سینئر کھلاڑی اب بھی مجبوری: حنیف خان

ورلڈ کپ میں بدترین کارکردگی کے باوجود پاکستان ہاکی فیڈریشن نے شکست خوردہ کھلاڑیوں کو اس سال ایشین گیمز تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اگر مکمل طور پر نئے کھلاڑیوں پر انحصار کیا گیا تو ایشین گیمز میں بھی وہی حشر ہوسکتا ہے جو ورلڈ کپ میں ہوچکا ہے۔

حنیف خان
Image caption تمام سینئر کھلاڑیوں کو فوراً ٹیم سے نکالنا ممکن نہیں: چیف سلیکٹر

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی نئی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ حنیف خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ اس وقت یہ مجبوری ہے کہ تمام سینئر کھلاڑیوں کو آپ نکال نہیں سکتے البتہ قومی ہاکی چیمپئن شپ میں اگر باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئے تو انہیں سینئر کھلاڑیوں پر ضرور ترجیح دی جائے گی۔

حنیف خان نے یہ واضح کردیا کہ اس سال پاکستان کو تین بڑے ایونٹس اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ، کامن ویلتھ گیمز اور ایشین گیمز میں حصہ لینا ہے اور چھ ماہ کے مختصر سے عرصے میں ٹیم تشکیل نہیں دی جاسکتی لہذا فوری طور پر ٹیم سے تمام سینئر کھلاڑیوں کو فارغ کردینا دانشمندی نہیں ہوگی البتہ اولمپکس میں ابھی دوسال ہیں اور اس عرصے میں ایک اچھی ٹیم تیار کی جاسکتی ہے۔

اس سوال پر کہ سینئر کھلاڑی ایشین گیمز میں بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تب فیڈریشن نئے کھلاڑی پر انحصار کرے گی تو ا س کی ابتدا وہ ابھی سے کیوں نہیں کرلیتی؟ حنیف خان نے کہا کہ اگر بڑے پیمانے پر ٹیم میں تبدیلیاں کردیں تو خطرہ ہے کہ ایشیا سے بھی ہاتھ دھوبیٹھیں گےلیکن ابھی امید تو ہے۔

حنیف خان کا کہنا ہےکہ اگر نئے غیرملکی کوچ کی کھلاڑیوں سے ہم آہنگی ہوگئی اور وہ ان کی نفسیات کو سمجھ گیا تو اچھے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے لیکن اگر اس نے کھلاڑیوں کے سٹائل میں مداخلت کی تو ہوسکتا ہے کہ پاکستانی ٹیم تیسرے نمبر پر بھی نہ آئے۔

حنیف خان نے کہا کہ انہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں بلکہ سب کو معلوم ہے کہ پانچ چھ کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں ایشین گیمز کے بعد خود ہی گھر چلے جانا چاہئے کیونکہ ان میں اب زیادہ ہاکی نہیں بچی ہے اگر وہ ایشین گیمز بھی کھیل گئے تو شکر ادا کریں اور اگر ان سے اچھے کھلاڑی مل گئے تو انہیں فارغ کرنے میں وہ دیر نہیں لگائیں گے۔

حنیف خان نے کہا کہ انہیں قومی ہاکی ٹیم کا کوچ بننے کی پیشکش ہوئی تھی لیکن چونکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن غیرملکی کوچ کو بھی لانا چاہتا ہے جو انہیں قبول نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر غیرملکی کوچ کو لانا ہی ہے تو اسے نوجوان کھلاڑیوں کی کوچنگ دی جائے جو جونیئر ورلڈ کپ کے لئے ٹیم تیار کرے لیکن غیرملکی کوچ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ فوری طور پر سینئر ٹیم کو جیت کی راہ پر ڈال سکے۔

اسی بارے میں