آفریدی: ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ

شاہد آفریدی
Image caption شاہد آفریدی دوسری ہی گیند پر اونچی شاٹ کھیل کر کیچ آؤٹ ہو گئے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے ہیڈنگلے ٹیسٹ کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔

تیس سالہ کرکٹر نے گزشتہ مئی کو چار سال کے وقفے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں اس وقت واپسی کا اعلان کیا تھا جب انہیں قومی ٹیم کا کپتان بنایا گیا۔

تاہم انہوں نے جمعہ کو لارڈز کے میدان میں آسٹریلیا کے ہاتھوں پاکستان کی ایک سو پچاس رنز سے شکست کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کو خیر آباد کہنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں ایک روزہ اور ٹوئنٹی20 کرکٹ پر توجہ دوں گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک بڑا فیصلہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سلمان بٹ اس کام (کپتانی) کے لیے بہتر شخص ہے۔‘

پاکستان میں سکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان انگلینڈ میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہو رہی ہے۔

اگرچہ آفریدی بدھ کو ہیڈنگلے میں ہونے دوسرے ٹیسٹ میچ میں کپتانی کریں گے لیکن اس کے فوراً بعد انگلینڈ کے ساتھ چار میچوں کی سیریز کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو نئے کپتان کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔

آفریدی نے کہا کہ ’میں نے غلط کام کیا۔ میرے خیال میں میرا مزاج ٹیسٹ کرکٹ کے لیے اچھا نہیں ہے اور مجھے اپنی ٹیم کے ساتھ اپنے آپ کو منوانے کے لیے دقتوں کا سامنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ بالکل مختلف چیز ہے۔ ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں ذہنی طور پر اتنا مضبوط نہیں ہوں۔ کپتان کو جوان لڑکوں اور ٹیم کے لیے ایک مثال ہونا چاہیئے لیکن میں نے ایسی کوئی مثال پیش نہیں کی۔ میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے قابل نہیں ہوں۔‘

آفریدی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یونس خان کو ٹیم میں شامل نہ کرنا ایک غلطی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ’انگلش حالات میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں یونس خان کی ضرورت ہے۔‘

آفریدی نے اپنے پورے ٹیسٹ کیریئر میں پانچ سنچریاں بنائی ہیں اور اکثر اوقات بیکار شاٹ کھیلتے ہوئے اپنی قیمتی وکٹ گنوا دیتے ہیں جیسا کہ انہوں نے لارڈز ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں کیا۔

پاکستان کے کوچ وقار یونس نے آفریدی کی ریٹائرمنٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ (آفریدی) سمجھتے ہیں کہ وہ اس میں فٹ نہیں آتے اور اس لیے ٹیم کے بہتر مفاد کے لیے وہ اسے چھوڑ رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں