برطانوی ٹیکس قوانین بدنے کا مطالبہ

Image caption بولٹ نے ایڑھی میں تکلیف کی وجہ سے نیویارک ڈائمنڈ لیگ میں بھی شرکت نہیں کی تھی

مالیاتی معاملات کی وجہ سے عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹ یوسین بولٹ کی لندن میں منعقدہ مقابلوں سے دستبرداری کے اعلان کے بعد یو کے ایتھلیکٹس نے برطانوی ٹیکس قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

جمیکا سے تعلق رکھنے والے یوسین بولٹ اگست میں کرسٹل پیلس میں ہونے والی ڈائمنڈ لیگ میں اس لیے شرکت نہیں کر رہے کہ انہیں بھاری ٹیکس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یو کے ایتھلیٹکس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ قابلِ افسوس ہے کہ برطانوی شائقین اس شاندار ٹیلنٹ کو دیکھنے سے محروم رہیں گے‘۔ تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ہم مستقبل میں ہونے والے مقابلوں میں ان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں‘۔

عالمی اور اولمپک چیمپیئن بولٹ نے ان مقابلوں کے دوران سو میٹر کی ریس میں امریکی سپرنٹر ٹائیسن گے اور جمیکا کے اوصافہ پاول کا سامنا کرنا تھا۔

تیئیس سالہ ٹرپل اولمپک چیمپیئن بولٹ اگر ڈائمنڈ لیگ میں حصہ لیتے تو انہیں نہ صرف ان مقابلوں میں شرکت کے معاوضے کا پچاس فیصد ٹیکس کی مد میں ادا کرنا پڑتا بلکہ ان کے برطانیہ کے باسی نہ ہونے کے باوجود ان کی بقیہ آمدنی پر بھی ٹیکس لگتا۔

خیال رہے کہ انہی برطانوی ٹیکس قوانین کی وجہ سے لندن کے ویمبلی سٹیڈیم میں سنہ 2010 کے چیمپیئنز لیگ مقابلوں کا فائنل منعقد نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں