میسی روزیریو کے لیے قابلِ فخر

ارجنٹائن میں دریائے پرانا کے قریب واقع ساحلی شہر روزیریو کے نواح میں ایک چھوٹی سی فٹبال پچ بچوں کی فٹبال ٹیم گرینڈولی فٹبال کلب کا گھر ہے۔

یہ کلب اس علاقے کے رہائشی اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین چلاتے ہیں اور یہاں مقامی بچوں کو تربیت دی جاتی ہے۔

اور یہ وہی جگہ ہے جہاں سے دنیا کے بہترین فٹبالرز میں سے ایک بائیس سالہ لیونل میسی نے اپنے فٹبال کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

سنہ 2009 کے لیے فیفا سے بہترین فٹبالر کا خطاب پانے والے میسی جمعہ سے جنوبی افریقہ میں شروع ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں ارجٹنائن کی امیدوں کا محور ہیں۔

گرینڈولی کلب کے صدر ڈیوڈ ٹریوز کا کہنا ہے کہ ’میسی اس شہر سے تعلق رکھتے ہیں اور مقامی آبادی کو ان پر فخر ہے‘۔ ان کے مطابق ’ انہوں نے اس شہر کو بھلایا نہیں ہے۔ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ یہاں آتے ہیں۔ ان کا بھائی یہاں رہتا ہے۔ ان کے والدین کو اکثر یہاں کا دورہ کرتے ہیں تاہم میسی تعطیلات میں ہی دکھائی دیتے ہیں‘۔

Image caption میسی اور میراڈونا دونوں کا تعلق ’نیولز اولڈ بوائز‘ کلب سے رہا ہے

ڈیوڈ ٹریوز کے لیے میسی روزیریو میں فٹبال کی طویل اور قابلِ فخر تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ علاقہ سنہ 1903 میں قائم کیے جانے والے فٹبال کلب نیولز اولڈ بوائز کا گھر ہے جو ارجنٹائن کے بہترن صوبائی کلبوں میں سے ایک ہے۔

روزیریو نے ارجنٹائن فٹبال ٹیم کو کئی بہترین کھلاڑی دیے ہیں جن میں ڈیگو میراڈونا بھی شامل ہیں جو کچھ عرصے تک نیولز اولڈ بوائز کے لیے بھی کھیلتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چلی اور پیراگوائے کی قومی ٹیموں کے موجودہ مینیجرز بھی اسی کلب کے سابق کھلاڑی ہیں۔

روزیریو میں ایسے بےشمار بچے ہیں جو عالمی شہرت یافتہ فٹبالر بننے کے خواہشمند ہیں لیکن لیونل میسی اپنے کیرئر کے آغاز سے ہی بہت خاص تھے۔ انہیں پانچ برس کی عمر میں ان کی دادی اس گرینڈولی کلب میں لائی تھیں جہاں ان کے بھائی پہلے ہی کھیل رہے تھے۔

ننھے میسی کی تصویر دکھاتے ہوئے ڈیوڈ ٹریوز کا کہنا ہے کہ’انہوں نے فوراً ہی اپنی جانب توجہ مبذول کروالی تھی۔ وہ باقی سب سے بہت مختلف تھے۔ جب انہیں گیند ملتی تو وہ چار، پانچ کھلاڑیوں کو غچہ دے کر نکلتے اور گول کر آتے۔ اس عمر کے بچے کے لیے ایسا کر پانا بہت ہی غیر معمولی ہے‘۔

ٹریوز کے مطابق ’لوگ کہہ رہے تھے کہ گرینڈولی کو اگلا میراڈونا مل گیا ہے اور جب میسی کھیل رہا ہوتا تو ایسے لوگ بھی میدان پر آتے جن کا کلب سے کوئی تعلق نہیں تھا‘۔

بچپن میں میسی کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ذکر ان کے سکول میں بھی ہوتا ہے۔ مقامی پرائمری سکول میں ان کی استاد ڈیانا فیراٹو کے مطابق میسی ایک شرمیلا بچہ تھا لیکن فٹبال پچ پر اس کا شرمیلا پن ختم ہو جاتا تھا۔ ان کے مطابق ’میدان میں اس کی غیر معمولی صلاحیتیں کھل کر سامنے آتی تھیں اور وہ کھیلنے والے لڑکوں کا قائد بن جاتا تھا۔ وہ کمرۂ جماعت سے زیادہ فٹبال کے میدان میں رہنا چاہتا تھا‘۔

حالیہ برسوں میں میسی نے کئی بار اس سکول کا دورہ کیا ہے اور سنہ 2009 میں اس نے دو برس کے سکول بجٹ کے برابر رقم عطیہ کی تھی۔

مقامی لوگ میسی کے نیولز اولڈ بوائز کلب کے جونیئر ٹریننگ کیمپ سے تعلق پر بھی فخر کرتے ہیں۔ میسی کے والدین اسے ہفتے میں دو بار اس کیمپ میں تربیت کے لیے لاتے تھے اور وہ اختتامِ مفتہ پر وہاں جونیئر لیگ مقابلوں میں حصہ لیتا تھا۔

Image caption روزیرو کی مقامی آبادی میسی پر فخر کرتی ہے

یہی وہ جگہ تھی جہاں میسی کے والدین نے ہسپانوی کلب بارسلونا سے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اس وقت میسی کی عمر گیارہ سال تھی۔

اس کیمپ میں شریک ایک نوجوان کھلاڑی کے مطابق ’ان کے پیروں میں جادو ہے، وہ یکتا ہے اور دنیا کا بہترین فٹبالر ہے میراڈونا سے بھی بہتر‘۔ کیمپ میں میسی کو تربیت دینے والے کوچ ارنیسٹو ویچیو کے مطابق میسی کی سب سے بڑی مضبوطی اس کا خاندان اور اس کا روزیرو سے تعلق تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایک اچھے کھلاڑی کی تخلیق میں وقت لگتا ہے۔ آپ یہاں بہت ٹیلنٹ دیکھتے ہیں لیکن کامیابی اس امر سے ملتی ہے کہ ان لڑکوں کی دیکھ بھال کون کر رہا ہے۔ آپ جس معاشرے سے آتے ہیں وہی کھلاڑی میں فرق کی وجہ بنتا ہے‘۔

جیسے جیسے ورلڈ کپ کا بخار چڑھ رہا ہے روزیرو کے عوام اپنے اس فرزند پر نازاں ہیں اور میسی کے پہلے فٹبال کلب کے صدر کا کہنا ہے کہ ’دنیا کے بہترین فٹبال کھلاڑی نے یہاں سے کھیلنا شروع کیا اور اس کی پہلی فٹبال شرٹ ہماری تھی‘۔

اسی بارے میں