آسٹریلیا کی انچاس رنز سے جیت

آسٹریلوی اوپنر شین واٹسن نے جارحانہ اننگز کھیلتے ہوئے بتیس گیندوں پر چھ چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے چون رنز بنائے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے کے میچ میں آسٹریلیا کے ایک سو ایک چوراسی رنز کے جواب میں بھارت کی ٹیم ایک سو پینتیس رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی ہے۔

185 رن کے تعاقب میں بھارت کی ٹیم اننگز کے شروع میں ہی دباؤ میں نظر آ رہی تھی اور پہلے پانچ اوور میں اس کے تئیس رنز پر چار کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔

بھارت کے آٹھ بلے باز ڈبل فگر میں نہیں جا سکے تاہم بھارت کی جانب سے بلے باز شرما نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور انھوں نے تینتیس گیندوں پر پچاس رنز بنائے۔ وہ اناسی رنز کے ساتھ ناٹ آوٹ رہے۔

بھارت کی پہلی وکٹ تیسرے اوور میں بلے باز وجئے کی گری جو دس گیندوں پر دو رنز بنا سکے۔ دوسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی گوتم گھبیر تھے جو دس گیندوں پر دو چوکوں کی مدد سے نو رنز بنا سکے۔اس وقت بھارت کا مجموعی سکور بارہ رنز تھا۔

اس کے بعد بلے باز شرما کے علاوہ بھارت کا کوئی کھلاڑی بھی آسٹریلوی بالروں کی عمدہ بالنگ کے سامنے جم کر نہیں کھیل سکا اور اٹھارہویں اوور میں ساری ٹیم ایک سو پینتیس رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

آسٹریلیا کی جانب سے بالر نینیز اور ٹیٹ نے تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔

اس سے پہلے برج ٹاؤن میں کھیلے جا رہے اس میچ میں بھارت نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی اور آسٹریلیا نے مقررہ بیس اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر ایک سو چوراسی رنز بنائے تھے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

آسٹریلوی اوپنر شین واٹسن نے جارحانہ اننگز کھیلتے ہوئے بتیس گیندوں پر چھ چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے چون رنز بنائے جبکہ دوسرے اوپنر ڈیوڈ وارنر چالیس گیندوں پر سات چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے بہتر رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

دونوں بلے بازوں کے درمیان ایک سو چار رنز کی شراکت ہوئی۔

بھارت کی جانب سے اشیش نہرا اور یوراج سنگھ نے دو، دو جبکہ یوسف پٹھان نے ایک وکٹ حاصل کی۔

اس میچ کے لیے بھارتی ٹیم میں تین جبکہ آسٹریلوی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے۔ بھارتی ٹیم میں دنیش کارتک کی جگہ گوتم گمبھیر، پیوش چاؤلہ کی جگہ روہت شرما اور پروین کمار کی جگہ ظہیر خان کو شامل کیا گیا ہے جبکہ آسٹریلوی ٹیم میں مچل جانسن کی واپسی ہوئی ہے۔

بھارت اور آسٹریلیا کی ٹیمیں ابتدائی راؤنڈ میں اپنے دونوں میچ جیت کر سپر ایٹ مرحلے میں پہنچی ہیں اور ان دونوں ٹیموں کو اس برس کا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں