پروفیسر انورچوہدری انتقال کرگئے

فائل فوٹو، پروفیسر انور چوہدری
Image caption پروفیسر انورچوہدری انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی، فیفا اور عالمی ایتھلیٹکس کے صدور کے بعد کھیلوں کی دنیا کی چوتھی اہم ترین شخصیت کے طور پر سامنے آئے

امیچر باکسنگ کی سب سے طاقتور شخصیت کہلائے جانے والے پروفیسر انورچوہدری اب اس دنیامیں نہیں رہے۔

ایک بھرپور اور ہنگامہ خیز زندگی گزارنے کے بعد وہ اٹھاسی سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔

وہ کافی عرصے سے علیل تھے لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ عالمی امیچر باکسنگ ایسوسی ایشن کے صدر کا الیکشن ہارنے کے بعد انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کرلی تھی کیونکہ بقول ان کے اپنوں ہی کے آنکھیں بدل لینے کا انہیں بہت زیادہ دکھ تھا۔

پروفیسر انورچوہدری تین دہائیوں تک انٹرنیشنل امیچر باکسنگ ایسوسی ایشن کے افق پر چھائے رہے اور وہ بیس سال تک اس کے صدر رہے۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کا کہنا ہے کہ چار سال قبل ہونے والے الیکشن میں وہ صرف تین ووٹوں سے شکست کھاگئے جس کے بعد یہ اندازہ ہو چلا تھا کہ شیر اب بوڑھا ہو چکا ہے۔ پروفیسرانورچوہدری نے اس الیکشن میں اپنے حریفوں پر مبینہ طور پر منفی ہتھکنڈے استعمال کرکے انہیں ہرانے کے الزامات بھی عائد کیے۔

دوسری طرف ان کے مخالفین کی جانب سے ان پر اختیارات کے بے جا استعمال کے الزامات کے سامنے آئے۔

اس سے قطع نظر پروفیسر انورچوہدری جتنا عرصہ بھی عالمی امیچر باکسنگ کے سربراہ رہے ان کی دنیا صرف باکسنگ ہی رہی وہ صرف اسی کے بارے میں سوچا کرتے تھےاور ہرقدم اسی کی بہتری کے لیے اٹھتا تھا۔

یہ پروفیسر انورچوہدری کی طاقتور شخصیت ہی تھی جس نے باکسنگ کو اولمپکس سے باہر کیے جانے کے خطرے سے نکالا۔

باکسنگ کے مخالفین اسے خونی کھیل قرار دیتے ہوئے اسے اولمپکس سے باہر کرنے پر تلے بیٹھے تھے کہ پروفیسرانورچوہدری نے باکسرز کےسر پر پہننے کے لیے ہیڈ گیئرز متعارف کرا کر اسے اولمپکس میں برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

باکسنگ کا ایک اور سب سے بڑا مسئلہ ریفری کی جانبداری اور غلط پوائنٹس دیاجانا تھا اس تنازعے کو پروفیسرانورچوہدری نے اپنے ایجاد کردہ کمپیوٹرائزڈ پوائنٹس سسٹم کی مدد سے ختم کیا کیونکہ وہ خود ایک انجینیئر تھے۔

پروفیسر انورچوہدری انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی، فیفا اور عالمی ایتھلیٹکس کے صدور کے بعد کھیلوں کی دنیا کی چوتھی اہم ترین شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔

وسطی ایشیا کی ریاستیں ہوں یا کیوبا ان ممالک کے سربراہان سے پروفیسرانورچوہدری کی ذاتی دوستیاں رہیں جو باکسنگ کے فروغ میں بڑی مددگار ثابت ہوئیں۔ان ممالک نے پروفیسرانورچوہدری کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے بھی نوازا اور آذربائیجان نے ان کے نام سے بین الاقوامی باکسنگ ٹورنامنٹ کی بنیاد بھی رکھی۔

پروفیسر انورچوہدری تین دہائیوں تک پاکستان باکسنگ سے بھی وابستہ رہے۔ ان پر ہمیشہ یہ الزام لگتا رہا کہ ان کی سحرانگیز شخصیت پاکستانی باکسرز کو کامیابی دلاتی ہے جس پر وہ کبھی غصے میں آجاتے تو کبھی مسکرا کر کہتے کہ اگر انہوں نے یہی کچھ کرنا ہوتا تو آج اولمپکس میں پاکستان کا صرف ایک تمغہ نہیں ہوتا۔

پروفیسر انورچوہدری گلوز پہن کر کبھی رنگ میں نہیں اترے لیکن رنگ سے باہر رہ بھی ان کے ’پنچ‘ باکسنگ کو عروج دلاتے رہے لیکن ان کے انتقال سے یہ باؤٹ بھی اختتام کو پہنچ گئی۔

اسی بارے میں