آخری وقت اشاعت:  پير 14 جون 2010 ,‭ 10:14 GMT 15:14 PST

سوویٹو پر ایک نظر

ورلڈ کپ کی افتتاحی اور اختتامی تقریب کے لیے خصوصی طور پر بنائے جانے والا سوکر سٹی سٹیڈیم جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے نواحی علاقے سوویٹو کی نئی پہچان بن رہا ہے: تصاویر

  • سوویٹو افریقہ کی نسلی امتیاز کی حامی حکومت کے دور میں سیام فاموں کا قصبہ تھا۔ نیلسن منڈیلا بھی کئی برس یہاں رہائش پذیر رہے
  • اورلینڈو ٹوئن ٹاورز سوویٹو کی نشانی ہیں۔ مصور ہر دو برس بعد ان ٹاورز پر دوبارہ نقش و نگار بناتے ہیں
  • سوویٹو جنوبی افریقی ثقافت کی علامت ہے۔ سوویٹو ٹاور کی ایک نقل فٹبال ورلڈ کپ کے مرکزی سٹیڈیم کے نزدیک بنائی گئی ہے۔
  • لوہے کی چادروں سے بنی یہ پناہ گاہیں سوویٹو کی انوکھی خاصیت ہیں۔ آج بھی اس کے دس لاکھ رہائشیوں میں سے زیادہ تر سیاہ فام ہیں۔
  • ان پناہ گاہوں کے برعکس آپ کو سوویٹو میں ایسے آرادم دہ اور شاندار گھر بھی نظر آتے ہیں
  • رہائش سوویٹو کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے مقامی حکومت نے چودہ برس میں ستائیس لاکھ گھر تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
  • مقامی دکانداروں کے مطابق ورلڈ کپ کی وجہ سے کاروبار میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ’منڈیلا شرٹ‘ کی قیمت دو سو رینڈ یا اٹھارہ برطانوی پاؤنڈ کے لگ بھگ ہے۔
  • اکیس سالہ طالبہ ایڈز، تعلیم اور افریقہ کے خیالات پر بنائی گئی تصویر دکھا رہی ہے۔
  • سوویٹو کے علاقے اورلینڈو کی نگکین گلی میں واقع منڈیلا ہاؤس وہ عمارت ہے جہاں نیلسن منڈیلا رہتے تھے۔ یہ گلی اب ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔
  • اس دیوار پر بنائی گئی یہ تصویر جنوبی افریقہ کی نسلی امتیاز کی پالیسی کے بارے میں بنائی جانے والی مقبول ترین تصاویر میں سے ایک ہے
  • ورلڈ کپ کی آمد کے ساتھ ہی سوویٹو میں چھوٹے چھوٹے ہوٹل نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔