کارکردگی کے باوجود ڈراپ

اوپننگ بیٹسمین شاہ زیب حسن کا شمار ان نوجوان بلے بازوں میں ہوتا ہے جو پاکستانی ٹیم میں آتے ہیں پھر ایک ہی بار ان کو کھلانے کے بعد دوبارہ موقع نہیں ملتا۔

شاہ زیب انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل تھے لیکن اس کے بعد ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے۔

شاہ زیب حسن

بیس سالہ شاہ زیب حسن کہتے ہیں کہ’مایوس تو بہت ہوں لیکن شاید یہی میرے نصیب میں تھا۔مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ میں ٹیم سے باہر بھی ہوسکتا ہوں کیونکہ کیمپ میں میری کارکردگی اچھی رہی تھی اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی میں نے رنز سکور کیے ہیں‘۔

شاہ زیب حسن نے گزشتہ سال اس وقت شہ سرخیوں میں جگہ بنائی تھی جب انہیں انگلینڈ میں کھیلے گئے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے لیے پاکستانی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔اس سیزن میں انہوں نے چھ سو سے زائد فرسٹ کلاس رن بنانے کے علاوہ ایک روزہ کرکٹ میں بھی ڈھائی سو رن بنائے تھے اور یہ کارکردگی دیکھ کر راشد لطیف اور باسط علی نے کپتان یونس خان کو تجویز پیش کی تھی کہ اس نوجوان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔

ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے چار میچوں میں اگرچہ شاہ زیب حسن نے کوئی بڑی اننگز نہیں کھیلی تھی لیکن وکٹ پر مختصر قیام میں ان کی ہر اننگز میں جارحانہ انداز ضرور جھلک رہا تھا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف پینتیس رنز کی اننگز میں انہوں نے چار چوکے اور دو چھکے لگائے تھے۔آئرلینڈ کے خلاف میچ میں ان کی تئیس رنز کی اننگز میں تین چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ فائنل میں انہوں نے انیس رنز کی اننگز میں تین چوکے لگائے تھے۔

ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے بعد شاہ زیب حسن ریزرو کھلاڑیوں میں تو جگہ بنانے میں کامیاب رہے لیکن حتمی سکواڈ میں ان کی جگہ نہیں بنی۔

ٹیم کے اعلان کے بعد جب شاہد آفریدی کو قیادت کی ذمہ داری سونپ دی گئی تو وہ اپنی اس خواہش کو نہ چھپا سکے کہ اگر ٹیم کی تشکیل میں ان کی رائے شامل ہوتی تو محمد سمیع اور شاہ زیب ان کی ٹیم میں ضرور ہوتے۔

عمرگل اور یاسرعرفات کے ان فٹ ہونے کے بعد جب متبادل کھلاڑیوں کی ٹیم میں شمولیت کا معاملہ آیا تو اس وقت بھی شاہ زیب حسن کو حتمی سکواڈ میں شامل کرنے کی آوازیں بلند ہوئی تھیں۔

شاہ زیب کہتے ہیں’ میری کوشش ہے کہ میں ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز بناکر جلد سے جلد ٹیم میں جگہ بناؤں۔‘

گزشتہ دنوں ختم ہونےوالے پنٹنگولر کپ ایک روزہ ٹورنامنٹ میں شاہ زیب حسن دو سو چھیالیس رنز کے ساتھ سب سے کامیاب بیٹسمین ثابت ہوئے۔ انہوں نے تین نصف سنچریاں بھی بنائیں۔

اس سال قائداعظم ٹرافی میں بھی انہوں نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے دو سنچریوں اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے سات سو پچھتر رنز سکور کیے۔

اس سال پاکستان کو انگلینڈ کے دورے میں چار ٹوئنٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلنے ہیں جس کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں بھی اس کے دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ہیں۔