انسدادِ منشیات کے ضابطوں کی ڈیڈ لائن

واڈا کے ڈائریکٹر جنرل ڈیوڈ ہاؤمین
Image caption واڈا کے ڈائریکٹر جنرل ڈیوڈ ہاؤمین نے آئی سی سی سے اصرار کیا ہے کہ انڈیا کو آخری مہلت دی جائے۔

کھیلوں میں انسداد منشیات کے عالمی ادارے ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے انٹرنیشل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو ڈوپنگ کے نئے ضابطوں پر عمل کرانے کے لیے نومبر دوہزار گیارہ کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

گزشتہ سال انڈین کرکٹروں نے واڈا کے نئے ضابطوں کی اس شق کو مسترد کر دیا تھا جس کے تحت تمام ایتھلیٹس سے کہا گیا تھا کہ وہ روزانہ اپنے ایک گھنٹے کی تفصیلات سے ڈوپنگ حکام کو آگاہ کریں۔

ان کرکٹر کا کہنا تھا کہ اس شق سے ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس سے ان کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

لیکن واڈا کے ڈائریکٹر جنرل ڈیوڈ ہاؤمین نے آئی سی سی سے اصرار کیا ہے کہ انڈیا کو آخری مہلت دی جائے۔

ہر چند کہ آئی سی سی واڈا ضابطوں کی توثیق کرنے والوں میں شامل ہے لیکن اس نے انڈین کھلاڑیوں کی مخالفت کی وجہ سے کوئف کے بارے میں یکم جنوری دو ہزار نو سے نافذ اس شق پر عمل نہیں کیا۔ انڈین کھلاڑیوں کو اس سلسلے میں اپنی گورننگ باڈی بورڈ فار کرکٹ کنٹرول اِن انڈیا (بی سی سی آئی) کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔

واڈا کے کے ضابطے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ کھلاڑی مقابلوں میں نہ ہوتے ہوئے بھی روزانہ ایک گھنٹے اور سال کے تین سو پینسٹھ دن دستیاب رہیں اور کسی بھی مقابلے سے تین ماہ قبل اپنے کوائف سے مکمل طور پر لازماً آگاہ کریں۔

ان ضابطوں میں اس بات کی بھی صراحت کی گئی ہے کہ ایتھلیٹس جب ایک گھنٹے کے لیے دستیاب ہوں گے تو پورے ایک گھنٹے کے لیے موجود رہیں گے نہ کہ گھٹنے کے دوران کسی وقت یا تھوڑی دیر کے لیے اور اپنی بتائی ہوئی جگہ سے کہیں اور بھی نہیں جائیں گے۔

ان ضابطوں کے مطابق اگر کوئی کرکٹر اٹھارہ ماہ کے دوران تین بار غیر حاضر رہے گا تو اسے دو سال کے لیے عالمی کرکٹ سے باہر کیا جا سکتا ہے۔

ہاؤمین جو کھیلوں میں منشیات کی روک تھام کے لیے ایک بین الحکومتی اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی میں ہیں، ضابطوں کے بارے میں انڈین خدشات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’تیرہ ہزار سے زائد کھلاڑی روزانہ اپنے کوائف دے رہے ہیں، اس لیے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ نہ تو اس میں کوئی آئینی مشکل ہے اور نہ ہی کسی کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہوتی ہے لیکن اگر کرکٹر مجھ سے اس معاملے میں بات کرنا چاہیں گے تو مجھے انتہائی خوشی ہو گی‘۔

ہاؤمیں نے مزید کہا کہ ’ہم بی سی سی آئی سے کہیں گے کہ وہ انڈیا میں اینٹی ڈوپنگ کے ادارے کے ساتھ مل کر اینٹی ڈوپنگ کا ایسا پروگرام بنائیں جو انڈیا کے حالات سے مناسبت رکھتا ہو‘۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے واڈا کے ضابطوں کی توثیق کی ہے اور واڈا کے ضابطوں پر عمل کی پابند ہے، اس نے تین سال میں بہت کچھ کیا ہے اور اب اسے اس سلسلے میں ایک آخری کوشش کرنی چاہیے‘۔

واڈا کے ضابطوں پر اختلافات محض کرکٹ تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے بھی ان ضابطوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے جب کہ ٹینس میں دنیا کے معروف کھلاڑی رافیل ندال کا ان ضابطوں کے بارے میں کہنا ہے کہ ’ہمارے کھیل میں نشہ آوور اشیا کے استعمال کے طریقے ایسے ہیں کہ کھلاڑی خود کو جرائم پیشہ محسوس کرنے لگتے ہیں‘۔

اسی بارے میں