یونس خان پر عائد پابندی بھی ختم

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قائم کی جانےوالی ایک رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے سابق کپتان یونس خان پرعائد غیر معینہ مدت کی پابندی کی سزا ختم کر دی ہے۔

اس بات کا اعلان ٹربینول کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ عرفان قادر نے پانچ جون کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں یونس خان کی اپیل کی سماعت کے بعد کیا۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یونس خان کی اپیل منظور کر لی گئی ہے اور اس حوالے سے پی سی بی کی تحقیقاتی کمیٹی کا فیصلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اپیل کی سماعت کے موقع پر یونس خان موقع پر موجود نہ تھے اور ان کی نمائندگی ان کے وکیل نے کی۔

جسٹس ریٹائرڈ عرفان قادر نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے شاہد آفریدی پر بال ٹمپرنگ کرنے پر عائد تیس لاکھ کا جرمانہ معاف کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں آئی سی سی کا قانون ہے کہ ایک ہی غلطی کی دو سزائیں نہیں دی جا سکتیں اور جب آفریدی آئی سی سی کی جانب سے بال ٹپمرنگ کی سزا بھگت چکے ہیں تو انہیں جرمانہ نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس (ر) قادر کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمر اور کامران اکمل پر عائد بیس اور تیس لاکھ جرمانے کی رقم بھی کم کر کے دس دس لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے اکمل برادران کے جرمانے کی رقم نصف کرنے کو کہا تھا تاہم چونکہ شعیب ملک کے جرمانے کی رقم کمی کے بعد دس لاکھ روپے طے ہوئی تھی اس لیے برابری کے اصول پر انہوں نے اکمل برادران کو بھی دس دس لاکھ روپے جرمانہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رانا نوید کی اپیل کی سماعت سولہ جون کو ہو گی۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی شرمناک شکست کے بعد بورڈ کی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے متعدد پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی اور جرمانے کی سزائیں عائد کی گئی تھیں اور اِن سزاؤں کے خلاف اپیلوں کو سننے کے لیے پی سی بی نے جسٹس ریٹائرڈ عرفان قادر پر مشتمل ایک رکنی ٹریبیونل قائم کیا تھا جس نے پہلے شعیب ملک کی سزا معاف کر دی تھی اور اب یونس خان کو بھی کلین چٹ دے دی گئی ہے۔

اسی بارے میں