متنازع مگر ہنگامہ خیز کیریئر

Image caption آصف کا پانچ سالہ کیریئر چند متنازعہ واقعات کے سبب خاصا ہنگامہ خیز رہا

پاکستانی فاسٹ بالر محمد آصف نے بین الاقوامی کیریر میں پانچ سال مکمل کر لیے۔اگرچہ محمد آصف کی بالنگ کے سبب پاکستان کی ٹیم نے کئی کامیابیاں بھی حاصل کیں تاہم ان کا یہ پانچ سالہ کیریئر چند متنازعہ واقعات کے سبب خاصا ہنگامہ خیز رہا۔

محمد آصف نے ٹھیک پانچ سال پہلے دو جنوری 2005 کو سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں اپنا کیریر شروع کیا۔

محمد آصف اگرچہ اپنے پہلے میچ میں تو کوئی وکٹ نہ لے سکے اور اپنی بالنگ سے کوئی خاص تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن اگلے سال یعنی 2006 میں کراچی میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ میچ میں محمد آصف نے سات وکٹیں لے کر کرکٹ کے شائقین اور مبصرین کی توجہ حاصل کر لی۔

محمد آصف پانچ بار ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں پانچ یا پانچ سے زیادہ وکٹیں لے چکے ہیں۔

جہاں 2006 محمد آصف کے لیے کامیابی لایا وہیں اسی سال ان پرممنوعہ ادویات کے استعمال پر ہونے والے ڈوپ ٹیسٹ کے مثبت پائے جانے کے سبب ایک سال کی پابندی لگی جس میں بعد ازاں اپیل کرنے پر انہیں اس الزام سے بری بھی کر دیا گیا۔ لیکن پاکستان کے اس نوجوان فاسٹ بالر کے کیریئر میں ابھی اور مسائل آنا تھے۔

2008 میں بھارت میں انڈین پریمیر لیگ کھیل کر واپس آتے ہوئے راستے میں دبئی ائیر پورٹ پر کسی ممنوعہ دوا کی برآمدگی پر انیس دن کے لیے حراست میں رہے۔ کچھ دنوں بعد یہ خبر آ گئی کہ محمد آصف آئی پی ایل کے دوران لیے گئے ڈوپ ٹیسٹ میں مثبت پائے گئے جس کے نتیجے میں ان پر ایک سال کی پابندی لگا دی گئی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد آصف پاکستان کے بالنگ اٹیک کا ایک اہم ستون ہیں۔ ان میں گیند کو سوئنگ کرنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے۔ اس وقت پاکستان کی موجودہ ٹیم میں نئی گیند کو وکٹوں کے دونوں جانب سوئنگ کرنے کا جو فن محمد آصف میں ہے وہ کسی اور میں نہیں یہی وجہ ہے کہ ایک سال کی پابندی کے بعد جب محمد آصف نے دوبارہ پاکستانی ٹیم میں جگہ حاصل کی تو اپنی کارکردگی سے ایک بار پھر اپنا لوہا منوایا اور ٹیم کے اہم بالر بن گئے۔

حال ہی میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انہوں نے انیس وکٹیں حاصل کر کے سیریز کے بہترین بالر کا اعزاز حاصل کیا اور اسی زبردست کارکردگی کے سبب آئی سی سی درجہ بندی میں پانچویں نمبر پر آگئے۔

اپنے پانچ سال کے کیریر میں محمد آصف نے پندرہ ٹیسٹ میچز میں تہتر وکٹیں لیں۔ بتیس ایک روزہ میچز میں اڑتیس اور نوئنٹی ٹوئنٹی میچز میں بارہ وکٹیں حاصل کی ہیں۔

محمد آصف نے جس میچ میں اپنے بین الاقوامی کیریر کا آغاز کیا سڈنی میں ہونے والے اسی میچ میں آسٹریلیا کے شین واٹسن نے بھی اپنا ڈیبیو کیا تھا۔ اب ان دونوں کھلاڑیوں نے اپنے پانچ سال سڈنی ہی مکمل کیے ہیں جہاں یہ دونوں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سڈنی میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں مد مقابل ہوں گے۔

اسی بارے میں