’افتتاحی تقریب ہمیشہ یاد رہے گی‘

محمد عباس
Image caption ’گاؤں کے اکثر لڑکوں کو سکیئنگ کا شوق ہے‘

کینیڈا کے شہر وینکوور میں جاری سرمائی اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرکے چوبیس سالہ محمد عباس نے ایک نئی تاریخ رقم کی ھے۔ یہ پہلا موقع ھے کہ پاکستان کا کوئی ایتھلیٹ سرمائی اولمپکس میں شریک ھوا ہے۔

پاک فضائیہ سے تعلق رکھنے والے چوبیس سالہ سکیئر محمد عباس نےاپنا رن مکمل کرنے کے بعد بی بی سی اردو سے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران بتایا کہ ان کا تعلق گلگت سے بتیس کلومیٹر دورگاؤں نلتربالا سے ھے جہاں ان کے والد ائیرفورس میں بطور چوکیدار ریٹائیر ھوئے اورآجکل کھیتی باڑی کرتے ھیں۔ سات بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر محمد عباس سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ھے اور ائیرفورس میں بطور کھلاڑی بھرتی ھوِگئے۔ بارہ سو کے قریب خاندان اس خوبصورت مگر پسماندہ گاؤں میں زندگی گزار رھے ھیں اور یہ علاقہ جنگلات اور پہاڑوں پر مشتمل ھے جہاں سردیوں میں خوب برف باری ھوتی ھے۔

محمد عباس کی چند تصاویر

ان اولمپکس میں بیاسی ممالک حصہ لے رہے ھیں۔محمد عباس پاکستان کی سب سے پہلے نمائیندگی کرنے پر بے پناہ خوش ھیں۔ انہوں نے ان اولمپکس کے لیے ترکی ایرن اور لبنان میں ھونے والے کوالیفائینگ راؤنڈ میں کامیابی حاصل کی اور سن دو ھزار آٹھ اور نو کے دوران آسٹریا میں ٹریننگ کی۔ ان اولمپکس میں عباس نے دونوں رن تین منٹ اور اکیس سیکنڈ میں مکمل کئے۔ عباس کا کہنا ھے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ وہ اتنے لمبے سلوپ سے کھیل رھے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شروع میں لکڑی کی مدد سے سکیئز بنا کرگاؤں کے لڑکوں کے ھمراہ برف پر کھیلا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ سال کی عمر میں وہ لکڑی کے دو ٹکروں کو ھموار کرکے رسیوں کی مدد سے پاؤں کے نیچے باندھ کر اور دو درخت کی ٹہنیوں کو ہاتھ میں پکڑ کر برف پر پھسلتے۔عباس کی عمر نو سال تھی جب ان کو باقاعدہ سکیئز ملے جس کے بعد ان کا کھیل بہتر ھوا اور1999 میں انہوں نے تیرہ سال کی عمر میں ایران میں منعقد ھونے والی چلڈرن ایشیشن چیمپین شپ میں حصہ لیا۔انہوں نے بتایا کہ ان کےگاؤں میں بہت لوگوں کو سکئینگ کا شوق ھے اوراب پاکستان کے مختلف اداروں میں اس گاؤں کے کئی لڑکے بطور سکیئرملازمت کر رھے ھیں۔

لاھور سے تعلق رکھنے والے عباس کے کوچ پاک فضائیہ کے ریٹائیرڈ گروپ کیپٹن زاھد فاروق بھی بہت خوش نظر آئے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی سال پہلے اس گاؤں کے بچوں کو لکڑی کے سکیز سے کھیلتے دیکھ کر افسران نے آٹھ پرانے سکیز انہیں دیۓ اور پھر ان کا شوق پروان چڑھنے لگا۔

کوچ زاھد نے مزید بتایا کہ اس گاؤں کے پچاس کے قریب لڑکے قومی سطح پر مقابلوں میں حصہ لیتے ھیں۔ جن میں بین الاقوامی سطح پر 20 کے لگ بھگ افراد پاکستان نمائندگی کر چکے ھیں۔انہوں نے کہا کہ کراس کنٹری میں ھمارے پاس بڑا ’پوٹینشل‘ ھے اور اس گاؤں کے لڑکے اگلے اولمپکس میں کوالیفائی کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان سکی فیڈریشن کو گرانٹس کی کمی ھے اور انہوں نے ان اولمپکس تک پہنچنے کے لیے کارپوریٹ سیکٹر سے مدد لی ھے۔

محمد عباس نے کہا کہ کینیڈا میں موجود پاکستانیوں کی بے پناہ محبت نے مجھے یہ محسوس ھی نہیں ھونے دیا کہ میں پاکستان کے باھر پرفارم کر رھا ھوں۔ پاکستان ھاؤس وینکوور میں محمد عباس کے اعزاز میں ایک شاندار استقبالی تقریب منعقد کی گئی۔

محمد عباس کو کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کی خوبصورتی، ماحولیات اور لوگوں نےبہت متاثر کیا ھے۔ ان کے کوچ نے بتایا کہ کینیڈین اور دیگر ممالک کے لوگ پاکستانی دستے کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ملتے رھے اور بہت حوصلہ افزائی کی۔ ان کا خیال ھے پاکستانی کینیڈین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں رھنے والے پاکستانی بچے دوھری شہریت کا فائدہ اٹھاتے ھوئے پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ھیں۔ یاد رھے کہ ان اولمپکس میں قابل ذکر تعداد ان کھلاڑیوں کی تھی جن کیے پاس دوھری شہریت ھے یا وہ تارکین وطن تھے۔

عباس کا کہنا ھے کہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب کے لیے میدان میں داخل ھوتے ھوئے لمحہ کو وہ ھمیشہ یاد رکھیں گے۔ بیس کے لگ بھگ ممالک کا دورہ کرنے والےمحمد عباس کا کہنا ھے کہ سکیئنگ کے کھیل کا مستقبل پاکستان میں بہت بہتر ھوسکتا ھے اگر نلتر بالا میں چیئر لفٹ کا انتظام ھوجاۓ کیونکہ ٹریننگ کے لیے چئیر لفٹ کا ھونا بہت ضروری ھے۔ حکومت سے چئیر لفٹ کی درخواست ھے، ٹریننگ ھم خود کرلیں گے اور پاکستان کے لیے میڈل جیتنا آسان ھوجاۓ گا۔

محمد عباس اگلے اولمپکس کے لیے پر امید ھیں اور مزید محنت کا ارادہ رکھتے ھیں۔وہ چاھتے ہیں کہ مزید پاکستانی لوگ سرمائی اولمپکس میں حصہ لیں اور ملک کا نام روشن کریں۔ان کا خیال ھے کہ پاکستان کے پاس مزید بارہ کے قریب کھیلوں میں حصے لینے کے لیے برفانی علاقوں میں سلوپس موجود ھیں۔

پاکستان کے علاوہ گھانا، جزائر کیمن، کولمبیا اور پیرو وہ ممالک ہیں جو پہلی مرتبہ سرمائی اولمپکس میں حصہ لے رہے ہیں۔ان سرمائی اولمپکس میں پاکستانی اور بھارتی فن پاروں کی نمائش کے علاوہ بھنگڑا ڈانسسز کا بھی اھتمام کیا گیا ھے۔

اسی بارے میں