جان ہاورڈ کی مخالفت بلاجواز، مانی

انڑنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی نے کہا ہے کہ آئی سی سی کے نائب صدر کی حیثیت سے سابق آسٹریلوی وزیراعظم جان ہاورڈ کی نامزدگی نے آئی سی سی کو دوحصوں میں تقسیم کردیا ہے۔

احسان مانی، فائل فوٹو

اُن کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے جان ہاورڈ کی بطور نائب صدر نامزدگی کی سخت مخالفت کررہے ہیں۔

دوسری جانب انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے آئی سی سی کے موجودہ صدر ڈیوڈ مورگن جان ہاورڈ کی حمایت حاصل کرنے کے لئے بھارت سے رابطے میں ہیں۔

آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی اس صورتحال کا ذمہ دار بھارتی کرکٹ بورڈ کو قرار دیتے ہیں۔

بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں احسان مانی نے کہا ’یہ سب بھارتی کرکٹ بورڈ کی شرارت ہے ۔ جنوبی افریقہ اور زمبابوے جان ہاورڈ کی مخالفت میں جو کچھ کہہ رہے ہیں درحقیقت بھارتی کرکٹ بورڈ اُن کے کندھے پر بندوق چلارہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ سری لنکا نے بھی جان ہاورڈ کی نامزدگی کی مخالفت کی اور جب اِسے چیلنج کیا گیا تو سری لنکا کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کی خواہشات کے خلاف نہیں جاسکتا۔

اس سوال پر کہ اِس میں بھارتی کرکٹ بورڈ کا کیا فائدہ ہے؟ احسان مانی نے کہا ’چونکہ آئی سی سی کے اگلے صدر بھارت کے شردپوار ہونے والے ہیں اس لئے بھارت نہیں چاہے گا کہ کوئی طاقتور شخص نائب صدر بنے اور وہ یہی چاہے گا کہ کوئی ایسا شخص اُس کے ساتھ ہو جو اُن کی بات سنے اور مانے جبکہ جان ہاورڈ غیرجانبدار شخص ہیں اور وہ کسی دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں۔‘

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق احسان مانی نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ جنوبی افریقہ پر یہ ہمدردانہ تاثر بھی قائم کرنا چاہتا ہے کہ جان ہاورڈ آسٹریلوی وزیراعظم کی حیثیت سے زمبابوے کے خلاف رہے تھے حالانکہ وہ زمبابوے کی حکومت کے خلاف تھے کرکٹ کے خلاف نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جان ہاورڈ کی نامزدگی آئی سی سی کے قواعد وضوابط کے مطابق ہے لیکن انہیں افسوس ہے کہ اس ضمن میں بہت بڑا سیاسی کھیل کھیلا جارہا ہے۔

احسان مانی کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے میں خود کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے حکومت سے رہنمائی لینے کی بات کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں حکومت کا کوئی دخل نہیں ہوناچاہئے بلکہ یہ میرٹ پر ہوناچاہئے۔ آج اگر پاکستان کرکٹ بورڈ جان ہاورڈ کے معاملے پر حکومت سے پوچھے گا تو کل کیا وہ اس بارے میں بھی حکومت سے پوچھے گا کہ اسے ٹی وی نشریاتی حقوق کسے دینے چاہئیں اور کسے نہیں؟۔

احسان مانی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ جان ہاورڈ کے آئی سی سی میں آنے کے بعد کرکٹ ممالک دو حصوں میں بٹ سکتے ہیں ۔انہوں نے اس ضمن میں جگ موہن ڈالمیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ انہیں پسند نہیں کرتے تھے لیکن ڈالمیا نے آئی سی سی کا صدر بننے کے بعد ہر رکن ملک کے ساتھ یکساں انداز اختیار کیا۔

جہاں تک جان ہاورڈ کا تعلق ہے انہیں یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ وہ سب کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کرینگے کیونکہ وہ کرکٹ سے محبت کرنے والے شخص ہیں۔

اسی بارے میں