ایمپائرنگ ملنے پر علیم خوش

علیم ڈار
Image caption کرکٹ شائقین کو ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی صورت میں بہترین تفریح میسر آئی ہے: علیم ڈار

علیم ڈار کے لئے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امپائرنگ کا اعزاز حاصل ہونا کسی بچے کو کھلونا ملنے پر خوشی کے غیرمعمولی احساس کی مانند ہے۔

یہ خوشی اس لئے سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ’سزا‘ کے طور پر پہلے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے امپائرز پینل میں شامل نہیں کئے گئے تھے۔ یہ سزا انہیں اور اسٹیو بکنر کو2007ء کے ورلڈ کپ فائنل میں کم روشنی میں میچ جاری رکھنے کے قوانین سے انحراف کرنے پر ملی تھی۔

وہ جنوبی افریقہ نہ جاسکے جس کا انہیں بہت افسوس رہا لیکن اب انگلینڈ میں اپنی موجودگی کو وہ دیرینہ خواہش کی تکمیل قراردیتے ہیں۔

علیم ڈار بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہتے ہیں ’میں نے ورلڈ کپ، چیمپئنز ٹرافی، ایشیز اور کئی بڑے میچز میں امپائرنگ کی ہے لیکن ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اس فہرست میں شامل نہیں تھا اب یہ خواہش بھی پوری ہورہی ہے جس پر میں بہت خوش ہوں‘۔

علیم ڈار کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں کہ ورلڈ کپ فائنل میں ان سے غلطی سرزد ہوئی تھی ’یقیناً ہم تمام میچ آفیشلز کے لئے شرمندگی کی بات تھی کہ پلیئنگ کنڈیشنز کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے۔ آئی سی سی نے جو بھی فیصلہ کیا وہ ہمیں قبول کرنا پڑا مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ میں بھی انسان ہوں غلطیاں ہوجاتی ہیں لیکن ان ہی غلطیوں سے انسان سیکھتا ہے۔‘

ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے بین الاقوامی کرکٹ پر اثرات کے بارے میں علیم ڈار روایت پسند واقع ہوئے ہیں ’میرے خیال میں ٹیسٹ کرکٹ ہی اصل کرکٹ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ کم وقت میں نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی شکل میں انہیں بہترین تفریح میسرآئی ہے اور وہ اس میں زبردست جوش وخروش دکھاتے ہیں لیکن میں نے جہاں جہاں امپائرنگ کی ہے وہاں اب بھی ٹیسٹ کرکٹ سے شائقین کی دلچسپی ختم نہیں ہوئی ہے۔ انگلینڈ، جنوبی افریقہ، بھارت، آسٹریلیا ہر جگہ شائقین ٹیسٹ میچوں میں آتے ہیں‘۔

کیا ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں کسی کرکٹر نے آپ کو متاثر کیا؟ اس سوال کے جواب میں علیم ڈار پاکستان کے شاہد آفریدی۔ آسٹریلیا کے اینڈریو سائمنڈز اور بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کے نام لیے۔

علیم ڈار ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی الگ ٹیم کے حق میں ہیں ’جو کرکٹرز ٹیسٹ کھیلتے ہیں انہیں اس طرز کی کرکٹ میں شامل نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کرکٹ کے لئے موزوں کرکٹرز پر مشتمل ایک الگ ٹیم ہونی چاہئے۔‘

علیم ڈار55 ٹیسٹ اور116 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کرچکے ہیں لیکن ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آنے سے قبل ان کے نام کے آگے صرف ایک ٹوئنٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ درج ہے جو دبئی میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تھا۔ کیا ٹیسٹ اور ون ڈے کے مقابلے میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں امپائرنگ زیادہ مشکل ہے؟ اس سوال پر علیم ڈار کہتے ہیں ’ٹیسٹ میں پانچ دن تک ایک ہی توجہ کے ساتھ امپائرنگ کرنا بہت مشکل اور ذمہ داری کا کام ہے۔ پچ میں تبدیلی آنے لگتی ہے گیند کے باؤنس اور ٹرن میں فرق آتا ہے لہذا امپائر کو بہت زیادہ سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔‘

علیم ڈار کے خیال میں پاک بھارت کرکٹ میچز میں امپائرنگ ایشیز سیریز سے زیادہ مشکل اور سخت ہے اس میں بہت زیادہ دباؤ رہتا ہے۔

پہلی بار ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امپائرنگ کرنے والے علیم ڈار یہی دعا کررہے ہیں کہ پاکستانی ٹیم فائنل کھیلے ’پاکستانی شائقین اکیلے مجھے فائنل میں نہیں دیکھنا چاہتے ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی ٹیم فائنل میں ہو ہاں! اگر ایسا نہ ہوا تو پھر میں اپنے لئے دعا کروں گا کہ فائنل میں امپائرنگ کروں‘۔

اسی بارے میں