عالمی چیمپیئن:ہسپانیہ یا ہالینڈ

عالمی کپ

فٹبال ورلڈ کپ کا فائنل میچ آج اس کھیل کا ایک نیا شہنشاہ منظر عام پر لائے گا۔ ہسپانیہ اور ہالینڈ دونوں میں سے کوئی بھی اسے سے پہلے اس کھیل کا عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل نہیں کر سکا۔

ہالینڈ انیس سو چوہتر اور اٹھتر میں فائنل میچ کھیل چکا ہے لیکن ہسپانیہ تو عالمی کپ مقابلوں کے فائنل تک بھی کبھی رسائی حاصل نہیں کر سکا۔

حالیہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہسپانیہ کی ٹیم نے اپنے آخری چون میچوں میں سے پچاس میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ ہالینڈ پچیس میچ مسلسل جیت چکا ہے۔ اس طرح اسے اس عالمی کپ میں ناقابل شکست ٹیم رہنے کا اعزاز بھی حاصل۔

اگر ہالینڈ اس ورلڈ کپ کا آخری میچ بھی جیت جاتی ہے تو وہ برازیل کے بعد کسی بھی عالمی کپ میں ناقابل شکست رہنے والی دوسری ٹیم بن جائے گی۔ اس کے مقابلے میں ہسپانیہ کے لیے موجودہ عالمی کپ کا آغاز ہی اچھا نہ تھا جب اسے افتتاحی میچ میں سوئٹزر لینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اگر ہسپانیہ کی ٹیم فائنل جیت جاتی ہے تو فٹبال کی تاریخ میں پہلی ٹیم ہوگی جو کسی عالمی کپ کا افتتاحی میچ ہارنے کے باوجود ٹرافی کی حقدار ٹھہری۔

ان دونوں ٹیموں کے ماضی کے مقابلوں کو سامنے رکھ کر ان موازنہ کرنا بھی مشکل ہے اور وہ اس لیے کہ یہ دونوں ٹیمیں کبھی فٹ بال کے کسی بڑے ٹورنامنٹ میں مقابل نہیں آئیں اور نوے برس میں جن نو چھوٹے میچوں میں ان کا سامنا ہوا ہے ان میں بھی دونوں ٹیموں نے چار میچ جیتے ہیں اور ایک برابر رہا ہے۔

فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کے بارے میں پیش گوئیوں کے لیے ستارہ شناسوں سے زیادہ جانوروں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ کہیں زرافوں سے اس میچ کے نتیجے کے بارے میں رائے لی جارہی ہے تو کہیں طوطے فال نکالتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس عالمی کپ میں اب تک جس کی پیش گوئی سب سے معتبر رہی ہے وہ جرمنی میں برلن کے بحری میوزیم میں موجود ایک آکٹوپس ’پال‘ ہے۔ اس نے ان عالمی مقابلوں میں ابھی تک جتنی بھی پیشگوئیاں کی وہ سب درست ثابت ہوئی ہیں۔

ان میں جرمنی کی ہسپانیہ کے ہاتھوں شکست اور تیسری پوزیشن کے لیے جرمنی کی فتح بھی شامل ہے۔ فٹبال شائقین کے بے حد اصرار پر پال کو پہلی بار ایسے میچ کا فیصلہ کرنے کی زحمت دی گئی ہے جس میں جرمنی کی ٹیم شامل نہیں ہے اور اس آکٹوپس نے فٹبال کپ دو ہزار دس کا فاتح ہسپانیہ کو قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں