آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 اپريل 2010 ,‭ 16:52 GMT 21:52 PST

’فٹ ہوں کھلانا بورڈ کا کام ہے‘

شعیب اختر ایک سال سے بین الاقوامی کرکٹ سے دور ہیں لیکن امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔ اسی امید کے سہارے انہوں نے پنٹنگولر کپ کے ایک میچ میں چھ وکٹیں حاصل کرڈالیں۔

کافی عرصے بعد ان کی جانب سے اس طرح کی کارکردگی سامنے آئی جس سے یہ اندازہ ہوا کہ فارم اور فٹنس کا معاملہ تو ٹھیک ہے سوال پاکستانی ٹیم میں واپسی کا ہے۔

شعیب اختر کی اس بارے میں سوچ بالکل واضح ہے’ میں مکمل فٹ ہوں ۔میرا کام فٹنس اور فارم دکھانا ہے جو میں دکھارہا ہوں ٹیم میں شامل کرنا بورڈ کا کام ہے‛۔

واپسی کے بارے میں کیاکوئی خاص وقت یا سیریز ذہن میں ہے ؟ اس سوال کے جواب میں شعیب اختر کہتے ہیں ’ اس سال پاکستانی ٹیم کا سیزن بہت زیادہ مصروف ہے ظاہر سی بات ہے میں جلد سے جلد ٹیم میں واپسی کے متعلق سوچ رہا ہوں ۔ میرے ذہن میں اب صرف یہی ہے کہ ٹیم میں آؤں اور اس کی جیت میں اپنا کردار ادا کرسکوں‛۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

شعیب اختر کی توجہ کسی ایک طرز کی کرکٹ پر مرکوز نہیں ہے’ میں تینوں طرز کی کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھاسکتا ہوں۔ ٹیسٹ کرکٹ پر بھی میری توجہ اتنی ہی ہے جتنی ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی پر ہے میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ منیجمنٹ مجھے وقفے سے کھلاکر بہترین کارکردگی حاصل کرے کیونکہ مجھے ’ برن آؤٹ‛ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے‛۔

اس وقت بڑی تعداد میں بولرز موجود ہیں تو کیا واپسی آسان ہوگی ؟ شعیب اختر کہتے ہیں ’ میرا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔میرا گھٹنہ پاکستان کے لئے کھیلتے ہوئے خراب ہوا جس کا میں آپریشن کراچکا ہوں اور ظاہر ہے کہ اس طرح کے آپریشن کے بعد آرام اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے جو میں کرچکا ہوں‛۔

شعیب اختر کی دیرینہ خواہش ورلڈ کپ فائنل میں شرکت اور جیت ہے’ اب میرے دل میں اس سے بڑی خواہش اور بڑا خواب اور کوئی نہیں کہ ممبئی میں پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کا فائنل جیتے اور وہ اس فاتح ٹیم میں شامل ہوں‛ ۔

شعیب اختر کو اس بات پر افسوس ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ انہیں شامل نہیں کیا جائے گا اپنے نام آئی پی ایل میں بھیجے۔

’ مجھے پتہ تھا کہ آئی پی ایل میں پاکستانی کرکٹرز کو شامل نہیں کیا جائے گا لہذا میں نے اپنا نام بھیجنے میں دلچسپی نہیں لی لیکن دوسروں نے اپنے نام بھیجے۔ پاکستان کی عزت ہے وقار ہے اور صرف پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ آئی پی ایل کے بغیر بھی پاکستان کی کرکٹ چل رہی ہے اور کوئی بھوکا نہیں مرتا لیکن اس میں شرکت اسی صورت میں ہو جب پاکستان اور پاکستانی کرکٹرز کی عزت کی جائے‛۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔