آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 اپريل 2010 ,‭ 21:11 GMT 02:11 PST

’چین میں کرکٹ کلچر نہیں‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

چین کی کرکٹ ٹیم کے پاکستانی کوچ راشد خان کے خیال میں چین سے بہت جلد غیرمعمولی کارکردگی کی توقع نہ رکھی جائے کیونکہ وہاں ابھی تک کرکٹ کلچر موجود نہیں۔

راشد خان چین کے چھ کرکٹرز کے ساتھ ان دنوں تربیتی دورے پر کراچی آئے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ چینی کرکٹرز کو اس سال نومبر میں اپنے ہی ملک میں ہونے والے ایشین گیمز میں کرکٹ میں بھی قسمت آزمائی کرنی ہے۔

راشد خان

چین کی کرکٹ ٹیم کے پاکستانی کوچ راشد خان

ایشین گیمز میں کرکٹ کو پہلی مرتبہ شامل کیا گیا ہے اور یہ ایونٹ ٹوئنٹی ٹوئنٹی پر مشتمل ہے۔

راشد خان جو پاکستان کی طرف سے چار ٹیسٹ اور انتیس ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں تین سال سے چین میں کوچنگ کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

راشد خان نے بی بی سی کودیے گئے انٹرویو میں کہا کہ چین میں ابھی تک کرکٹ کلچر نہیں ہے وہاں کلب کرکٹ نہیں ہوتی البتہ تعلیمی اداروں میں کرکٹ کے مقابلے باقاعدہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل نے بھی چین میں کرکٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ پاکستان اور چین کے دوستانہ تعلقات کی وجہ سے بھی کرکٹ کو آ گے بڑھنے میں مدد ملے گی۔

راشد خان نے کہا کہ جاوید میانداد کا کرکٹ سفیر کے طور پر تقرر اسی سلسلے کی کڑی ہے تاہم جب وہ چین آئے تو وہاں کے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ کتنے بڑے کرکٹر ہیں لیکن جب وہ ملائشیا گئے تو پتہ چلا کہ وہ بہت بڑے کھلاڑی ہیں۔ ان کا وسیع تجربہ اور شخصیت چین میں کرکٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

راشد خان نے کہا کہ جب وہ کوچ کی حیثیت سے چین گئے تو وہاں بیس بال کے انداز میں بیٹنگ کی جاتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی ٹیم نے ہانگ کانگ میں بھی میچز کھیلے جبکہ بنکاک میں کھیلے گئے ٹورنامنٹ میں ان کی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچی۔

راشد خان نے کہا کہ چین کا کرکٹ میں افغانستان سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ افغانستان میں کرکٹ کلچر موجود ہے اور اس کےکرکٹرز کرکٹ کھیلتے اور دیکھتے آئے ہیں ۔یہ کرکٹرز پشاور آکر بھی کھیلتے رہے ہیں۔

راشد خان نے کہا کہ چین میں خواتین بھی کرکٹ کھیل رہی ہیں اور اس کے لیے ایک بھارتی خاتون کوچ ممتا کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔