سکرپٹ کا ’ہیپی اینڈ‘

شعیب اختر اور شعیب ملک
Image caption شعیب اختر اور شعیب ملک کو ٹیم میں دوبارہ شامل کر لیا گیا ہے

پاکستانی کرکٹ میں آسٹریلوی دورے کے بعد جو طوفان اٹھا تھا وہ بظاہر تھم چکا ہے لیکن یہ سوال پھر بھی موجود ہے کہ کہیں یہ خاموشی کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ تو نہیں بنے گی۔

شعیب اختر کی ٹیم میں واپسی اکثر شہ سرخیوں میں رہی ہے لیکن اس مرتبہ ان کی واپسی کی خبر ایک دوسرے شعیب کی واپسی کی وجہ سے اپنا رنگ نہیں دکھاسکی۔

شعیب ملک جن کے بارے میں آسٹریلوی دورے کے منیجر، کوچ اور کپتان نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم میں موجودگی مبینہ سازش کوجنم دیتی ہے اور انہی رپورٹس کی روشنی میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان پر ایک سالہ پابندی اور بیس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا کسی ڈرامے کے سکرپٹ کی طرح ان کی واپسی ٹیم میں ہوگئی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلوی دورے میں جن کھلاڑیوں کو سزا سنائی تھی انہیں اپیل کا حق دیتے ہوئے جسٹس ( ریٹائرڈ) عرفان قادر کو اس کی سماعت کے لیے مقرر کیا تھا لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اس ایک رکنی ٹریبونل کے فیصلے سے قبل ہی شعیب ملک اور یونس خان کو ممکنہ پنتیس کھلاڑیوں میں شامل کر لیاگیا۔

ایک رکنی ٹریبونل کی سماعت سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب ملک پر سے پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر ڈالا اور اب شعیب ملک کی ٹیم میں شمولیت اس سکرپٹ کا ہیپی اینڈ کہی جا سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ یہ کہتا ہے کہ تین ماہ میں اس نے شعیب ملک کے رویے میں مثبت تبدیلی دیکھی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تین مہینوں میں تو شعیب ملک کرکٹ سے دور رہے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شعیب ملک کی ٹیم میں شمولیت پر کپتان شاہد آفریدی کو تحفظات تھے لیکن انہیں دوسروں کا یہ فیصلہ بادل نخواستہ قبول کرنا پڑا۔

ماضی میں ان دونوں کے تعلقات خوشگوار نہیں رہے ہیں خصوصاً جب شعیب ملک کپتان تھے تو شاہد آفریدی نے ان کے رویے پر کئی مرتبہ تنقید کی۔

یہاں رانا نوید الحسن کا ذکر بھی ضروری ہے جو شعیب ملک ہی کی طرح ایک سالہ پابندی کی زد میں تھے لیکن جب شعیب ملک اور یونس خان کو ممکنہ پنتیس کھلاڑیوں میں شامل کیا اسوقت بھی وہ نظرانداز کردیےگئے اور اب ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے اور وہ انصاف کے لیے عدالت میں جانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

اسی آسٹریلوی دورے میں کامران اکمل اور عمراکمل بھی جرمانوں کی زد میں آئے تھے ۔ان دونوں بھائیوں کی اپیلوں کی سماعت ابھی نہیں ہوئی ہے لیکن ایشیا کپ کے لیے ٹیم کی پریس کانفرنس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ ان دونوں کے جرمانے نصف کر دیئے گئے ہیں۔ یہی نہیں انہوں نے شاہد آفریدی پر عائد جرمانہ بھی مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کر ڈالا کیونکہ بقول ان کے ایک جرم پر دو سزائیں نہیں دی جاسکتی تھیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اس طرح کے فیصلے اور اس کے اعلانات پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ ہی نے کرنے ہیں تو پھر ایک رکنی ٹریبونل قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

اسی بارے میں