شہروز کاشف: نانگا پربت سر کرنے والے کوہ پیما اور ان کے گائیڈ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

  • منزہ انوار
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ریسکیو

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

ریسکیو کے بعد لی گئی تصویر

دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کرنے والے 20 سالہ پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف اور ان کے گائیڈ فضل احمد کو کیمپ ون سے ریسکیو کر لیا گیا ہے اور انھیں جلد ہی گلگت بلتستان کے شہر گلگت پہنچا دیا جائے گا۔

شہروز اور ان کے گائیڈ کو پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز نے 4948 میٹر کی بلندی پر واقع نانگا پربت کے کیمپ ون سے ریسکیو کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران دونوں کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنے کی کوشش کی گئی تاہم خرابی موسم کی وجہ سے یہ کوششیں ناکام رہی تھیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہروز کاشف کے خاندانی ذرائع نے بتایا تھا کہ دونوں کوہ پیما خراب موسم کی وجہ سے ریسکیو آپریشن کی ناکامی کے بعد اپنی مدد آپ کے تحت نیچے اُترے اور ابتدا میں بیس کیمپ ٹو اور پھر بیس کیمپ ون تک پہنچے۔

دونوں کوہ پیماوں کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔

اس سے قبل پانچ جولائی کی شب دونوں کوہ پیماوں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا اور پھر معلوم ہوا تھا کہ خراب موسم کی وجہ سے انھوں نے یہ رات نیچے اُترنے کی بجائے کھلے آسمان تلے گزارنے کو ترجیح دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

دونوں کوہ پیما ریسکیو ہیلی میں موجود ہیں

بدھ کے دن ان کو دوربین کی مدد سے کیمپ تھری کی طرف رواں دواں دیکھا گیا تھا جبکہ ریسکیو کرنے کے لیے مشن خراب موسم کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

گذشتہ روز ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شہروز اور ان کے گائیڈ کیمپ تھری پر موجود تھے جہاں ان کے پاس مناسب مقدار میں ضروری سامان موجود ہے۔

ڈپٹی کمشنر دیامر نے بتایا تھا کہ ہائی الٹیٹیوٹ پولیس، ریسکیو ٹیم ان کوہ پیماؤں اور ٹور کمپنی کیساتھ مکمل رابطے میں تھے۔

دوسری جانب شہروز کے والد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں ’امید ہے کہ وہ (شہروز اور فضل) کیمپ تھری میں آرام کر رہے ہوں گے اور صبح اپنی واپسی کا سفر شروع کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’شہروز کو شاید ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن کا علم نہیں ہو گا ورنہ وہ نیچے آ جاتے اور کیمپ ٹو سے انھیں ریسکیو کر لیا جاتا۔‘

واپسی کے سفر پر مشکلات

شہروز کاشف نے منگل کی صبح ہی نانگا پربت کی چوٹی سر کی تھی لیکن اس کے بعد ان کے والد کے مطابق واپسی کے سفر کے دوران وہ کیمپ فور سے ذرا آگے راستہ بھول جانے کے سبب پھنس گئے تھے۔

ان تمام واقعات نے خدشات کو جنم دیا تھا لیکن بدھ کی صبح کمشنر دیامیر دلدار احمد ملک نے آگاہ کیا تھا کہ شہروز کاشف اور اُن کے گائیڈ فضل احمد کو دوربین کے ذریعے کیمپ تھری کی جانب سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

یاد رہے کہ نانگا برپت کے کیمپ فور سے کیمپ تھری تک کا سفر تین سے چار گھنٹے تک کا ہے۔

شہروز کاشف کے والد نے مطالبہ کیا تھا کہ ’شہروز اور ان کے ساتھی کو کیمپ تھری سے بذریعہ ہیلی نیچے لایا جائے کیونکہ انھوں نے ایک پوری رات کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔‘ شہروز کے والد کو خدشہ تھا کہ کہیں انھیں فراسٹ بائیٹ نہ ہو چکی ہو۔

،تصویر کا ذریعہKashif Salman

،تصویر کا کیپشن

شہروز اور ان کے گائیڈ فضل علی

شہروز کاشف سے آخری بار رابطہ کب ہوا تھا؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

کاشف سلمان نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ شہروز نانگا پربت کے سمٹ سے واپسی کے راستے میں 7350 میٹر کی بلندی پر تھا جب اس سے گذشتہ شام 7:30 پر آخری بار رابطہ ہوا اور اس کے بعد سے رابطہ منقطع تھا۔

شہروز کے والد کاشف سلمان نے اپنے بیٹے کو نانگا پربت سے ریسکیو کرنے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف سے مدد کی اپیل بھی کی تھی جب کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے شہروز کاشف اور ان کے گائیڈ کی بحفاظت واپسی کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

کاشف سلمان نے آرمی چیف سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ابھی کچھ دن قبل شہروز نے کنچن جنگا (8586 میٹر، دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی) سر کرنے کے بعد یہ کامیابی فوج کے شہدا کے نام کی تھی۔ اس کی عمر صرف 20 سال ہے، وہ اتنے بڑے بڑے کارنامے سر چکا ہے، پاکستان کا نام روشن کر چکا ہے، آپ لوگ پلیز اسے ریسکیو کرنے کا آپریشن کریں۔‘

نانگا پربت کو سر کرنے کے بعد شہروز کاشف تقریبا سات ہزار میٹر کی بلندی پر تھے اور بیس کیمپ پر استقبال کی تیاریاں ہو رہی تھیں مگر ان سے رابطہ قائم نہیں ہو سکا تھا۔ 20 سالہ شہروز کاشف نے منگل کی صبح تقریباً 8:45 پر پاکستان میں واقع دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت(8126 میٹر) سر کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہKashif Salman

،تصویر کا کیپشن

لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز کو زیادہ تر لوگ 'براڈ بوائے' کے نام سے جاتے ہیں

یہ بھی پڑھیے

لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز جنھیں زیادہ تر لوگ ’براڈ بوائے‘ کے نام سے جاتے ہیں، 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے آٹھ کو سر کر چکے ہیں اور ان کے والد کے مطابق اب شہروز کا مشن باقی چوٹیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر اندر سر کرنا ہے۔

رواں برس مئی میں شہروز دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیوں کو 23 دنوں کے اندر سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہKashif Salman

وہ واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں جنھوں نے صرف 23 دنوں میں 8000 میٹر کی تین چوٹیوں پانچ مئی 2022 کو دنیا کی تیسری بلند ترین کنچن جنگا (8586 میٹر)، 16 مئی 2022 کو چوتھی بلند ترین لوتسے (8516) اور پانچویں بلند ترین مکالو (8463) کو سر کیا ہے۔

اس سے قبل شہروز نے دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر)، ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔

دنیا کی پہلی اور دوسری بلند ترین چوٹیوں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سر کرنے کے بعد شہروز نے تیسری، چوتھی اور پانچویں بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے اس مشن کو ’پروجیکٹ 345‘ کا نام دیا تھا۔

نانگا پربت یا قاتل پہاڑ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نانگا پربت یا ننگی پہاڑی کو علاقائی زبان میں 'دیامیر' بھی پکارا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے 'پہاڑوں کا بادشاہ'۔ یہ چوٹی پاکستان میں گلگت بلتستان کےعلاقے میں سطح سمندر سے 8126 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔

نانگا پربت کو'کلر ماؤنٹین' یا 'قاتل پہاڑ' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ اس پر شرح اموات دنیا میں موجود 8000 میٹر سے بلند چوٹیوں میں سب سےزیادہ یعنی 23 فیصد ہے۔

عمران حیدر تھہیم کوہ پیمائی کے شوقین اور گذشتہ 11 برس سے کوہ پیمائی کے لیے پاکستان آنے والی مہمات پر تحقیق کرتے آ رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ دنیامیں 8000 میٹر سے بلند جتنی بھی 14 چوٹیاں ہیں ان پر سب سے پہلے سمٹ کی کوششیں 1895 میں نانگا پربت سے ہی شروع ہوئی تھیں۔

سنہ 1895 سے 1953 تک، پہلی سمٹ سے پہلے جتنے بھی کوہ پیما نانگا پربت کو سر کرنے جاتے (8-10 ایکسپیڈیشن) سب کے سب مر جاتے۔

سنہ 1953 تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ یہ 'کلر ماؤنٹین' ہے جو اسے سر کرنے جاتا ہے، مر جاتا ہے۔

پہلے سمٹ سے قبل تک کم از کم 31 کوہ پیما اس کا سمٹ کرنے کی کوششوں میں ہلاک ہو گئے تھے، پھر 1953 میں ڈرامائی طور پر پہلا سمٹ ہوا اور وہ بھی آکسیجن کے بغیر۔

آسٹریا کے مشہور کوہ پیما ہرمن بوہل نے تن تنہا اور آکسیجن کے بغیر 1953 میں اس قاتل پہاڑ کو سر کر لیا تھا۔

عمران حیدر کے مطابق یہ کسی بھی آٹھ ہزاری پہاڑ کو اکیلے سر کرنے کی سب سے پہلی اور شاید آج تک کی واحد مثال ہے۔ گو کہ سوئس الپائنسٹ Ueli Steck نے بھی انّاپورنا ساؤتھ کو 2013 میں اکیلے سر کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن یہ دعویٰ کچھ لوگوں کے نزدیک متنازعہ ہے۔

اب تک نانگا پربت پر سمٹ کرنے والے کوہ پیماؤں کی کل تعداد 376 ہے جبکہ 91 اسے سر کرنے کی کوششوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ یعنی ہر چار میں سے ایک کوہ پیما اسے سر کرنے کی کوشش میں جان کی بازی ہارا ہے۔

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ رواں سال 2022 میں کے ٹو, براڈ پِیک اور نانگا پربت پر کوہ پیمائی کے لیے ریکارڈ تعداد میں کوہ پیما پاکستان آئے ہیں۔