عمرگل اور یاسر عرفات سکواڈ سے باہر

فاسٹ بالر عمر گل اور آل راؤنڈر یاسر عرفات کو ان فٹ ہونے کے سبب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے پندرہ رکنی سکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی اردو کی مناء رانا کے مطابق سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین محسن خان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کوچ اور کپتان کے مشورے سے کیا گیا ہے کیونکہ نامکمل فٹنس کے ساتھ کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنا دانشمندی نہیں۔

محسن خان اور کوچ وقار یونس نے ان دونوں کھلاڑیوں کی جگہ میڈیم فاسٹ بالر محمد سمیع اور نوجوان بالر محمد عرفان کو سکواڈ میں شامل کیا ہے تاہم ان دونوں کی شمولیت پر پی سی بی کے چیئرمین سے باضابطہ منظوری لینا ابھی باقی ہے۔

یاسر عرفات کی پنڈلی میں تکلیف کے سبب ان کی ورلڈ کپ میں شرکت کے امکانات تو پہلے ہی کافی معدوم تھے لیکن عمر گل کے بارے میں یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ کاندھے میں ہونے والی تکلیف سے چھٹکارا پا کر ورلڈ کپ میں شرکت کر سکیں گے۔ تاہم رواں ہفتے کے اختتام پر ان کے طبی معائنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ وہ ورلڈ کپ تک مکمل فٹ نہیں ہو سکیں گے۔

فاسٹ بالر عمر گل کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی طرف سے نہ کھیل سکنا پاکستان کی ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ عمر گل چھبیس ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں تنتالیس وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جو اس طرز کی کرکٹ میں کسی بھی بولر کی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ عمرگل دونوں ٹوئنٹی ٹوئنٹی عالمی مقابلوں میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر بھی ہیں۔ 2007ء میں جنوبی افریقہ میں منعقدہ پہلے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں انہوں نے تیرہ وکٹیں حاصل کی تھیں اور گزشتہ سال انگلینڈ میں کھیلے گئے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں بھی ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد تیرہ تھی۔

یاسر عرفات گزشتہ سال بھی ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی ٹیم میں شامل تھے لیکن انگلینڈ کے خلاف میچ کے بعد ان فٹ ہوکر وہ عالمی ایونٹ سے باہر ہوگئے تھے اور ان کی جگہ عبدالرزاق کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

عمر گل اور یاسر عرفات کی جگہ ٹیم میں شامل کیے جانے والے کھلاڑیوں میں سے محمد سمیع اگرچہ طویل عرصے سے پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں تاہم وہ ابھی تک کوئی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلے ہیں جبکہ طویل القامت فاسٹ بالر محمد عرفان پاکستان کی بین الاقوامی کرکٹ میں ایک نیا نام ہے۔

تیسرا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تیس اپریل سے سولہ مئی تک ویسٹ انڈیز میں منعقد ہوگا اور اس میں پاکستان اپنے اعزاز کا دفاع کرے گا۔

اسی بارے میں