سربرنیتزا: پندرہ سال بعد

اجتماعی قبروں سے نکالی جانی والی لاشوں کی ڈی این اے شناخت اور تدفین کا عمل اب بھی جاری ہے

بوسنیا کے شہر سربرنیتزا میں ہزاروں نہتے مسلمان شہریوں کے قتلِ عام کے پندرہ سال بعد یہاں اس کی تکلیف دہ یادوں سے نمٹنے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں افراد میں اقوام متحدہ کے ایک سابق اہلکار بھی شامل ہیں۔

نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے روب زومر انیس سو پچانوے میں یہاں پر تعینات تھے جب قتل عام کا یہ واقعہ پیش آیا اور اب وہ اپنے خاندان کو لے کر اسی شہر میں رہنے آگئے ہیں۔

بوسنیا کی جنگ کے دوران 1995 میں سربرنیتزا کو اقوام متحدہ کا محفوظ زون قرار دیا گیا تھا اور ہزاروں بوسنیائی افراد نے یہاں پناہ لی تھی۔ لیکن سرب افواج نے سربرنیتزا میں تعینات اقوام متحدہ کی ڈچ افواج کو قابو کر کے یہاں پناہ لینے والے مسلمان مردوں کو لے جا کر ان کو ہلاک کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق تین روز کے اندر سات ہزار مسلمانوں کو یہاں ہلاک کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے دستے اس قتل عام کو روکنے کے لیے کچھ نہ کر سکے اور بالکل بے بس تھے۔

تو پھر ایسے اذیت ناک تجربے سے گزرنے والا کوئی غیر ملکی شخض سربرنیتزا واپس کیوں آیا ہے؟ روب زومر کہتے ہیں ’سربرنیتزا میری زندگی کا حصہ، میرے ماضی کا حصہ ہے لیکن میں اس لیے یہاں نہیں آیا ہوں۔میں اس لیے آیا ہوں کہ میں پہاڑوں اور جنگلات والی ایسی جگہ میں رہنا چاہتا ہوں جہاں روز مرہ کی زندگی کی پریشانیاں نسبتاً کم ہوں۔‘

لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا یہاں واپس آنا ماضی سے نمٹنے کی ایک کوشش ہے۔ ’جب یہاں پر مقامی لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لوگوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کے لیے ہم آپ کے مشکور ہیں، تو پھر ماضی کی بہت سی تکلیف دہ یادیں مٹ جاتی ہیں۔‘

روب زومر اب سربرنیتزا کی پہاڑیوں میں گھر تعمیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انیس سو پچانوے کے واقعے کے بعد وہ بھی ’پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس‘ یعنی جنگ کے صدموں کے بعد دباؤ کے شکار ہوئے تھے۔

ان کا ملک نیدرلینڈز بھی اس واقعے کے بعد ایک مشکل دور سے گزرا۔ سنہ 2002 میں سربرنیتزا کے قتل عام پر ایک رپورٹ نے اقوام متحدہ اور نیدرلینڈز پرسخت تنقید کی تھی۔ اس کے نتیجے میں نیدرلینڈز کی حکومت مستعفی ہو گئی تھی۔

مفاہمت کی کوششیں:

سربرنیتزا میں سربوں اور مسلمانوں نے مل جل کر رہنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔ شہر کے نواحی علاقے میں واقع گاڑیوں کے پُرزوں کے کارخانے میں کام کرنے والے 100 افراد میں سے 23 بوسنیائی سرب ہیں۔

ایویچا سمیچ سرب ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ کارخانے میں ایک اچھا ماحول ہے۔ ’شروع میں ماحول تھوڑا مشکل سا تھا لیکن اب ہم سب آپس میں دوست ہیں اور مل کر فٹ بال کھیلتے ہیں۔‘

تئیس سالہ بوسنیائی مسلمان المدینہ جاساروِیچ کہتی ہیں کہ ان کا کارخانے میں سرب ساتھیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے ’وہ ہماری طرح یہاں پیسہ کمانے کے لیے کام کرتے ہیں، ہم سب آپس میں اچھی طرح رہتے ہیں۔‘

لیکن ان کی گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ 1995 کے قتل عام کے زخم ان کے لیے اب بھی تازہ ہیں۔ ان کے والد اور ان کے بھائی سربوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں اور پھر پوچھتی ہیں ’خاندان کی صرف تصویریں ہمارے پاس رہ گئی ہیں، اس واقعہ کے ذمہ داروں کو ہم معاف کس طرح کر سکتے ہیں؟ سرب ہم سے اس طرح ہنس کر بات کرتے ہیں جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو۔ لیکن ان کو معلوم ہے کیا انہوں نے کیا کیا تھا۔ وہ اس پر شرمندہ نہیں ہیں اور انہیں ہونا چاہیے۔‘

سربوں کا موقف:

لیکن سربینیتزا کے سربوں کا کہنا ہے کہ 1995 کے نتیجے میں ان کو بلا جواز تہمت کا سامنا ہے۔ ملاڈن گروجِچ ایک مقامی تنظیم کے ساتھ کام کرتے ہیں جو جنگ سے متاثر سربوں کی مدد کرتی ہے۔ ’کوئی سربیہ نہیں کہتا کہ سربنیتزا میں جرائم نہیں ہوئے لیکن انہیں اس پر تشویش ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اتنی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ مجھے تعداد سے اختلاف ہے، سات یا آٹھ ہزار مسلمان تو نہیں ہلاک ہوئے اور مسلمان خود ہلاکتوں کی تعداد پر متفق نہیں ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی ان تنظیموں کے کام کے بارے میں کیا خیال ہے جو ہلاک ہونے والوں کے ڈے این اے کے ذیعے شناخت کر رہی ہیں تو وہ کہتے ہیں ’کوئی ان غیر ملکی تنظیموں کی باتوں کا یقین نہیں کرتا۔‘

اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’پوری دنیا صرف جولائی 1995 کی بات کرتی ہے، اس سے پہلے کی نہیں۔ لیکن سربرنیتزا میں ہلاک کیے جانے والا پہلے شخص تو سرب تھا۔‘

بوسنیائی جنگ کے بارے میں حقائق پر عدم اتفاق ان سربوں اور مسلمانوں کے درمیان اب بھی ایک دیوار ہے، سربرنیتزا کے بارے میں دونوں کی حیقیقت بالکل مختلف ہے اور اس کے نتیجے میں یہ دونوں برادریاں اب بھی بٹی ہوئی ہیں۔

دریں اثنا سربرنیتزا کے قریب بڑے قبرستان میں اجتماعی قبروں سے برآمد مزید 700 افراد کی اتوار کو تدفین کی تیاری کی جا رہی ہے۔

بوسنیا کا یہ چھوٹا سا شہر اب بھی 1995 کے قتل عام کے زخموں سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کی یادیں ہر طرف ہیں اور زندگی اس سانحہ کے سائے میں چلتی ہے۔