فنشنگ کا فقدان ہے: وقار یونس

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقاریونس ایشیا کپ کے پہلے میچ میں شکست کو ورلڈ ٹوئنٹی کے تسلسل میں دیکھ رہے ہیں کہ ٹیم جیت کے قریب آکر اس سے دور ہوجاتی ہے۔

سری لنکا کے خلاف سولہ رنز کی شکست کے بعد بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں وقاریونس نے کہا کہ یقیناً انہیں اس نتیجے سے مایوسی ہوئی ہے اور ورلڈ ٹوئنٹی سے یہ ہورہا ہے کہ ٹیم میچ کو اپنے حق میں ختم نہیں کرپا رہی ہے۔

وقاریونس نے کہا کہ سری لنکا سے جیت کا کریڈٹ نہیں لینا چاہیے کیونکہ انہوں نے بڑی عمدہ بولنگ کی خاص کر لستھ مالنگا قابل ذکر رہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وکٹ پر دو سو بیالیس رنز بڑا سکور نہیں تھا لیکن پاکستانی بولرز نے سری لنکا کی سات وکٹیں ایک سو چھیاسٹھ پر حاصل کرلی تھیں لیکن اس کے بعد زیادہ رنز بنوا دیے۔

وقاریونس نے شعیب اختر کے بارے میں کہا کہ اب وہ عمر کے اس حصے میں ہیں کہ ان سے ماضی جیسی چونکا دینے والی کارکردگی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ اب بھی وہ میچ ونر ہیں اور جوں جوں وہ کھیلتے رہیں گے میچ فٹنس مکمل طور پر حاصل کرلیں گے جس کی انہیں ضرورت ہے۔

وقاریونس نے کہا کہ نوجوان کرکٹرز ہی پاکستان کا مستقبل ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان کھلاڑیوں کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں گی۔

بھارت کے خلاف میچ کے بارے میں وقار نے کہا کہ یقیناً وہ ایک اہم میچ ہے کوشش ہوگی کہ جیتیں کیونکہ ابھی ان کی ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر نہیں ہوئی ہے ۔

اسی بارے میں