موٹر وے پر موٹر سائیکل ریلی

پاکستان میں موٹر وے پر پہلی بار موٹر سائیکل ریلی ہوئی جس میں ہیوی موٹربائیک چلانے والے افراد نے شرکت کی اور تیز رفتار کے ساتھ موٹر سائیکل چلا ئی۔

اس ریلی کا اہتمام موٹر وے پولیس نے بائیکرز کلب کے ساتھ ملکر کیا تھا اور پچاس کے لگ بھگ ہیوی بائیک چلانے کا شوق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ ریلی لاہور سے شروع ہو کر کلر کلہار کے مقام پر ختم ہوئی۔ اس ریلی میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بڑے عمر کے لوگوں نے بھی بھرپور حصہ لیا۔

سابق وزیر اعلیْ پنجاب اور موجودہ وزیر بلدیات سردار دوست محمد خان کھوسہ نےبھی ریلی حصہ لیا اور موٹر وے پر ہیوی بائیک چلائی ۔پنجاب کے وزیر بلدیات نے اس موقع پر میڈیا سے بات کی اور کہا کہ بہت عرصہ سے ہیوی بائیک چلاتے ہیں لیکن آج انہیں اپنی بائیک پر سفر کرنے کا بہت مزا آیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی یہ کوشش ہوگی کہ مستقبل میں ہیوی بائیک چلانے والوں کو اس طرح کا موقع ملے۔

راوی ٹول پلازہ پر وزیر مملکت امتیاز صفدر وڑائچ اور وزیر مملکت صمصام بخاری نے ریلی کے شرکا کو روانہ کیا۔ہیوی بائیکز کی اس ریلی کے آگے موٹر وے پولیس کا سکواڈ چلا تا رہا جبکہ ریلی میں حصہ لینے والوں کو موٹر وے پولیس کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی کہ وہ ایک سو دس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ نہ چلائیں ۔

ہیوی بائیکز کی اس ریس نما ریلی نے بھیرہ انٹرچینج پر پہنچ کر ختم ہونا تھا لیکن اس کے فاصلے کو کلر کہار تک بڑھا دیا گیا۔

پاکستان میں لگ بھگ تیرہ برس پہلے چھبیس نومبر انیس سو ستانوے کو موٹر وے کا افتتاح ہوا تھا لیکن اس پر کار اور دیگر بڑی گاڑیوں کو توسفر کرتیں ہیں لیکن موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب نیشنل ہائی ویز اور موٹر وے پولیس نے تجرباتی طور پر موٹر وے پر ایک ریلی نما بائیک ریسنگ کا اہتمام کیا ہے۔ ریلی میں شرکت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ عام سڑکوں کو اپنی ہیوی بائیکز کو اسی طرح چلا سکیں جس طرح انہیں موٹر وے پر اپنی موٹرسائیکل چلانے کا موقع ملا ہے۔

موٹروے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک ایسی تجویز زیر غور ہے کہ پانچ سو سی سی یا اس زیادہ طاقت کی ہیوی بائیک کو موٹر وے پر چلانے کی اجازت دی جائے گی جبکہ بائیک چلانے والے کی کم از کم عمر پچیس برس ہو اور موٹر وے پر بائیک چلانے کے لیے پہلی رجسٹریشن کروانی ہوگی۔

اسی بارے میں