پاکستان جاپان سے شکست اور انڈیا کی انڈونیشیا پر فتح کے نتیجے میں ایشیا کپ سے باہر

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
یوشیکاوا
،تصویر کا کیپشن

جاپانی گول کیپر یوشیکاوا کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا

انڈونیشیا میں جاری گیارہویں ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان کو جاپان کے ہاتھوں دو کے مقابلے میں تین گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انڈیا کی انڈونیشیا پر 16 گول سے فتح کے بعد پاکستان اس ٹورنامنٹ کے سپر فور مرحلے میں بھی جگہ نہیں بنا سکا ہے۔

جکارتا میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کو جاپان کے خلاف اپنے تیسرے میچ میں دو کے مقابلے میں تین گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس میچ میں امپائرز نے پاکستان کے دو گول مسترد کیے۔

اس شکست کے بعد پاکستان کے پوائنٹس ٹیبل پر چار پوائنٹس تھے اور پاکستان کو سپرفور مرحلے میں جگہ یقینی بنانے کے لیے انڈیا اور انڈونیشیا کے میچ کے نتیجے کا انتظار تھا۔

اس میچ میں انڈیا کو 15 گول سے فتح درکار تھی اور انڈین ٹیم نے 16 صفر سے یہ میچ جیت کر جہاں سپرفور مرحلے میں اپنی جگہ پکی کی وہیں پاکستان گروپ میں تیسرے نمبر پر آنے کی وجہ سے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔

جاپان کی ٹیم پہلے ہی سپر فور مرحلے میں جگہ بنا چکی ہے اور اس وقت وہ گروپ میں سرفہرست ہے۔

پاکستان کے خلاف ایشین گیمز کی گولڈ میڈلسٹ جاپانی ٹیم نے پہلے کوارٹر میں ریوما اور اکومی کے ذریعے دو گول کی سبقت حاصل کر لی تھی۔

دوسرے کوارٹر میں اعجاز احمد نے پاکستان کی جانب سے پہلا گول کیا۔ تاکوما کے گول نے جاپان کی برتری تین، ایک کر دی تاہم آخری منٹ میں مبشر علی نے پنلٹی کارنر پر پاکستان کا دوسرا گول کر دیا۔

تیسرے کوارٹر میں پاکستان کے جنید منظور گول کر کے مقابلہ برابر کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن یہ گول اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا کہ اس وقت فیلڈ میں پاکستان کے 11 کی بجائے 12 کھلاڑی موجود تھے اور اسی وجہ سے کپتان عمر بھٹہ کو زرد کارڈ دکھا کر باہر بھیج دیا گیا۔

چوتھے کوارٹر میں کپتان عمر بھٹہ کا گول بھی امپائر نے رانا عبدالوحید کے فاؤل کی وجہ سے مسترد کر دیا۔

اس ٹورنامنٹ میں پول بی سے ملائیشیا اور کوریا نے سپر فور مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔

سپر فور لیگ میں پہلی تین پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں آئندہ سال بھارت میں ہونے والے عالمی کپ میں جگہ بنائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@asia_hockey

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی کارکردگی بہتر رہی ہے اور جہاں پہلے میچ میں انڈیا سے اس کا مقابلہ برابر رہا تھا وہیں دوسرے میچ میں پاکستانی ٹیم نے میزبان انڈونیشیا کو صفر کے مقابلے میں 13 گول سے شکست دی تھی۔

پاکستان کی طرف سے رضوان علی نے ہیٹ ٹرک کرتے ہوئے تین گول کیے۔

منگل کو پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان کھیلا گیا میچ یکطرفہ رہا تھا جس میں پاکستانی ٹیم کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ کمزور میزبان ٹیم پاکستانی کھلاڑیوں کو گول کروانے کی پریکٹس کرا رہی ہے۔

ہاکی کی عالمی رینکنگ میں پاکستان کا نمبر18 ہے جبکہ انڈونیشیا کی پوزیشن 46 ہے۔

پاکستان نے پہلے کوارٹر ہی میں چار گول کر ڈالے تھے۔ دوسرے کوارٹر میں پاکستان کی جانب سے گول کا سلسلہ جاری رہا اور یہ سکور نو صفر تک جا پہنچا۔

اگلے دو کوارٹرز میں پاکستانی ٹیم مزید چار گول کرنے میں کامیاب رہی۔

یاد رہے کہ ایشیا کپ کے مقابلوں میں سب سے زیادہ گول کا ریکارڈ بھی پاکستان کا ہے اس نے 1993 میں چوتھے ایشیا کپ میں تھائی لینڈ کو صفر کے مقابلے میں 20 گول سے ہرایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سے قبل پیر کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلا گیا میچ ایک ایک گول سے برابر رہا ہے۔

دو روایتی حریفوں کے درمیان کھیلے گئے اس میچ کے پہلے کوارٹر میں انڈیا نے تیسرے پنیلٹی کارنر پر سلوا کارتھی کے گول کے ذریعے سبقت حاصل کرلی تھی۔ یہ کارتھی کا پہلا انٹرنیشنل میچ بھی تھا۔

دوسرے کوارٹر میں پاکستانی ٹیم کو میچ برابر کرنے کے دو مواقع ملے لیکن وہ ان سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ جبکہ تیسرے کوارٹر میں بھی پاکستان کے افراز اور اعجاز نے گول کرنے کے مواقع ضائع کر دیے۔

دوسری جانب انڈیا کی ٹیم نے دباؤ قائم کرتے ہوئے چار پنیلٹی کارنرز حاصل کیے لیکن وہ بھی ضائع گئے۔

پاکستانی ٹیم نے میچ ختم ہونے سے کچھ دیر قبل گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا۔ یہ گول پنیلٹی کارنر کے ری باؤنڈ پر رانا عبدالوحید نے کیا۔

اس میچ میں انڈین ٹیم نے آٹھ پنیلٹی کارنرز حاصل کیے جن پر وہ ایک گول کر سکی جبکہ پاکستانی ٹیم کو چار پنیلٹی کارنرز ملے جن میں سے ایک کے ری باؤنڈ پر وہ گول کرنے میں کامیاب ہو سکی۔

ایشیا کپ میں حصہ لینے والی پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں میں زیادہ تر نئے کھلاڑی شامل ہیں۔

انڈیا نے اس ٹورنامنٹ کے لیے جس ٹیم کا انتخاب کیا ہے اس میں دس کھلاڑی ایسے ہیں جو اس سے قبل انٹرنیشنل ہاکی نہیں کھیلے۔ ٹیم کی قیادت تجربہ کار کھلاڑی بریندرا لاکڑا کر رہے ہیں۔ انڈین ٹیم کے ہیڈ کوچ سابق اولمپیئن سردار سنگھ ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان عمر بھٹہ ہیں جبکہ ہیڈکوچ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے ایکمین ہیں۔ پاکستان نے اپنے حالیہ دورۂ یورپ میں آٹھ نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا تھا تاہم ہالینڈ، بیلجیئم اور سپین میں کھیلے گئے ان میچوں کو انٹرنیشنل درجہ حاصل نہیں تھا۔

انڈیا اس وقت ہاکی کی عالمی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کی عالمی رینکنگ 18ہے۔

یاد رہے کہ دونوں ٹیمیں ایشیا کپ سے پہلے آخری مرتبہ گذشتہ سال بنگلہ دیش میں منعقدہ ایشیئن ہاکی چیمپئنز ٹرافی میں مدمقابل ہوئی تھیں۔ اس کے لیگ میچ میں انڈیا نے ایک کے مقابلے میں تین گول سے اور پھر کانسی کے تمغے کے میچ میں تین کے مقابلے میں چار گول سے کامیابی حاصل کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایشیا کپ کون کون جیتا ہے؟

انڈیا ایشیا کپ کی دفاعی چیمپیئن ٹیم ہے۔ اس نے سنہ 2017 میں ڈھاکہ میں ہونے والے ایشیا کپ کے فائنل میں ملائیشیا کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دی تھی۔ پاکستان نے تیسری پوزیشن کے میچ میں جنوبی کوریا کو تین کے مقابلے میں چھ گول سے ہرایا تھا۔

پاکستان اور انڈیا تین تین مرتبہ ایشیا کپ جیت چکے ہیں۔ پاکستان نے ایشیا کپ کے ابتدائی تین ٹورنامنٹس یعنی سنہ 1982، 1985 اور 1989 میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد اگرچہ اس نے مزید تین بار فائنل کے لیے کوالیفائی کیا لیکن تینوں مرتبہ اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

سب سے زیادہ چار مرتبہ ایشیا کپ جیتنے کا اعزاز جنوبی کوریا کو حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ورلڈ کپ کوالیفائر

ایشیا کپ کا فارمیٹ کچھ اس طرح کا ہے کہ شریک آٹھ ٹیموں کو دو گروپس میں رکھا گیا ہے۔ پول اے میں پاکستان، انڈیا، جاپان اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ پول بی جنوبی کوریا، ملائیشیا، عمان اور بنگلہ دیش پر مشتمل ہے۔

دونوں گروپس میں سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والی چار ٹیمیں دوسرے مرحلے میں لیگ مقابلوں میں حصہ لیں گی۔ ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ کو ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کا درجہ بھی حاصل ہے۔

اس ایشیا کپ میں پہلی تین پوزیشنز حاصل کرنے والی ٹیمیں عالمی کپ میں جگہ بنائیں گی۔ انڈیا کی ٹیم ایشیا کپ میں پہلی تین پوزیشن حاصل نہ کرنے کے باوجود میزبان کی حیثیت سے ورلڈکپ کھیلے گی۔

15واں ہاکی ورلڈ کپ آئندہ سال 13 سے 29 جنوری تک اڑیسہ کے دو شہروں بھونیشور اور راؤرکیلہ میں کھیلا جائے گا جس میں 16 ٹیمیں حصہ لیں گی۔