’ٹوئنٹی ٹوئنٹی ان کے خون میں شامل ہے‘

کپتان شاہد آفریدی کے لئے بہت بڑا چیلنج ہوگا کہ وہ ٹیم کو میدان میں کس طرح اکٹھا رکھتے ہیں: رمیز راجہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستانی کرکٹرز کی متاثرکن کارکردگی دیکھتے ہوئے سابق کپتان رمیز راجہ کو توقع ہے کہ تیسرے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں بھی وہ حریف ٹیموں کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہونگے کیونکہ مختصر دورانیے کی کرکٹ ان کے خون میں شامل ہے۔

رمیز راجہ نے کراچی میں بی بی سی سے کے نامہ نگار عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کوئی بھی ٹیم فیورٹ نہیں ہوتی ۔’آپ افغانستان سے بھی چونکادینے والی کارکردگی کی توقع کرسکتے ہیں تاہم اس طرز کی کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا شاندار ریکارڈ دیکھتے ہوئے آپ اسے نظرانداز نہیں کرسکتے‘ ۔

رمیز راجہ نے کہا کہ ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی سے قبل کرکٹرز پر پابندیوں اور جرمانوں والا معاملہ اور پھر سلیکشن کے جو معاملات رہے اس میں کپتان شاہد آفریدی کے لیے بہت بڑا چیلنج ہوگا کہ وہ ٹیم کو میدان میں کس طرح اکٹھا رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمرگل کی کمی یقیناً محسوس ہوگی جو ان فٹ ہونے کے سبب ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

سابق کپتان عامر سہیل بھی پاکستانی ٹیم کو نظرانداز کرنے کے لیے تیار نہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ جیت کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی ٹیم وکٹ اور کنڈیشن کو اچھی طرح سمجھے اور صحیح حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے۔

پاکستانی ٹیم کے سلیکشن کے بارے میں عامر سہیل کا کہنا ہے کہ ’جب آپ عالمی مقابلے یا کسی بڑے ایونٹ کے لیے حکمت عملی تیار کرتے ہیں تو اس میں اے اور بی پلان دونوں ہوتے ہیں آپ نے پہلے اپنا سارا زور پیس اٹیک پر رکھا تھا لیکن متبادل کھلاڑی کا وقت آیا تو آپ نے ایک سپنر کو فاسٹ بولر کی جگہ شامل کیا جو آپ کی حکمت عملی کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے‘۔

عامر سہیل کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو جیت کے لیے تیز بولرز کی عمدہ کارکردگی پر انحصار کرنا ہوگا کہ وہ ابتدا میں وکٹیں حاصل کرکے سپنرز کو بیٹسمینوں پر دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کریں۔

عامرسہیل یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ٹی ٹوئنٹی بے یقینی کی حامل کرکٹ ہے بلکہ وہ اسے سمجھ بوجھ کی کرکٹ قرار دیتے ہیں جس میں ہر کرکٹر کو اپنا رول معلوم ہوناچاہیے اور اگر حالات کے مطابق نہیں کھیلا جاتا تو پھر یہ بے یقینی کی کرکٹ بن جاتی ہے۔

اسی بارے میں