قومی کھیل ملتوی، ڈیوس کپ منتقل

پاکستان میں شدت پسندی کے حالیہ واقعات کے بعد جہاں ایک طرف ملک میں ہونے والی ڈیوس کپ ٹینس ٹائی نیوزی لینڈ شفٹ کر دی گئی ہے تو دوسری طرف سیکیورٹی خدشات کے سبب قومی کھیل بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

لاہور میں پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن نے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا کہ 25 مارچ سے پشاور میں ہونے والے قومی کھیل ملتوی کر دیے جائیں۔ یہ فیصلہ ملک میں ہونے والے حالیہ شدت پسندی کے واقعات کے سبب کرنا پڑا۔ یہ کھیل اکتیس مارچ تک جارے رہنے تھے۔

پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عارف حسن نے میڈیا کو بتایا کہ پشاور میں قومی کھیلوں کے انعقاد کے لیے تمام تر تکنیکی کام مکمل تھا لیکن ملک میں شدت پسندی کی حالیہ لہر کے بعد ’ہمیں سرحد حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کی کلئرنس نہیں ملی جس کی بناء پر انہیں ملتوی کرنا نا گزیر تھا۔‘

‎‎ انہوں نے کہا کہ دوسری مرتبہ سیکیورٹی ہی کے خدشات کے سبب ان کھیلوں کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کرنا ایک مشکل کام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کھلاڑیوں کی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے، اس لیے یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ عارف حسن نے کہا کہ اب ان کھیلوں کا انعقاد ایشین گیمز کے بعد ہی ممکن ہے اور یہ دسمبر کا آخری ہفتہ ہو سکتا ہے۔

ڈیوِس کپ ٹائی کی نیوزی لینڈ منتقلی

پاکستان کی ٹینس ٹیم نے حال ہی میں ہانگ کانگ میں ہانگ کانگ کی ٹیم کو ایشیا اوشیاناگروپ میں شکست دی تھی اور اب پاکستان اور نیوزی لینڈ کا مقابلہ پاکستان میں ہونا تھا۔ لیکن نیوزی لینڈ کے آپریشنل مینجر نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں سیکورٹی کے حالات صحیع نہیں ہیں اور اس لیے ان کی ٹیم وہاں کھیلنے نہیں جائے گی۔

پاکستان ٹینس فیڈریشن کے سیکریٹری میجر ریٹائرڈ راشد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور میں ہونے والے حالیہ واقعات کے بعد ’انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے ہمارے ٹینس میچز کو نیوزی لینڈ منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔‘ میجر ریٹائرڈ راشد خان کے مطابق انہوں نے نیوزی لینڈ کے مینجر کے بیان کے بعد انٹرنیشنل فیڈریشن کو خط لکھا تھا کہ ٹائی پاکستان میں ہی ہونی چاہیے لیکن لاہور میں ’حالیہ بم دھماکوں نے ہمارا کیس بگاڑ دیا اور اب ہم ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتے۔‘

پاکستان کے سٹار کھلاڑی اعصام الحق قریشی کے بقول نیوزی لینڈ جانا ان کے لیے مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جولائی میں انگلینڈ میں ہوں گے اور وہاں گراس کورٹ پر کھیل رہے ہوں گے جبکہ نیوزی لینڈ میں جا کر ایک دم ہارڈ کورٹ پر کھیلنا ان کے لیے مشکل ہوگا۔

میجر راشد نے کہا کہ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کے قوانین کے مطابق اگر ٹائی کھیلنے والے دونوں ملک حالت جنگ میں ہوں تب ہی ٹائی کسی اور ملک میں ہو سکتی ہے۔ راشد خان کے بقول اس منتقلی سے پاکستان میں ٹینس فیڈریشن کا بہت نقصان ہوا ہے کیونکہ ایک تو کھلاڑیوں کو ہوم گراؤنڈ کا فائدہ نہیں ملے گا اور ہمیں مالی نقصان بھی ہوگا کیونکہ ڈیوس کپ ہونے سے فیڈریشن کو سپونسر شپ ملتی ہے جو اب نہیں ملے گی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے خدشات کے سبب ڈیوس کپ ٹائی یہاں سے منتقل ہوئی ہو، بلکہ گزشتہ پانچ سال سے پاکستان میں کوئی ڈیوس کپ ٹائی نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں