سمندر میں گم امریکی لڑکی بازیاب

سب سے کم عمر میں دنیا کے گرد سمندری سفر کا ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش میں لاپتہ ہونے والی امریکی لڑکی سنڈرلینڈ کا سرغ مل گیا ہے۔

سندرلینڈ
Image caption سنڈر لینڈ بالکل ٹھیک ہیں اور وہ جمعرات کو پہاڑوں میں پھنس گئی تھیں۔

میری ٹائم حکام کا کہنا ہے کہ ایبی سنڈرلینڈ کو آسٹریلیائی ساحل سے دو ہزار ناٹیکل میل کے فاصلے پر بحرِ ہند جنوبی میں ماہی گیری کے ایک فرانسیسی جہاز نے بازیاب کیا۔

ان کی کشتی کے مستول ٹوٹ چکے تھے اور ان کی نشاندہی فضائی تلاش کرنے والوں نے اس وقت کی جب وہ آسٹریلیا اور افریقہ کے درمیان تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سنڈر لینڈ بالکل ٹھیک ہیں اور وہ جمعرات کو پہاڑوں میں پھنس گئی تھیں۔

کیلیفورنیا میں ان کے والد لارنس سنڈرلینڈ نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سارا خاندان خوش ہے کہ اب وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور انہوں نے اپنی والدہ سے بھی بات کی ہے‘۔

آسٹریلین میری ٹائم کے ترجمان نے کہا ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو گا سنڈرلینڈ کو قریبی ساحل پر پہنچا دیا جائے گا۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اچھی بات تو یہ ہے کہ سنڈرلینڈ محفوظ ہیں اور خیریت سے ہیں اور اس وقت ماہی گیری کے ایک جہاز پر ہیں‘۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ سولہ سالہ ایبی کو پہلے کہاں لے جایا جائے گا، آسٹریلیا یا مشرقی افریقہ کے ملک ماریشش کے قریب فرانسیسی علاقے میں۔

ایبی کو بچانے کے لیے بحری مدد بھیجنے والے مرکز کا کہنا ہے کہ ان کو بچانے کے لیے جانے والے تین بحری جہاز ایبی کو ساحل پر پہنچانے کے انتظامات پر بات کر رہے ہیں۔

ایبی سنڈرلینڈ دنیا کے گرد کم سے کم وقت میں چکر لگانے کے لیے اپنے ہی بھائی کا ریکارڈ توڑنے کے لیے اسی سال جنوری میں کیلیفورنیا سے روانہ ہوئی تھیں۔

ان کے بھائی نے دنیا کے گرد چکر لگانے کا ریکارڈ گزشتہ سال سترہ سال کی عمر میں قائم کیا تھا۔

Image caption ایبی کو رابطہ منقطع ہونے کے بیس گھنٹے بعد بازیاب کر لیا گیا۔

ایبی کو رابطہ منقطع ہونے کے بیس گھنٹے بعد بازیاب کر لیا گیا۔

ان کے خاندان پر تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے ایک کم عمر لڑکی کو ایسی مہم سر کرنے کی اجازت دے دی جو اس کی عمر کے مناسب نہیں تھی۔

خاندان نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایبی تیار تھیں اور ذہنی طور پر بھی ہر صورتِ حال سے نمٹنے کے مسلح تھیں‘۔

ایبی نے بدھ کو لکھے جانے بلاگ میں کہا تھا کہ کیی دنوں سے انہیں انتہایی سخت موسم کا سامنا ہے اور ان کی کشتی شدید ہچکولے کھا رہی ہے۔

اسی بارے میں