فرانس کی ٹیم کا ٹریننگ سے انکار

جنوبی افریقہ میں جاری فٹبال ورللڈ کپ میں فرانس کی ٹیم نے اتوار کو ٹریننگ کے اجلاس کا بائکاٹ کیا۔ ٹیم کے ایک بیان کے مطابق یہ بائکاٹ ایک کھلاڑی نیکولا اینیلکا کے کوچ کے ساتھ گالم گلچ کے واقعے کے بعد ٹیم سے نکالے جانے پر احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔

سنیچر کو اینالکا کے کوچ رئیموں دومینیک کے ساتھ جھگڑے اور تلخ کلامی کے بعد ٹیم کی منیجمنٹ نے انہیں فرانس واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Image caption کپتان پتریس ایورا فٹنس کوچ روبیر دوویرن سے اختلافات کے بعد جا رہے ہیں

اتوار کو ٹریننگ کے اجلاس سے پہلے فرانسیسی ٹیم کے کپتان پترِیس ایورا اور فٹنس کے کوچ روبیر دوویرن کے دمریان بھی تلخ کلامی ہوئی اور کوچ دومینیک کو ہاتھ پائی کی نوبت آنے سے پہلے ان دونوں کو آکر الگ کرنا پڑا۔ اس کے بعد ٹیم کے تمام کھلاڑی میدان سے ٹیم کی بس میں جا کر بیٹھ گئے جہاں پر کوچ سے انہوں نے مذاکراتکیے۔ اس کے بعد کھلاڑی وہاں سے روانہ ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد فرانسیسی فٹبال فیڈریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ژان لوئی والینتاں مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے کہا ’مجھے یہ ایک گھناؤنا واقعہ لگا ہے اور میں اپنا عہدہ چھوڑ رہا ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرانس، فرانسیسی ٹیم اور فرانسیسی فٹبال فیڈریش کے لیے ایک سکینڈل ہے۔

Image caption فرانسیسی فٹبال فیڈریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر ژان لوئی والینتاں مستعفی ہوگئے

ژان لوئی والینتاں اسی وقت اپنی گاڑی میں فٹنس سیشن کے مقام سے روانہ ہو گئے۔

کچھ گھنٹوں بعد فٹبال فیڈریشن نے کھلاڑیوں کے رویے کی مزمت کی اور کہا کہ ’یہ ٹیم اپنے ملک کی نمائندگی کر رہی ہے اور کھلاڑیوں کا یہ رویہ نا قابلِ قبول ہے۔‘

ورلڈ کپ میں اب تک فرانس کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ انیلکا کا کوچ سےجھگڑا فرانس کی میکسیکو کے ہاتھوں شکست کے بعد ہوا تھا۔ اس میچ کے نتیجے میں فرانس کا آخری سولہ ٹیموں میں جگہ بنانا تقریباً غیر یقینی ہو گیا ہے۔

فرانس کی وزیر کھیل نے بتایا ہے کہ صدر سرکوزی نے انہیں جنوبی افریقہ میں اپنا قیام بڑھا کر اس معاملے کو حل کرنے کو کہا ہے۔

اسی بارے میں