا تھا جو اس دورے کے لیے تیار ہو سکتے تھے۔ انگلینڈ کے کئی کھلاڑی پی ایس ایل کھیلنے کےلیے پاکستان آتے رہے ہیں۔'

جارج ڈوبیل کہتے ہیں کہ انگلینڈ کی ٹیم کے دورۂ پاکستان کی منسوخی نے انگلینڈ کے کرکٹرز کو آزاد کر دیا ہے کہ وہ آئی پی ایل کے ناک آؤٹ مرحلے میں آسانی سے حصہ لے سکیں۔

جارج ڈوبیل کے مضمون میں یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹام ہیریسن نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر وسیم خان کو اس انتہائی اہم معاملے پر خود اطلاع دینے کی زحمت گوارا نہیں کی بلکہ یہ ذمہ داری چیف آپریٹنگ افسر ڈیوڈ ماہونی کو سپرد کی گئی۔ بتایا گیا کہ 'ٹام ہیریسن چھٹی پر ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

'قرض چکانے کا موقع ضائع کر دیا'

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن نے اپنے اخباری کالم میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ کے پاس صحیح فیصلہ کرنے کا موقع تھا۔

'اس کے پاس پاکستان کرکٹ کا قرض چکانے کا موقع تھا لیکن اس نے غلط بات کر دی۔'

مائیک ایتھرٹن نے اپنے کالم میں یہ بھی یاد دلایا ہے کہ 'اگر بات کووڈ کی ہے تو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جولائی میں کووڈ کی وجہ سے انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کھیلنے سے قاصر تھی تو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے دوسری تیسری ٹیم میدان میں اتار دی تھی۔ کیا ایسا اس مرتبہ نہیں ہو سکتا تھا؟'

مائیک ایتھرٹن نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت سلیکٹرز کہاں ہیں؟ کیا پاکستان کے دورے کے لیے 14 کھلاڑی ملنا مشکل تھے؟

ایتھرٹن کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے جب گذشتہ سال انگلینڈ کا دورہ کیا تھا تو اس وقت 'انگلینڈ کووڈ کی وجہ سے اموات کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا خطرناک ملک تھا' اس کے باوجود پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے دورے پر آئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 2021 میں کھیلی جانی والی سیریز کے دوران کا ایک منظر جب گراؤنڈ میں ایک تماشائی گھس آیا تھا

مائیک ایتھرٹن کہتے ہیں کہ 'انگلینڈ کے انکار پر پاکستان میں پیدا ہونے والا ردعمل سمجھ میں آتا ہے اور فطری ہے۔'

مائیک ایتھرٹن نے اپنے کالم میں یہ اہم نکتہ اٹھایا ہے کہ اگر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اپنے کھلاڑیوں کی تھکاوٹ اور ذہنی صحت کی بات کرتا ہے تو پھر ہمیں آئی پی ایل کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جس میں انگلینڈ کے کرکٹرز کھیل رہے ہیں۔

ایتھرٹن کے مطابق انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ کا پاکستان نہ جانے کا فیصلہ اس کے جنوبی افریقہ کےدورہ کو ختم کرنے کے فیصلے بلکہ انڈیا کی جانب سے مانچسٹر ٹیسٹ نہ کھیلنےکے فیصلے سے بھی کہیں زیادہ بدتر ہے۔ اگرچہ ان دونوں فیصلوں کا جواز تسلیم کرنا مشکل تھا لیکن کم از کم دونوں میں کووڈ کا عنصر تو موجود تھا۔

'پلیئرز پاور'

انگلینڈ کے کرکٹ مؤرخ پیٹر اوبون کا سکائی نیوز کو دیا گیا انٹرویو بھی انگلینڈ اینڈ ویلز کوآئینہ دکھانے کے لیے کافی ہے۔

پیٹر اوبون پاکستانی کرکٹ کی تاریخ تحریر کرنے کے سلسلے میں شہرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے انتہائی سخت لہجے میں کہا ہے کہ آخر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین این ٹرنر نے خود ٹی وی پر آ کر دورے کی منسوخی کی وجہ بیان کرنے کی زحمت کیوں نہیں کی؟

پیٹر اوبون انگلینڈ کے اس فیصلے کی وجہ آئی پی ایل اور پلیئرز پاورکو قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چار سال پہلے انگلینڈ کے کپتان اوئن مورگن نے بنگلہ دیش کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ اس وقت آئی پی ایل میں کھیل رہے ہیں۔