لارڈز پر سنچری،ایک خوبصورت لمحہ

Image caption تمیم اقبال کے چچا اور بھائی بھی بنگلہ دیش کی نمائندگی کر چکے ہیں

کسی بھی کرکٹر سے پوچھیں تو وہ لارڈز پر سنچری کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔

جو ایسا کر جاتے ہیں وہ خود کو خوش قسمت تصور کرتے ہیں اور جو ایسا نہ کرسکیں انہیں تمام زندگی اس کا افسوس رہتا ہے۔

آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ نے اپنے کیریئر میں جو سوچا اسے پا لیا لیکن انہیں لارڈز پر سنچری کی حسرت ہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دنیا کی سب سے کمزور ٹیم کہلائے جانے والی بنگلہ دیش کے تمیم اقبال یقیناً خود کوخوش قسمت سمجھتے ہیں کہ کرکٹ کے ہیڈکوارٹر پر اپنے پہلے ہی ٹیسٹ کو انہوں نے سنچری سے یادگار بنا دیا۔

تمیم اقبال سے میرا پہلا سوال یہی تھا کہ اس سنچری پر کیا احساسات تھے؟

وہ بولے’ میرے بین الاقوامی کیریئر میں یہ سب سے یادگار لمحہ ہے اور سب سے بہترین احساسات بھی۔ لارڈز پر سنچری میرے لیے معنی رکھتی ہے لیکن مجھے یہ یقین بھی ہے کہ میں اور بہت کچھ بھی حاصل کروں گا اور کئی اور یادگار سنچریاں بناؤں گا‘۔

میں نے تمیم اقبال کو یاد دلایا کہ ابتدائی سولہ اننگز میں وہ ناکامی سے دوچار رہے تو کیا اس وقت انہیں اپنا کیریئر ختم ہوتا محسوس ہو رہا تھا؟

تمیم کا جواب تھا ’مجھے سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ میں کس انداز سے بیٹنگ کروں، پھر مجھے جیمی سڈنز اور سابق اسسٹنٹ کوچ صلاح الدین نے سمجھایا کہ میں ون ڈے کی طرح اپنا نیچرل گیم کھیلوں اور اس حکمت عملی میں میں کامیاب رہا‘۔

تمیم اقبال کے لیے کرکٹ گھر کا معاملہ ہے۔ ان کے چچا اکرم خان بنگلہ دیش کے کپتان رہ چکے ہیں جبکہ بڑے بھائی نفیس اقبال نے بھی اپنے ملک کی نمائندگی ٹیسٹ اور ون ڈے میں کی ہے تاہم تمیم اپنے والد کی کمی محسوس کرتے ہیں۔

’میرے والد کی بہت خواہش تھی کہ میں ٹیسٹ کھیلوں اور وہ مجھے کھیلتا دیکھیں لیکن وہ اس دنیا میں نہیں رہے تاہم مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے دیکھ رہے ہوں گے اور فخر کر رہے ہوں گے‘۔

تمیم اقبال کے پسندیدہ کرکٹرز یوراج سنگھ، مائیکل ہسی اور سنگاکارا ہیں جبکہ انہیں سب سے مشکل بولر لستھ مالنگا اپنے منفرد بولنگ ایکشن کی وجہ سے لگتے ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں کسے فوقیت دیتے ہیں تو وہ کہنے لگے’ ٹیسٹ اصل کرکٹ ہے جس کے بعد ون ڈے آتی ہے اور پھر ٹی ٹوئنٹی‘۔

اس سوال پر کہ بنگلہ دیشی ٹیم کو آخرکیا ہوجاتا ہے کہ وہ اچھا کھیلتے کھیلتے میچ پر گرفت کھودیتی ہے اور ہارجاتی ہے، تمیم کا جواب تھا ’گزشتہ کچھ عرصے سے ہم اچھا کھیل رہے ہیں۔ مڈل آرڈر بیٹنگ کا مسئلہ ہے اگر وہ اچھی کارکردگی دکھائے تو سب کچھ بدل سکتا ہے لیکن یہ سب کچھ آناً فاناً نہیں ہوسکتا ۔ہمیں کچھ وقت درکار ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’بھارت کو ٹیسٹ میں پہلی کامیابی بیس سال کے انتظار کے بعد ملی اور نیوزی لینڈ نے پہلا ٹیسٹ چھبیس سال بعد جیتا۔وہ وقت دور نہیں جب ہم بھی بڑی ٹیموں کو ہراسکیں گے‘۔

اسی بارے میں