ہاکی: غیر ملکی کوچ کے لیے انٹرویوز

پاکستان ہاکی ٹیم کی کوچنگ کے لیے معاملات طے کرنے کے لیے جرمن کوچ پاکستان آئے اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام سے ملے تاہم ان غیر ملکی کوچوں کے انٹرویوز کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فائل فوٹو
Image caption ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد سے پاکستان کی پاکستان ہاکی فیڈریشن کو تنقید کا سامنا ہے

البتہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری آصف باجوہ نے تسلیم کیا کہ ایک غیر ملکی کوچ سے ملاقات کی گئی ہے اور اس سلسلے میں مزید دو کوچز سے چند دن میں ملاقات کی جائے گی۔

پاکستان ہاکی ٹیم کی عالمی کپ ہاکی میں آخری پوزیشن آنے کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن مختلف انقلابی اقدامات پر غور کر رہی تھی اور اس سلسلے میں غیر ملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنا بھی شامل ہے۔

آصف باجوہ کا کہنا ہے کہ ہمیں ہر طرف سے یہ مشورہ دیا جا رہا تھا کہ ٹیم کو اولمپکس کے لیے تیار کرنے کے لیے غیر ملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنی چاہیں اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں مختلف کوچز سے انٹرویوز کیے جائیں گے اور ممکن ہے کہ ازلان شاہ ٹورنامنٹ سے پہلے کسی غیر ملکی کوچ کی خدمات حاصل کر لی جائیں۔

آج کل کراچی میں ہاکی کی قومی چیمپئن شپ کھیلی جا رہی ہے اس چیمپئن شپ میں تیس سال سے زائد عمر کے کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی گئی البتہ وہ کھلاڑی جو تیس سال کے تو ہیں لیکن پاکستان کی ہاکی ٹیم کے کیمپ میں تھے انہیں اس بات کی چھوٹ دی گئی ہے۔

قومی چیمپئن شپ میں عمر کی حد تیس سال رکھنے کے فیصلے کے بارے میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری آصف باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں کافی عرصے سےہاکی کا نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں آ رہا تھا جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ادارہ جاتی ٹیمیں اپنے پرانے کھلاڑیوں کو کھلا رہیں تھیں اور نہ تو نئے کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع مل رہا تھا اور نہ ہی نئے کھلاڑیوں کو نوکریاں دی جا رہیں تھیں۔

اس لیے ہم نے ہاکی کی بہتری کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ یہ عمر رسیدہ کھلاڑی اب قومی چمپین شپ میں حصہ نہیں لے سکتے۔

اس فیصلے سے ہاکی کے نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر کھیلنے کی ترغیب ملے گی اور فیڈریشن کو بھی نیا ٹیلنٹ مل سکے گا۔

اسی بارے میں