امپائرنگ کی طویل اننگز کا اختتام

سٹیو بک نور
Image caption سٹیو بکنر ایک سو اٹھائیس ٹیسٹ میچز میں امپائرنگ کر چکے ہیں جو کہ ایک ریکارڈہے

ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے امپائر سٹیو بکنر کو کیپ ٹاؤن میں ان کے کیرئیر کے ایک سو اٹھائیسویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں امپائرنگ کی خدمات انجام دینے کے موقع پر سراہا گیا۔

وہ انتیس مارچ کو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے مابین کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے بعد دنیائے کرکٹ کو خیر باد کہہ دیں گے۔

بکنر بین الاقوامی کرکٹ میچوں میں سب سے زیادہ تجربہ کار امپائر ہیں جن کے ریکارڈ پر ایک سو اٹھائیس ٹیسٹ میچوں اور ایک سو اناسی ایک روزہ میچوں میں امپائرنگ شامل ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے باسٹھ سالہ بکنر کے بے مثال کیریر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ’ میں ہمیشہ ان کی فیصلہ سازی، اپنے کام میں ان کی مہارت اور ان کے دوستانہ رویے کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہوں۔‘

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریٹائرمنٹ کے باوجود ان کے علم سے استفادہ کیا جاتا رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ’جن میچز میں وہ امپائر تھے ان میں کھیلنا میرے لیے ایک اعزاز ہے۔‘

’میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس عظیم کھیل کے ساتھ منسلک رہیں گےاور اپنے جونیئرز میں اپنا وسیع تجربہ اور علم منتقل کرتے رہیں گے ۔‘

بکنر کی ریٹائرمنٹ کے بعد برطانوی امپائر یان گولڈ اور نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ٹونی ہل کو انٹر نیشنل کرکٹ کونسلز ایلیٹ پینل آف امپائر میں شامل کیا گیا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان اور کوچ کلائیو لائڈ نے بکنر کو ایک ایماندار اور کرکٹ کے لیے خود کو مکمل طور پر وقف کرنے والا انسان قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نئے امپائرز کی تربیت اور کوچنگ کے لیے ان کے علم اور تجربے سے بھر پور فائدہ اٹھائے گی۔‘

اسی بارے میں