’افغان کرکٹ ٹیم اپ سیٹ کے لیے تیار‘

افغانستان کی کرکٹ ابھی صرف دو سال پر محیط ہے لیکن اِن دو برسوں میں افغان کرکٹرز نے اپنی شاندار کارکردگی سے دنیا کو چونکا دیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption افغانستان کی کرکٹ ٹیم نے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی تیاری کے لیے شارجہ کا انتخاب کیا

ورلڈ کرکٹ لیگ ڈویژن پانچ سے شروع ہونے والا سفر افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو ون ڈے انٹرنیشنل کی دنیا میں لے آیا ہے اور انہی دو برسوں کے شاندار نتائج کی بدولت یہ ٹیم ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی تک بھی پہنچی ہے جس میں وہ گروپ سی میں بھارت اور جنوبی افریقہ کے ساتھ ہے۔

افغانستان کی کرکٹ ٹیم نے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی تیاری کے لیے شارجہ کا انتخاب کیا۔ شارجہ کرکٹ کے روحِ رواں عبدالرحمٰن بخاتر نے شارجہ کرکٹ سٹیڈیم کو افغان ٹیم کا ہوم گراؤنڈ قرار دیا ہے۔

شارجہ میں پٹھانوں کی بہت بڑی تعداد رہتی ہے اور جب بھی افغان ٹیم میچز کھیلنے شارجہ سٹیڈیم میں آئی تو اُس کی حوصلہ افزائی کے لیے شائقین بڑی تعداد میں وہاں نظر آئے۔

افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے کوچ کبیر خان کی سوچ ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں شرکت کے بارے میں بالکل واضح ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’بھارت اور جنوبی افریقہ دو بڑی ٹیمیں ہیں لیکن اُن کے کھلاڑی اِن ٹیموں سے مرعوب نہیں ہیں کیونکہ جب آپ جیت کے جذبے کے ساتھ میدان میں نہیں اتریں گے تو کبھی بھی جیت نہیں سکیں گے اور اُن کی ٹیم ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں شرکت برائے شرکت کی سوچ کے ساتھ نہیں کھیل رہی ہے۔‘

تو کیا آپ کسی چونکا دینے والے نتائج کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں کبیر خان نے الٹا سوال ہی کر ڈالا ’ کیا یہ ممکن نہیں ہے؟ اگر پاکستان کی ٹیم آئرلینڈ سے ہارسکتی ہے، بنگلہ دیش کی ٹیم بھارت کو شکست دے سکتی ہے اور انگلینڈ کو ہالینڈ کی ٹیم ہرا سکتی ہے تو افغانستان کی ٹیم کیوں نہیں جیت سکتی۔‘

کبیر خان کہتے ہیں ٹی ٹوئنٹی کا فارمیٹ اُن کے کھلاڑیوں کے لیے موافق رہا ہے۔ ’ہمارے کھلاڑی افغانستان میں عام طور پر پچیس اوورز کی کرکٹ ہی کھیلتے ہیں۔جب وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں آئے تو پچاس اوورز کی کرکٹ کے عادی نہیں تھے لیکن انہوں نے اس مشکل پر بھی قابو پالیا۔‘

کبیرخان کو اس بات کا افسوس ہے کہ افغانستان کو سنہ دو ہزار تیرہ تک ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے کا استحقاق تو مل گیا لیکن کرکٹ کھیلنے کو نہیں مل رہی۔

’اس معاملے میں ہم اپنے ہمسایہ ملکوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کیونکہ آسٹریلیا سمیت بڑی ٹیمیں تو ابھی ہم سے نہیں کھیلیں گی ۔ پاکستان، بھارت سری لنکا اور بنگلہ دیش کو ہم سے کھیلنا چاہئے تاکہ ہم اپنی کرکٹ بہتر بناسکیں اور اپنا ون ڈے اسٹیٹس برقرار رکھ سکیں۔‘

کیا طالبان افغانستان میں کرکٹ کی مخالفت تو نہیں کرتے ؟ اس سوال کے جواب میں کبیر خان کہتے ہیں’نہیں اِس کی وجہ یہ ہے کہ کرکٹ طالبان کے دور ہی میں شروع ہوئی تھی لہذا وہ اس کی مخالفت نہیں کرتے۔‘

کبیر خان سے جب افغانستان کی کرکٹ ٹیم کی مختصر عرصے میں شاندار کارکردگی کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے اس کا جواب یوں دیا ’جیت کی بھوک، ہر کھلاڑی کچھ کردکھانے کے لئے میدان میں اترتا ہے اور جیتنے کے لئے کھیلتا ہے۔‘