محمد یوسف کا شاندار کریئر بے قدری کی نذر

محمد یوسف کا بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ غیرمتوقع نہیں کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی غیرمعینہ پابندی کی صورت میں ان کے کریئر پر’ قفل‘ لگا چکا ہے۔

Image caption محمد یوسف کبھی بھی کرکٹ اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ نہیں رہے

محمد یوسف کے کریئر میں سب کچھ دیکھنے کو ملا ہے۔ قوت کے بجائے کلائی سے کھیلے گئے خوبصورت سٹروکس، ساتھی بیٹسمین کو رن آؤٹ کرانے کی عادت، دفاعی کپتانی اور اپنے فیصلوں پر قائم نہ رہنا۔

محمد یوسف نے اپنی شاندار کارکردگی پر اظہار تشکر، سینے پر صلیب بنا کر شروع کیا تھا جو بعد میں سجدۂ شکر بجا لانے میں تبدیل ہوگیا لیکن’ یوحنا‘ یا ’ محمد‘ دونوں صورتوں میں بیٹنگ کرتے ہوئے ان کے ذہن میں صرف ایک ہی نکتہ رہا یعنی حریف بولنگ پر حاوی ہونا۔

اپنے بارہ سالہ کریئر میں انہوں نے بہت کم حریف بولنگ کو اپنے اوپر حاوی ہونے دیا۔ اسی لیے وہ آئی سی سی کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آئے۔ آئی سی سی کے بہترین ٹیسٹ کرکٹر کے ایوارڈ کے حقدار ٹھہرے اور وزڈن نے انہیں سال کے پانچ بہترین کرکٹرز میں بھی شامل کیا۔

محمد یوسف کے کریئر کا نقطۂ عروج اس وقت آیا جب انہوں سال دو ہزار چھ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز کے عالمی ریکارڈ سے سر ویوین رچرڈز کا نام تیس سال رہنے کے بعد ہٹا کر اپنا نام 1788 رنز کے ساتھ درج کرایا۔ یہ وہ سال تھا جب انہوں نے نو ٹیسٹ سنچریاں بنائیں، یہ بھی نیا عالمی ریکارڈ تھا۔

اس سال ان کے بلے سے رنز کے نہ رکنے والے سلسلے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انگلینڈ کے دورے میں انہوں نے چار ٹیسٹ میچوں میں چھ سو سے زائد رنز بنا ڈالے جس میں لارڈز پر ڈبل سنچری اور ہیڈنگلے میں ڈبل سنچری سے صرف آٹھ رنز کی دوری پر رہ جانے والی اننگز شامل تھی۔

اسی سال جب ویسٹ انڈیز پاکستان آئی تو محمد یوسف نے برائن لارا کی چمک بھی ماند کر ڈالی جب ملتان اور لاہور میں وہ دو بار ڈبل سنچری کے بہت قریب آ کر رہ گئے جب کہ کراچی میں انہوں نے دونوں اننگز میں تین تین ہندسوں والی اننگز کھیل ڈالیں۔

محمد یوسف انضمام الحق اور یونس خان کا تکون پاکستانی بیٹنگ کے لیے ہمیشہ تقویت کا باعث رہا۔ تینوں کے نام کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی جیت اور کسی نہ کسی بڑی شراکت میں ضرور نظر آتے ہیں۔

محمد یوسف دو ٹرپل اور دو ڈبل سنچری کی شراکتوں میں یونس خان کے ساتھ شریک رہے ہیں جب کہ انضمام الحق کے ساتھ ان کی ایک ڈبل سنچری کی شراکت رہی ہے۔محمد یوسف کبھی بھی کرکٹ اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ نہیں رہے۔ سال دو ہزار دو میں نیٹ پریکٹس میں حصہ لینے کے احکامات نہ ماننے کی پاداش میں انہیں کینیا سے وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔

سال دو ہزار چھ میں یونس خان کے انکار کے بعد انہیں کپتان بنایا گیا لیکن جنرل پرویز مشرف کے دست راست ڈاکٹر نسیم اشرف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالتے ہی محمد یوسف کو کپتانی کرنے سے پہلے ہی ہٹا دیا اور ناراض یونس خان کو منا کر قیادت کی ذمہ داری سونپ دی۔

محمد یوسف نے دو بار آئی سی ایل میں شمولیت اختیار کی ۔ پہلی مرتبہ جب انہیں ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا تو انہوں نے انضمام الحق اور دوسرے ساتھی کرکٹرز کے ساتھ آئی سی ایل کے معاہدے پر دستخط کر دیئے لیکن ڈاکٹر نسیم اشرف انہیں واپس پاکستانی ٹیم میں لے آئے جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی ایک بڑی قیمت پاکستان کرکٹ بورڈ نے چکائی جب کہ محمد یوسف اس کی تردید کرتے ہیں کہ یہ واپسی بھاری رقم کے عوض ہوئی تھی۔

آئی سی ایل نے محمد یوسف کا اپنے سے تعلق اس طرح ختم کرنا قبول نہ کیا اور یہ معاملہ کافی دنوں تک ممبئی کی ثالثی عدالت میں زیر سماعت رہا۔

محمد یوسف نے دوسری مرتبہ آئی سی ایل کا رخ اس وقت کیا جب انہیں ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی میں ہونے والی ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کر لیا گیا تھا لیکن مبینہ طور پر کپتان شعیب ملک سے اختلافات کے نتیجے میں وہ خاموشی سے کیمپ چھوڑ کر بھارت چلے گئے تھے۔

جب مالی مشکلات کے سبب آئی سی ایل نے اپنی بساط لپیٹی تو تمام مسترد کرکٹرز بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے پر تولنے لگے اور کپتان یونس خان کے توسط سے اعجاز بٹ سے ملاقات نے محمد یوسف پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے دوبارہ کھول دیئے اور جب یونس خان اندرون خانہ سیاست کا شکار ہوئے تو کپتانی یوسف کو ملی لیکن صرف ایک ہی دورے نے ان کے مستقبل کا فیصلہ کردیا ۔

محمد یوسف کے شعیب ملک سے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے اور انہوں نے آسٹریلوی دورے سے وطن واپسی پر ہر انٹرویو میں سابق کپتان کا نام لیے بغیر انہیں ٹیم میں انتشار پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا۔

Image caption محمد یوسف ماضی میں فیصلے کرکے انہیں تبدیل کرتے رہے شاید اسی لیے اس بار بھی ان سے اسی کی توقع کی جا رہی ہے

مبصرین کو محمد یوسف کی شخصیت پر سب سے بڑا اعتراض یہی رہا ہے کہ ان میں قوت فیصلے کی کمی ہے۔اسی لیے ان سے یہ سوال کیاجاتا رہا ہے اگر ان کے خیال میں شعیب ملک ٹیم میں انتشار پھیلارہے تھے تو انہوں نے کپتان کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں وطن واپس کیوں نہیں بھیجا اور وطن واپسی پر ان کا نام لیے بغیر میڈیا میں تنقید کرتے رہے۔

محمد یوسف کے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کو بعض حلقے کرکٹ بورڈ پر دباؤ ڈالنے کے قدم کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس بات کا سبھی کو احساس ہے کہ حالیہ دنوں میں کسی غیرمعمولی کارکردگی نہ دکھانے کے باوجود انگلینڈ کے دورے میں کھیلے جانے والے چھ ٹیسٹ میچوں میں محمد یوسف اور یونس خان کی ٹیم کو اشد ضرورت ہے۔

محمد یوسف ماضی میں فیصلے کرکے انہیں تبدیل کرتے رہے شاید اسی لیے اس بار بھی ان سے اسی کی توقع کی جا رہی ہے لیکن اگر واقعی وہ اپنی’ اننگز‘ کھیل چکے تو اس انجام کو پاکستان کے ہر بڑے بیٹسمین سے مختلف نہیں کہا جاسکتا۔

حنیف محمد کو جبراً ریٹائر کردیا گیا۔ ظہیر عباس کو اعلان شدہ الوداعی ٹیسٹ نہیں کھیلنے دیا گیا۔جاوید میانداد اور انضمام الحق بھی حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہوئے اور آج محمد یوسف کو بھی ارباب اختیار کی بے قدری کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔

اسی بارے میں