ورلڈ کپ کے جوش پرگینگ وار کا اثر

فٹبال ورلڈ کپ میں حصہ نہ لینے کے باوجود اس سے پاکستانیوں کی دلچسپی کا معاملہ ’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘ جیسا نہیں۔

ہر چار سال بعد ورلڈ کپ دنیا کے کسی بھی حصے میں منعقد ہو مگر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک بستی کے رہائشی اس کے سحر میں کھو جاتے ہیں۔

ورلڈ کپ ہو اور پاکستان میں فٹبال کے گڑھ لیاری کے رہنے والے اس سے لاتعلق رہیں ایسا ممکن نہیں۔

ماضی میں جب بھی عالمی مقابلے کا وقت آیا لیاری کے مختلف علاقوں میں قائم فٹبال کلبوں میں ٹی وی سیٹ رکھ دیے جاتے تھے جہاں کھلاڑی اور عام لوگ سبھی اپنے مخصوص انداز میں کیے جانے والے دلچسپ تبصروں کے ساتھ ان میچوں سے لطف اندوز ہوتے تھے یہاں تک گلیوں میں اسکرین لگاکر میچز دکھانے کے انتظام بھی کیے جاتے تھے لیکن اس بار صورتحال ماضی کے مقابلے میں مختلف نظر آتی ہے۔

Image caption ملیر کے علاقے میں ورلڈ کپ نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا ہے

لیاری میں گزشتہ کچھ عرصے سے جاری گینگ وار میں چند دن پہلے شدت آئی ہے اور خدشہ ہے کہ یہاں اس بار ورلڈ کپ فٹبال کی چمک دمک ماند رہے اور لیاری والے ماضی میں جس طرح جوش وخروش سے ورلڈ کپ کے میچوں میں دلچسپی لیتے رہے ہیں وہ اس بار دکھائی نہ دے۔

فٹبال پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی نادرشاہ عادل لیاری ہی میں رہتے ہیں اور ان کے گھر کے بالکل برابر سیفی اسپورٹس ہے جو سابق پاکستانی انٹرنیشنل فٹبالر غلام عباس بلوچ کا کلب ہے۔

میرے اس سوال پر کہ کیا گینگ وار لیاری والوں کو ورلڈ کپ سے لطف اندوز ہونے کی اجازت دے گی؟ نادرشاہ عادل کا کہنا تھا کہ ’ورلڈ کپ سے لیاری کی جذباتی وابستگی بہت پرانی ہے اور یہاں کے لوگ اس بار بھی ان میچوں سے لطف اندوز ہوناچاہتے ہیں لیکن صورتحال مایوس کن ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ’علاقے کے معززین اور بزرگ یقیناً کوشش کرسکتے ہیں کہ فٹبال کے شائقین کو چند دنوں کا سکون فراہم کرنے کے لیے دونوں متحارب گروپوں کو ’جنگ بندی‘ کے لیے کہا جائے لیکن فی الحال یہ ایک خوش فہمی ہے‘۔

نادر شاہ عادل سے جب یہ پوچھا گیا کہ لیاری والے صرف برازیل یا سیاہ فام ٹیموں اور کھلاڑیوں ہی کو کیوں پسند کرتے ہیں تو ان کا جواب تھا ’لیاری والے خود تو احساسِ محرومی کا شکار ہیں لیکن انہیں کم ازکم اس بات کی خوشی ہے کہ ان کے ہم رنگ، ان جیسی شکلوں کے کھلاڑی اپنے سے برتر قوموں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔دراصل لیاری کے’ بلیک‘ بھی افریقہ کی غلامانہ نسل کی روایت رکھتے ہیں‘۔

نادر شاہ عادل کے مطابق سقوطِ ڈھاکہ نے لیاری میں فٹبال کے کھیل کو متاثر کیا تھا کیونکہ ’یہاں کے ایمچیور فٹبالرز مشرقی پاکستان یہاں تک کہ بھارت میں پروفیشنل فٹبال کھیلتے تھے اور دنیا ان کے کھیل کے دیوانی تھی۔ لیکن سقوط پاکستان کے نتیجے میں فٹبال کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا اوریہ فٹبالر معاشی طور پر بدحال ہوگئے‘۔

کراچی میں اس مرتبہ چاہے لیاری میں فٹبال کا میلہ نہ سجے لیکن کراچی میں ملیر کے علاقے میں ورلڈ کپ نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا ہے اور شائقین نے چند مکانوں کی چھتوں پر ورلڈ کپ میں شریک ملکوں کے پرچم لہرا دیے ہیں۔