’پاک بھارت کرکٹ ڈپلومیسی کی محتاج‘

پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں ہفتے کو ایشیا کپ میں مدمقابل ہورہی ہیں اور دونوں کپتان اس میچ کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔

مہندر سنگھ دھونی فائل فوٹو

سری لنکا میں جاری ایشیا کپ کرکٹ کی پہلی پریس کانفرنس شروع ہونے سے قبل بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی سے غیررسمی گفتگو ہوئی تو میں نے اُن سے پوچھا کہ پاکستان کب آرہے ہیں؟ مسکراتے ہوئے جواب ملا ’ہمارا کیا ہے جب بلائیں گے آجائیں گے۔‘

اور جب میں نے گوتم گمبھیر سے اُن کے احساسات جاننے چاہے تو وہ کہنے لگے’ آپ کسی بھی بھارتی کرکٹر سے پوچھیں گے تو اُس کے دل میں یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ضرور کھیلے اور وہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے خلاف اچھی کارکردگی دکھائے اور بھارت میچ جیتے۔‘

بھارتی کرکٹ ٹیم آخری بار دو سال قبل پاکستان میں ایشیا کپ کھیلنے آئی تھی جس کے بعد حالات کچھ ایسے ہوگئے کہ اُس ایشیا کپ سے لے کر موجودہ ایشیا کپ تک کے عرصے میں صرف ایک پاک بھارت کرکٹ میچ ہوسکا اور وہ بھی جنوبی افریقہ میں کھیلی گئی چیمپئنز ٹرافی میں۔

دونوں ٹیمیں اپنے ملکوں میں دو طرفہ کرکٹ کب دوبارہ شروع کرینگی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا سیدھا جواب یہی ہے ’اچھا وقت آنے پر۔‘

یہ اچھا وقت پاک بھارت کرکٹ پر کم کم ہی آیا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات جب بھی خراب ہوئے دوسرے کھیلوں پر تو کوئی خاص اثر نہیں پڑا لیکن کرکٹ سب سے زیادہ ا س کی زد میں آئی۔

عام طور پر دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات معمول پر لانے کے لیے کرکٹ ڈپلومیسی کے استعمال کا تذکرہ سُننے میں آتاہے ۔

پاکستان کے دو سابق فوجی حکمران ضیاء الحق اور پرویز مشرف اِسی کرکٹ ڈپلومیسی کے بل پر بھارت کے کرکٹ میدانوں میں جا بیٹھے، اس کے علاوہ جب بھارتی ٹیم پندرہ سال کے طویل وقفے کے بعد پاکستان آئی تھی تو اس میں سابق سفارتکار شہریار خان کی کوششوں کا نمایاں دخل تھا جو اُس قت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین تھے۔

لیکن اب تو خود کرکٹ دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آنے کے رحم وکرم پر ہے کہ حالات سدھریں اور میچز دلی، موہالی، کراچی اور لاہور میں ہوں نہ کہ کولمبو اور سنچورین یا پھر کہیں تیسری جگہ پر۔ دوسرے لفظوں میں کرکٹ کو بھی اب کسی ڈپلومیسی کی ضرورت ہے۔

حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر آ بھی گئے تب بھی پاکستان کی موجودہ صورتحال کسی بھی ٹیم کو وہاں کھیلنے کی اجازت نہیں دے رہی اِسی بنا پر پہلے چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پاکستان سے لے لی گئی اور پھر ورلڈ کپ کی میزبانی سے بھی پاکستان محروم ہو گیا۔

حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کے کرکٹ بورڈز کے درمیان بھی فاصلے بڑھے ہیں کیونکہ ورلڈ کپ کی میزبانی سے محروم ہونے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نےاس کا ذمہ دار بھارت سری لنکا اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈز کو ٹھہرایا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچز جب اُن کے اپنے ملکوں میں ہوئے تو ایشیز کی چمک بھی ماند پڑگئی لیکن جب اپنے میدانوں پر نہ ہوئے تب بھی شائقین کے جوش وخروش میں کوئی خاص کمی نہیں آئی کیونکہ پاک بھارت کرکٹ کے لیے مقام کی کوئی قید نہیں یہ جب اور جہاں بھی ہوں اپنے اندر ایک ایسی کشش رکھتے ہیں کہ جسے کرکٹ کی سمجھ نہیں وہ بھی اسی کی روایتی دلچسپی کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

دمبولا میں ہونے والے ایشیا کپ کے بارے میں بھی عام رائے یہی ہے کہ یہ ایک میچ کا ٹورنامنٹ ہے یعنی پاک بھارت میچ اور اگر دونوں ٹیمیں دوبارہ فائنل میں آمنے سامنے آجائیں تو اُس کی اہمیت دوگنی ہو جائے گی۔

اسی بارے میں