’افسردہ تو ہیں مگر پر امید بھی‘

فائل فوٹو
Image caption برازیلی قومی ٹیم کی جیت کے علاوہ کچھ بھی برداشت نہیں کرتے

ساؤ پولو کے مرکز میں وادی انہنگباؤ میں برازیل اور ہولینڈ کے درمیان میچ دیکھنے کے لیے تقریبا پچاس ہزار شائقین جمع ہوئے تھے لیکن جب ميچ برازیل کی ہار کے ساتھ ختم ہوا تو وہاں خاموشی چھا گئی۔

لیکن یہ خاموشی چند لمحوں کے لیے ہی تھی۔ وہ موسیقی بینڈ جو جیت کا منتظر تھا اس نے زور شور سے ایک نغمہ گانا شروع کیا۔

اس نغمہ کے الفاط کچھ اس طرح ہیں۔ ’ آپ کسی کام کے نہیں ہیں لیکن کیا کروں آپ سے پیار ہے‘۔

برازیل کے مداحوں نے جب یہ سمجھا کہ یہ نغمہ ان کی ٹیم کے لیے ایک پیغام ہے تو وہ بھی گانے اور تھرکنے لگے۔

کہتے ہیں آخر کار یہ برازیل ہے چاہے غم کا ماحول ہی کیوں نہ ہو۔

دور سے دیکھنے سے ایسا لگتا تھا کہ یہ بینڈ باجے کی پارٹی بڑی خوش اور مست ہے لیکن اگر ذرا اندر جھانکیں تو چہروں پر غم اور افسردگي کا عالم تھا۔ لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی کوشش میں تھے کہ آخر ان کی پسندیدہ ٹیم وقت سے پہلے ہی ورلڈ کپ سے واپس آجائے گي۔

Image caption ہالینڈ نے برازیل کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دی

اگلا ورلڈ کپ برازیل میں کھیلا جائیگا اور ظاہر سے اب اس سے امیدیں اور بڑھ گئی ہیں۔ ظاہر ہے ٹیم پر زیادہ دباؤ ہوگا۔

اس بھیڑ میں سے جاتے ہوئے ایک وکیل ایڈرینو انٹونیو نے کہا کہ ’گھر میں کھیلتے ہوئے ہم جیتنے کے مستحق ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ دو ہزار چودہ میں ہم اپنا چھٹا ورلڈ کپ جیتیں گے اور یہ ہمارے گھر میں ہوگا‘۔

برازیل میں فٹبال کے تئیں بڑی دیوانگی ہے اور لوگ اپنی قومی ٹیم سے جیت کے علاوہ کچھ بھی نہیں برداشت کرتے۔ دوسری پوزیشن پر رہنا بھی وہ مکمل شکست سے تعبیر کرتے ہیں۔ انٹونیو کا کہنا تھا ’میں چاہتا ہوں کہ ہالینڈ کی ٹیم اب ورلڈ کپ جیتے تاکہ ہمیں لگے کہ ہماری ٹیم سب سے اچھی ٹیم سے ہاری ہے‘۔

برازیل کے مداحوں میں پہلے ہاف میں بڑا جوش تھا۔ گلیوں میں لوگ ٹی وی مبصرین سے اس بات پر بالکل متفق نظر آئے کہ برازیل فتح کی طرف گامژن ہے۔ لیکن ہالینڈ نے جب اپنا پہلا گول کیا تو سب کچھ بدل گیا۔ بینک کی ایک کلرک ٹانیہ آرمرڈ کا کہنا تھا کہ ’پہلے ہاف کا کھیل بہت زبردست تھا۔ ہمارے کھلاڑی دل جمعی سے کھیل نہیں پائے۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ اس میں سے کئی ایک نے ورلڈ کپ کھیلا ہی نہیں تھا‘۔

Image caption برازیل کے کوج پر سخت نکتہ چینی ہورہی ہے

برازیل کے کوچ ڈنگا نے جس ٹیم کا انتخاب کیا تھا اس میں اتنے بڑے کھلاڑی بھی نہیں تھے جتنے پہلے ہوا کرتے تھے۔ رونالڈینو، روبرٹو کارلوس، اور ابھرتے نیمار اور گانسو جیسے کھلاڑیوں کو نہ لینے پر ڈنگا پر نکتہ چینی بھی ہوئی تھی۔

انہوں نے میچ ختم ہونے کے بعد ہی کوچ کے عہدے سے اپنے استعفی کا بھی اعلان کردیا تھا۔ لیکن انہنگباؤ کی وادی میں اس ہار کی ذمہ داری سب کے سر مڑھی جارہی تھی۔

برازیل ٹیم کے ایک مداح جن کے ہاتھ میں اب برازیل کے کئی جھنڈے تھے ان کا کہنا تھا ’یہ صرف ڈنگا کی مشکل نہیں تھی کھلاڑیوں نے دوسرے ہاف میں کچھ بھی نہیں کیا اور ہمیں ماننا چاہیے کہ ہالینڈ نے اچھا کھیلا۔لیکن ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ چار سال بعد میں دیکھوں گا برازیل اپنے گھریلو میدان پر یہی مہم شروع کریگا اور تب میں اور زیادہ لہراتے پرچم دیکھ سکوں گا‘۔

اسی بارے میں