ہنسی کرونیے: وہ ٹیسٹ میچ جسے پانچ ہزار پاؤنڈ اور لیدر جیکٹ کے عوض فروخت کیا گیا

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ہنسی کرونیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

14 جنوری 2000 کو انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان سنچورین میں شروع ہونے والا پانچواں اور آخری ٹیسٹ اس اعتبار سے اپنی دلچسپی کھو چکا تھا کہ جنوبی افریقہ نے سیریز پہلے ہی دو صفر سے جیت لی تھی، لہذا اس میچ کا نتیجہ سیریز پر اثرانداز نہیں ہو سکتا تھا۔

سنچورین ٹیسٹ کے پہلے دن انگلینڈ کے کپتان ناصر حسین نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ کو بیٹنگ دی لیکن بارش کی وجہ سے صرف 45 اوورز کا کھیل ممکن ہو سکا۔ اس دوران جنوبی افریقہ نے چھ وکٹوں پر 155 رنز بنائے تھے۔

میچ کے اگلے تین دن بارش اور خراب موسم کی نذر ہو گئے اور ایک گیند بھی نہیں کرائی جا سکی تھی۔ اختتام کی جانب بڑھنے والے اس ٹیسٹ میں ڈرا کے علاوہ کسی دوسرے نتیجے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

میچ کی چوتھی دوپہر دونوں کرکٹ بورڈز کے حکام اور دونوں کپتانوں ہنسی کرونیے اور ناصر حسین کے درمیان اس بارے میں ضرور بات ہوئی کہ تماشائیوں کی مایوسی دور کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں سب کو یہ خیال آیا کہ ون ڈے انٹرنیشنل کے ذریعے شائقین کی دلچسپی کا سامان پیدا کیا جائے لیکن اس خیال کو اس لیے پذیرائی نہ مل سکی کیونکہ جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ اور ون ڈے کے سپانسرز مختلف تھے۔

انگلینڈ کے ایک صحافی نے اس دوران کپتان ناصر حسین سے پوچھ ہی لیا کہ کیا آپ کے ذہن میں ایسا کوئی آئیڈیا ہے کہ میچ کو آخری دن کسی نتیجے پر پہنچایا جا سکے؟ ناصر حسین نے قہقہے کے ساتھ اس کا جواب ناں میں دے دیا۔

پکچر ابھی شروع ہوئی تھی

بظاہر کچھ نہ ہونے کے اس معاملے میں بہت کچھ ہونا شروع ہو گیا تھا۔ لوگ بھول گئے تھے کہ میدان میں صرف ایک کپتان ناصر حسین نہیں تھے بلکہ دوسرے کپتان بھی موجود تھے اور اصل کھیل ہنسی کرونیے ہی کھیلنے والے تھے۔

انگریز صحافی سائمن وائلڈ کی کتاب ’کاٹ‘ میں سنچورین ٹیسٹ کا تفصیل سے ذکر موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہBOOK/CAUGHT

،تصویر کا کیپشن

صحافی سائمن وائلڈ کی کتاب ʹکاٹʹ

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سائمن وائلڈ کنگز کمیشن کی روداد اور کھلاڑیوں سے اپنی ذاتی گفتگو کی روشنی میں لکھتے ہیں ʹسنچورین ٹیسٹ کی چوتھی شام ہنسی کرونیے ایک فون کال وصول کرتے ہیں۔ یہ شخص اپنا تعارف مارلن ایرونسٹیم کے نام سے کراتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ ایک کمپنی این ایس ایل سے تعلق رکھتا ہے۔ʹ

ایرونسٹیم نے کرونیے کو یہ نہیں بتایا کہ یہ کمپنی کھیلوں میں شرطیں لگاتی ہے اور وہ خود ایک پیشہ ور جواری ہیں، جو سٹے بازی کے کاروبار سے 20 سال سے منسلک ہے۔

ایرونسٹیم کے بارے میں جو معلومات سامنے آئیں ان کے مطابق وہ ریس کے گھوڑوں کا مالک بھی تھا اور اس نے ایک سابق کرکٹر کو کھیل سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے عوض ادائیگی بھی کی تھی لیکن دونوں کے تعلقات زیادہ دیر نہ چل سکے۔

اس بارے میں ایرونسٹیم کا کہنا تھا کہ وہ کرکٹر صرف اپنی مرضی سے کام کرتا تھا۔ ’میں چاہتا تھا کہ وہ زمبابوے جاکر ٹیسٹ میچ کی پچ کے بارے میں معلومات فراہم کرے لیکن اس نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ وہ مصروف ہے۔‘

ہنسی کرونیے نے کنگز کمیشن کے سامنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایرونسٹیم نے اپنا تعارف کرکٹ شائق کے طور پر کروایا تھا اور اس نے کہا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ سنچورین ٹیسٹ میں کھیل ممکن ہو۔

اس نے کرونیے سے یہ بھی کہا کہ تمہارا امیج ایک کمزور دفاعی اور منفی انداز کے کپتان کے طور پر مشہور ہے۔

گیند آپ کے کورٹ میں ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

کرونیے کا کہنا تھا ʹمارلن ایرونسٹیم نے مجھ سے کہا کہ میں جلد ڈیکلیئریشن کے سلسلے میں انگلینڈ کے کپتان ناصر حسین سے بھی بات کروں۔ یہ اس کے اور کرکٹ دونوں کے لیے اچھا ہو گا لیکن میں اس معاملے میں ناصرحسین کو بیچ میں لانا نہیں چاہتا تھا۔ʹ

کرونیے کا کہنا تھا ʹایرونسٹیم کا آئیڈیا یہ تھا کہ دونوں ٹیمیں اپنی ایک ایک اننگز سے دستبرداری اختیار کر لیں تاکہ چوتھی اننگز کھیلنے والی ٹیم کو ہدف مل سکے۔ʹ

ایرونسٹیم نے کرونیے سے کہا کہ اگر وہ اس ٹیسٹ میں نتیجہ ( ڈرا شامل نہیں) برآمد کر سکیں تو وہ چیریٹی کے طور پر انھیں پانچ ہزار پاؤنڈ کے علاوہ ایک تحفہ بھی دے گا۔

کرونیے کو سب سے زیادہ حیرت اس بات پر تھی کہ ایرونسٹیم نے ان کے موبائل فون نمبر کہاں سے حاصل کیا؟ کیونکہ انھوں نے اس شخص کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سُن رکھا تھا۔

اسی شام مارلن ایرونسٹیم جوہانسبرگ میں کرونیے کے ہوٹل کے کمرے میں موجود تھا۔ اس نے کرونیے سے کہا کہ وہ ناصرحسین کو کال کرے لیکن کرونیے نے انکار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

کرونیے کا کہنا تھا کہ ایرونسٹیم نے اس نتیجے کے لیے انھیں کسی دوسرے کھلاڑی پر اثرانداز ہونے کے لیے نہیں کہا تھا لیکن جب ایرونسٹیم کرونیے کے کمرے سے جانے لگا تو کرونیے نے اس سے یہ ضرور پوچھا تھا کہ وہ کرکٹ سے کتنے پیسے بنا سکتے ہیں؟ ایرونسٹیم کا جواب تھا ’گیندآپ کے کورٹ میں ہے۔‘

ایرونسٹیم کا کہنا تھا کہ اسے اس بات پر سخت حیرت ہوئی تھی کہ پہلی ہی ملاقات میں کرونیے نے میچ بیچنے کی پیشکش کر ڈالی تھی۔ نہ صرف یہ بلکہ میچ فکس کرنے کے لیے اپنے چند ساتھی کھلاڑیوں کے نام بھی لے ڈالے تھے جو بقول کرونیے کے اس کام کے لیے تیار تھے۔

کیلس سب سے بڑے مخالف

سنچورین ٹیسٹ کے پانچویں دن صبح ناشتے پر ہنسی کرونیے نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے ایرونسٹیم کی پیشکش پر بات کی جو میچ کو نتیجہ خیز بنانے کے بارے میں تھی۔ اس پر چند کھلاڑیوں نے مخالفت کی جن میں ژاک کیلس پیش پیش تھے البتہ چند اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے پائے گئے۔

کرونیے نے ساتھی کھلاڑیوں سے گفتگو کے فوراً بعد ایرونسٹیم کو ٹیکسٹ میسج بھیجا ʹصبر وتحمل سے کام لیں۔ اس پر کام ہو رہا ہے۔ʹ

سنچورین ٹیسٹ کے پانچویں دن موسم بہتر ہو چکا تھا اور پورے دن کا کھیل ممکن دکھائی دے رہا تھا۔ اس دوران ہنسی کرونیے کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔

جب ٹیمیں میدان میں وارم اپ ہو رہی تھیں تو انھوں نے انگلینڈ کے وکٹ کیپر الیک سٹیورٹ سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ اگر دونوں ٹیمیں ایک ایک اننگز سے دستبردار ہو جائیں تو کیا انگلینڈ کی ٹیم 73 اوورز میں 270 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے؟

سٹیورٹ نے جواب دیا یہ بہت زیادہ ہو گا ہم 250 کے لگ بھگ تک تو جا سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ کہہ کر گفتگو ختم کر دی کہ اس بارے میں کپتان ناصر حسین ہی بتا سکتے ہیں۔

صرف پانچ منٹ بعد ہنسی کرونیے نے ناصر حسین سے رابطہ کیا اور انھیں 73 اوورز میں 255 رنز کے ہدف کی پیشکش کی۔ ناصر حسین نے اپنے کوچ ڈنکن فلیچر سے مشورے کے بعد یہ پیشکش مسترد کر دی۔

دراصل ناصر حسین کو پچ کی صورتحال کے بارے میں بالکل علم نہیں تھا کہ تین دن کور میں رہنے کے بعد وہ کیا برتاؤ کرے گی۔

کرونیے نے یہ دیکھ کر کہ انگلینڈ کی ٹیم اس تجویز کو ماننے میں تذبذب کا شکار ہے ایرونسٹیم کو ٹیکسٹ میسج کیا کہ کوئی ڈکلیئریشن نہیں ہو گا۔

ناصر حسین نے ارادہ بدل دیا

18 جنوری کو سنچورین ٹیسٹ کے پانچویں دن کھیل شروع ہوئے ابھی 45 منٹ ہی ہوئے تھے کہ ناصر حسین نے جنوبی افریقہ کے بارہویں کھلاڑی کے ذریعے کرونیے کو پیغام بھیجا کہ وہ ایک اور پیشکش سننے کے لیے تیار ہیں۔

اس کے بعد ناصر حسین واش روم جانے کا بہانہ کر کے میدان چھوڑ کر باہر چلے گئے تاکہ ہدف کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ اس دوران انھوں نے کرونیے سے بات کی اور پھر یہ طے پا گیا کہ انگلینڈ کی ٹیم کو 76 اوورز میں 249 رنز بنانے ہوں گے۔

ناصر حسین نے اپنی کتاب ’پلیئنگ ود فائر‘ میں لکھا ہے کہ انھیں اس بات پر حیرانی ہوئی تھی جب انھوں نے کرونیے سے پوچھا کہ 250 کا ہدف کیسا رہے گا؟ جس پر کرونیے نے کسی بحث کے بغیر یہ کہہ دیا کہ ’ٹھیک ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBOOK/PLAYING WITH FIRE

،تصویر کا کیپشن

ناصر حسین کی کتاب پلیئنگ ود فائر

ناصر حسین کہتے ہیں کہ اس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ اس میں کرپشن کا عنصر موجود ہو گا۔ انھوں نے میچ کے بعد کرونیے سے ہاتھ ملاتے ہوئے اُن کی تعریف کی تھی کہ آپ نے جو کچھ کیا ہے شائقین اسے ضرور سراہیں گے۔

یہ تو بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ میچ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ایک بک میکر نے کرونیے کو پانچ ہزار پاؤنڈ اور لیدر جیکٹ دی تھی۔

ناصر حسین نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز رات کو تقریباً گیارہ بجے کرونیے کو انھوں نے ہوٹل سے باہر جاتے دیکھا تو یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ اس وقت وہ کہاں جا رہے ہیں؟

کرکٹ قوانین بھی آڑے نہ آ سکے

جیسے ہی یہ خبر باہر نکلی کہ دونوں کپتان اننگز فورفیٹ کر کے میچ کو نتیجہ خیز بنانے پر راضی ہو گئے ہیں تو اس دوران مختلف نوعیت کے تبصرے شروع ہو گئے لیکن اس میں سب سے بڑی قباحت یہ تھی کہ کرکٹ کے قوانین کی رو سے انگلینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز فورفیٹ (دستبردار) نہیں کر سکتی تھی۔

امپائرز ڈیرل ہیئر اور روڈی کرٹزن اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس مسئلے کو اس طرح حل کیا گیا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ٹم لیمب نے امپائرز کو یہ پیغام بھجوایا کہ انگلینڈ کی پہلی اننگز بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے صفر پر ڈکلیئر تصور کی جائے گی۔

اس دوران بھارتی بک میکرز نے میچ فکسنگ کا شور بھی مچایا لیکن اس وقت تک ہنسی کرونیے کی ساکھ اتنی اچھی تھی کہ سنچورین کے پریس باکس میں بیٹھے کسی بھی شخص نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

پانچ پاؤنڈ کی شرط

سائمن وائلڈ کی کتاب ʹکاٹʹ میں لکھا ہے کہ ہنسی کرونیے جو چاہتے تھے وہ ہو گیا لہذا انھوں نے اس ٹیسٹ میں اپنے کریئر کی ابتدا کرنے والے پیٹر اسٹرائڈوم سے کہا کہ وہ ان کی طرف سے جنوبی افریقہ کی جیت پر پانچ پاؤنڈ لگا دیں۔

اسٹرائیڈوم نے ان کا کہنا مانا اور اپنے دوست کو اپنے بھی پیسے لگانے کی تاکید کر دی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ بک میکرز نے سٹے بازی معطل کر دی تھی۔

کرونیے نے مارلن ایرونسٹیم کو بھی ٹیکسٹ میسج بھیجا جس میں بتایا کہ گیم ہو چکا ہے لیکن ایرونسٹیم نے بھی جب پیسہ لگانا چاہا تو اسے بھی ناکامی ہوئی۔

میچ میں کیا ہوا؟

سنچورین ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ نے اپنی پہلی اننگز 72 اوورز میں آٹھ وکٹوں پر 248 رنز بنا کر ڈکلیئر کر دی۔ لانس کلوسنر 61 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے تھے۔

اگلی دو اننگز فورفیٹ ہوئیں اور پھر انگلینڈ کے لیے 249 رنز کا ہدف 76 اوورز میں طے پایا تھا جو اس نے آخری اوور کی پہلی گیند پر ڈیرن گف کے لگائے گئے چوکے کے ذریعے حاصل کر لیا۔

انگلینڈ کی جانب سے کپتان ناصر حسین 69 اور الیک اسٹیورٹ 73رنز کے ساتھ نمایاں رہے تھے۔

میچ کے بعد ہونے والی تقریب میں جنوبی افریقی کرکٹرز مایوسی کے عالم میں بیٹھے تھے۔ ڈیرل کلینن نے اس واقعے کے بارے میں سائمن وائلڈ کو بتایا تھا کہ ہنسی کرونیے ایسے اداکاری کر رہے تھے جیسے انھیں کھیل سے بہت دلچسپی اور لوگوں کا بڑا خیال ہو۔

سنچورین ٹیسٹ کے ختم ہونے کے چند منٹ بعد ہی جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر علی باقر یہ کہتے ہوئے پھولے نہیں سما رہے تھے ’ہمیں اپنے ملک پر فخر ہے۔‘

جب ہنسی کرونیے پھوٹ پھوٹ کر روئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب سنچورین ٹیسٹ کی اصل کہانی سامنے آئی تب بھی ہنسی کرونیے اس بات کا دعویٰ کر رہے تھے کہ جنوبی افریقی ٹیم جیت کے لیے کھیل رہی تھی، یہ نتیجہ حقیقی تھا اور اس میں کسی قسم کی کوئی گڑبڑ نہیں کی گئی تھی۔

میچ ختم ہونے کے بعد رات کرونیے اپنے ہوٹل سے غائب تھے۔ صحافی سائمن وائلڈ کے مطابق کرونیے ایرونسٹیم سے ملنے گئے تھے جہاں انھوں نے رقم اور لیدر جیکٹ وصول کی تھی۔

میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے کنگز کمیشن کے سامنے مارلن ایرونسٹیم نے تمام واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا تھا۔ جب وہ بیان ریکارڈ کرا رہے تھے تو ہنسی کرونیے پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے۔

ایرونسٹیم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے 53 ہزار رینڈ ( جنوبی افریقی کرنسی) اور لیدر جیکٹ ہنسی کرونیے کو سنچورین ٹیسٹ کے نتیجے کے عوض نہیں دی تھی بلکہ یہ موسم اور پچ کی ان معلومات کے عوض تھیں جو اس ٹیسٹ کے بعد ہونے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز کے دوران انھیں بتانے پر راضی ہوئے تھے۔