پاکستانی ٹیم کو کلیئرنس کا انتظار

ایشین بیڈمنٹن چیمپئن شپ بارہ اپریل سے بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں شروع ہو رہی ہے جس کے لیے پاکستان بیڈمنٹن فیڈریشن نے چھ رکنی کا انتخاب کر رکھا ہے لیکن اس کی شرکت کا انحصار بھارتی حکومت کی کلیئرنس پر ہے۔

فائل فوٹو
Image caption پاکستان بیڈمنٹن فیڈریشن کو صرف چار لاکھ روپے کی گرانٹ ملتی ہے جو ناکافی ہے: نقی محسن

پاکستان بیڈمنٹن فیڈریشن کے سینیئر نائب صدر نقی محسن نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی سکواڈ کی ویزا درخواست بھارتی ہائی کمیشن کو پہلے ہی دی جاچکی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ ویزے اسی وقت جاری ہونگے جب انھیں بھارتی وزارتِ داخلہ کی طرف سے کلیئرنس ملے گی۔

نقی محسن نے نامہ نگار عبدالرشید شکور کو بتایا کہ وہ بھارتی بیڈمنٹن حکام سے ای میل اور فون کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں اور اس ضمن میں وہ پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک سے بھی رابطہ کرنے والے ہیں تاکہ پروگرام کے مطابق دس اپریل کو واہگہ کے راستے پاکستانی کھلاڑیوں کی روانگی ممکن ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی کھلاڑی ایشین بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں حصہ نہ لے سکے تو پاک بھارت کھیلوں کے روابط کے ضمن میں یہ اچھا نہیں ہوگا۔

نقی محسن نے کہا کہ ایشیائی ایونٹ کے لیے جس چھ رکنی ٹیم کا انتخاب لاہور میں منعقدہ ٹرائلز کے ذریعے عمل میں آیا ہے اس میں واجدعلی، عمرذیشان، رضوان اعظم، کاشف سلہری، پلوشہ بشیر اور سارہ خان شامل ہیں۔

پاکستان بیڈمنٹن فیڈریشن کے سینیئر نائب صدر نے کہا کہ مالی وسائل کی کمی اس کھیل کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔پاکستان سپورٹس بورڈ نے صرف ڈیڑھ ماہ کے لیے تربیتی کیمپ لگائے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس طرح کی ٹریننگ کے بعد ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستانی کھلاڑی بھارت سری لنکا یہانتک کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔

انہوں نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ملائیشین کوچ کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جس کے نتیجے میں اس نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

نقی محسن نے کہا کہ پاکستان بیڈمنٹن فیڈریشن کو صرف چار لاکھ روپے کی گرانٹ ملتی ہے جو ناکافی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کافی تگ ودو کے بعد وہ وزارتِ کھیل کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ چینی کوچ کی خدمات حاصل کی جائیں ۔

اسی بارے میں