ٹیسٹ کرکٹ سے وقتی دوری

شعیب اختر

فاسٹ بولر شعیب اختر نے ٹیسٹ کرکٹ سے خود کو وقتی طور پر دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ریٹائرمنٹ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کے دورے کے لیے شعیب اختر کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور سابق کپتان رمیز راجہ اور جاوید میانداد نے اس فیصلے پر حیرانی ظاہر کی ہے۔

دمبولا کے رانگیری اسٹیڈیم میں بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں شعیب اختر نے کہا کہ انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں واپس آنے کے لیے ابھی کچھ عرصہ درکار ہے ۔

شعیب اختر آخری ٹیسٹ میچ دسمبر 2007 میں بھارت کے خلاف بنگلور میں کھیلے تھے۔

وہ 46 ٹیسٹ میچوں میں178 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

شعیب اختر نے کہا کہ شاہد آفریدی اور محسن خان کا بھی یہی خیال ہے کہ انہیں فی الحال محدود اوورز کی کرکٹ کھیلنی چاہیے۔ وہ خود بھی محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ٹیسٹ میچز کھیلنے کی جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ان کے خیال میں تین چار ماہ بعد ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی ہوسکے گی۔

شعیب اختر نے کہا کہ وہ محدود اوورز کی کرکٹ کے لیے خود کو مکمل فِٹ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ میں انہوں نے پوری بولنگ کی اور مکمل اسپیڈ سے گیندیں کیں۔

انگلینڈ کے دورے کے بارے میں شعیب اختر نے کہا کہ یہ کپتان اور پوری ٹیم کی صلاحیتوں کا امتحان ہے لیکن پاکستانی ٹیم کی جیت کے امکانات رد نہیں کیے جاسکتے۔

اسی بارے میں