’یہ سب ایک خواب سا ہے‘

ڈچ شائقین اتوار کو اپنی ٹیم کو فائنل میں کھیلتا دیکھنے کے لیے دوبارہ میوزیم سکوائر آئیں گے۔ نیدرلینڈز کی فٹبال ٹیم کے ان حامیوں کے لیے جو بدقسمتی سے کیپ ٹاؤن نہیں جا سکے، صحیح جگہ وسطی ایمسٹرڈیم کا میوزیم سکوائر ہے۔

وہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں میچ دیکھنے آتے ہیں اور اس سکوائر میں مقامی حکام کے مطابق یورپ کی سب سے بڑی ٹی وی سکرین لگائی گئی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق نیدرلینڈز کی ٹیم کی فائنل تک رسائی کا نظارہ کرنے کے لیے یہاں ساٹھ ہزار افراد جمع تھے جن میں سے قریباً سب نے ہی نارنجی رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے۔

کوئی نارنجی قمیض میں ملبوس تھا تو کوئی سرتا پیر ناررنجی رنگ میں رنگا تھا اور کچھ لوگ تو نارنجی رنگ کی موٹرسائیکلوں پر آئے ہوئے تھے۔حدِ نگاہ تک نارنجی رنگ کے سمندر کو دیکھنا ایک عجیب نظارہ تھا۔

میچ کے آغاز سے قبل متعدد ڈچ شائقین کا کہنا تھا کہ وہ تھوڑے فکرمند ہیں۔ وہ اپنی ٹیم سے زیادہ امیدیں باندھنے کے حق میں نہ تھے کیونکہ اس ٹیم نے کئی بار ان کی امیدیں توڑی ہیں۔

میچ سے قبل بجائی جانے والی موسیقی سے ماحول میں موجود فکر کچھ گھل سی گئی اور ہجوم بلیک آئیڈ پیز کے گانے ’ٹونائٹ گو نا بی گڈ نائٹ‘ پر رقص کرنے لگا۔ یوں لگنے لگا کہ ولندیزی شائقین کو اپنی ٹیم پر کچھ یقین سا ہونے لگا ہے۔

پہلا سیمی فائنل شائقین کے جذبات کے لیے ایک رولر کوسٹر ثابت ہوا۔ میچ کا آغاز اچھا تھا اور برانک ہرسٹ کے گول پر شائقین کا شور کان کے پردے پھاڑنے والا تھا۔ گول ہوتے ہی نارنجی رنگ کے فلیئر جلنے لگے اور ہر طرف خوشی کے رنگ بکھر گئے۔

لیکن پھر پہلے ہاف کے اختتام سے قبل ڈیاگو فورلان کے گول سے مجمع کو گویا سانپ سونگھ گیا۔ دوسرے ہاف کے آغاز سے قبل ڈچ شائقین کے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے جا سکتے تھے۔

لیکن یہ پریشانی زیادہ دیر قائم نہ رہی اور ویزلے شنائیڈر اور آئین رابن کے گولوں کے نیدرلینڈز کی فتح یقینی بنا دی۔

آخری لمحات میں یوروگوئے کے دوسرے گول نے میچ کو سنسنی خیز تو بنایا لیکن ریفری کی جانب سے میچ کی اختتامی سیٹی پر نیدرلینڈز کے حامیوں نے سکون کا سانس لیا۔

ڈچ ٹیم بتیس برس کے وقفے کے بعد ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے اور ولندیزی شائقین اس لمحے کو یادگار بنانے کے خواہشمند ہیں۔ ایک شائق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک خواب سا ہے۔ میں اس لمحے کا لطف اٹھا رہا ہوں کیونکہ فی الحال اس سے بہتر کچھ نہیں ہے‘۔

اس کا کہنا تھا کہ ’میرے والد مجھے سّتر کی دہائی کی بہترین ٹیم کے بارے میں ہمیشہ بتایا کرتے تھے لیکن اب میں بھی انہیں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے سنہ 2010 کی ٹیم دیکھی ہے اور میں محسوس کر سکتا ہوں کہ اپنی ٹیم کا فائنل میں جانا کیسا لگتا ہے‘۔

ڈچ شائقین اتوار کو اپنی ٹیم کو فائنل میں کھیلتا دیکھنے کے لیے دوبارہ میوزیم سکوائر آئیں گے۔ منتظمین کو امید ہے کہ ایک لاکھ افراد اس مقابلے کو دیکھنے یہاں پہنچیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ولندیزی شائقین فائنل میں جرمنی کا سامنا کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں سنہ 1974 کی شکست کا بدلہ اتارنے کا موقع مل سکے۔ ہالینڈ کی ٹیم کے ایک حامی کا کہنا تھا کہ ’جرمنوں کو سامنے لاؤ۔ وہ ہمیشہ ہمیں ہراتے رہے ہیں اور اب ہم بدلہ چاہتے ہیں۔ وہ ہمارے سب سے بڑے قومی حریف ہیں اور انہیں فائنل میں ہرانا بہترین ہوگا‘۔

اسی بارے میں