’دورہ آسٹریلیا میں میچ فکسنگ ہوئی‘

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے ایک بار بعض کھلاڑیوں کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی بات تھی

سینٹ کی قائمہ کمیٹی کےتین اراکین نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے تفصیلی بریفنگ کے بعد کہا ہے کہ انہیں ایسے شواہد دکھائے گئے ہیں جس سےان کا خیال ہے کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران پاکستان کے ایک یا اس سے زیادہ کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔

سینٹر عبدالغفار قریشی، سینٹر ہارون اختر خان اور سینیٹرطاہر مشہدی پر مشتمل ذیلی کمیٹی نے پیر کو لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ ایک طویل اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کے دوران میچ فکسنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی ٹیم ہاری۔ سینیٹر ہارون اختر کا کہنا تھا کہ ٹیم کے ایک سے زیادہ کھلاڑی مختلف قسم کی میچ فکسنگ میں ملوث ہیں۔

ان سینٹررز نےکہا کہ انہیں جو شواہد دکھائے گئے ہیں وہ سابقہ نہیں بلکہ ٹیم کے موجودہ کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث ہیں۔

سینٹ کے اراکین کا کہنا تھا کہ وہ ان کھلاڑیوں کے نام نہیں لینا چاہتے کیونکہ ٹیم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے جا رہی ہے اور یہ وقت مناسب نہیں ہے کہ ان کا نام بتایا جائے۔ان سینٹرز کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس پر مزید شواہد اکٹھے کرنے چاہیں اور مزید تحقیقات سے اگر مکمل طور پر واضح ہو جائے تو ان کرکٹرز کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جائے۔ سینیٹر طاہر مشہدی کا کہنا ہے کہ ان کھلاڑیوں پر ایک یا دو سال کی پابندی نہیں بلکہ قوم کو ان کی شکلیں بھی نظر نہیں آنی چاہیں۔

اس ذیلی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عبدالغفار قریشی نے کہا کہ میچ فکسنگ میں کھلاڑی ہی نہیں بلکہ باہر کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ خرابی چاہے کھلاڑی میں ہے یا مینجنٹ میں اسے دور کرنا چاہیے۔

ان سینیٹرز نے کہا کہ انہوں نے پی سی بی کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پڑھی ہے اس میں یونس خان اور محمد یوسف پر کوئی طویل پابندی عائد نہیں کی بلکہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ انہیں قومی ٹیم میں منتخب نہ کیا جائے لیکن یہ پابندی غیر معینہ مدت کے لیے ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے بھی کچھ عرصہ پہلے یہ اشارہ دیا تھا کہ دو کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث ہیں تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ یہ دونوں سابق کھلاڑی ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیاء نے سینٹررز کے الزامات پر کہا کہ اگر وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہوتےتو وہ اس بات کی مکمل تصدیق اور ثبوت حاصل کرنے کے بعد میڈیا کو بتاتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی سی بی کے پاس ثبوت موجود ہیں تو کسی ورلڈ کپ کا انتظار کیے بغیر ان کھلاڑیوں کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ آسٹریلیا کے دورے میں میچ فکسنگ ہو سکتی تھی کیونکہ اس دورے میں پاکستان کی ٹیم فیورٹ نہیں تھی اور میچ فکسنگ کا امکان فیورٹ ٹیم کی جانب سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی ایک آدھ کھلاڑی ذاتی طور پر ملوث ہو اور اگر کرکٹ بورڈ کے پاس ٹھوس شواہد ہیں تو نہ صرف ایسے کھلاڑی پر تاحیات پابندی لگا دی جائے بلکہ اس کے اثاثوں کی بھی جانچ ہو۔

سابق چیئرمین کا یہ بھی کہنا تھا کہ سچ کیا ہے یہ تو کرکٹ بورڈ اور کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجاز بٹ ہی جانتے ہیں۔

اسی بارے میں