’دو ٹیسٹ کے لیے کپتانی کی ہامی بھری تھی‘

شاہد آفریدی
Image caption توجہ ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی پر مرکوز رہے گی

شاہد آفریدی نے ٹیسٹ کرکٹ سے دوبارہ ریٹائرمنٹ کے فیصلے کو ٹیم کے مفاد میں قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسی کرکٹ سے جڑے رہنے کا کیا فائدہ جس سے وہ لطف نہ اٹھائیں۔

شاہد آفریدی نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین، منیجر اور کوچ کے اصرار پر انہوں نے تجربے کے طور پر آسٹریلیا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کے لیے کپتانی کی ہامی بھری تھی ۔

انہوں نے کہا کہ ان سب کا یہی خیال تھا کہ چونکہ ان کی کپتانی میں ٹیم متحد دکھائی دینے لگی ہے لہذا انہیں ٹیسٹ میں بھی کپتانی کرنی چاہئے لیکن وہ خود کو ٹیسٹ کے مزاج کا کھلاڑی نہیں سمجھتے اور اسی وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ٹیسٹ سے الگ ہوجائیں اور کسی ایسے کرکٹر کو موقع ملے جو مکمل بیٹسمین ہو یا مکمل بولر۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ انہیں اندازہ ہے کہ ان کے اس فیصلے سے بہت سے لوگ مایوس اور ناراض ہوئے ہونگے لیکن انہوں نے صحیح قدم اٹھایا ہے کیونکہ اسی میں ٹیم کی بہتری ہے۔

شاہد آفریدی نے جو چار سال قبل لی گئی ٹیسٹ ریٹائرمنٹ ختم کرکے واپس آئے تھے کہا کہ کپتانی کسے اچھی نہیں لگتی لیکن وہ ٹیم پر بوجھ بن کر کھیلنا نہیں چاہتے۔ان کی توجہ اب مکمل طور پر ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی پر مرکوز ہوگی۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ جب وہ خود غیرذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے ہوں تو کسی دوسرے کو کیسے سمجھاسکتے ہیں یا ڈانٹ سکتے ہیں۔

آفریدی نے کہا کہ اس دورے پر آنے سے پہلے ہی انہوں نے کہا تھا کہ انگلینڈ کی مشکل کنڈیشن میں تجربہ کار بیٹسمینوں کی ضرورت ہوگی اور وہ چاہتے تھے کہ محمد یوسف اور یونس خان جیسے تجربہ کار بیٹسمین ٹیم میں ہوتے لیکن بورڈ کی پالیسی کے سبب وہ ٹیم میں نہ آ سکے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سلمان بٹ قیادت کے لیے موزوں ہیں۔

اسی بارے میں