فرانس:سیکس تحقیقات میں دو فٹبالر گرفتار

Image caption دونوں کھلاڑیوں سے پولیس نے پوچھ گچھ کی ہے

فرانس میں پولیس ذرائع نے کہا ہے کہ کم عمر جسم فروش خواتین کے ایک مبینہ گروہ کی حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کے سلسلے میں فٹبال کے دو بین الاقوامی کھلاڑیوں فرینک ربری اور کریم بینزیما کو حراست میں لیا گیا ہے۔

دونوں کھلاڑیوں کو غلط کام کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس جمعرات کو ان کی رہائی کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

اس سے پہلے ایک مجسٹریٹ کی درخواست پر دونوں کھلاڑیوں سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ یہ مجسٹریٹ پیرس میں واقع ایک نائٹ کلب پر لگنے والے ان الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ کلب میں کم عمر لڑکیاں جسم فروشی کرتی تھیں۔

ایک خاتون زاہیا دہیر جن پر الزام ہے کہ کم عمری میں وہ نائٹ کلب میں گاہکوں سے ملتی تھیں نے پہلے سے ہی تفتیشی اہلکاروں کو بتا دیا ہے کہ انھوں نے دونوں کھلاڑیوں سے رقم کے عوض جنسی فعل کیا تھا۔

فٹبالر ربیری کے وکیل نے پولیس سٹیشن کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ دو ہزار نو میں ان کے موکل کو بلکل اندازہ نہیں تھا کہ جس خاتون کو جنسی فعل کے لیے معاوضہ ادا کر رہے ہیں اس کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے۔

’یہ ایک غیر ارادی جرم تھا، انھیں اس کی عمر معلوم کرناچاہیے تھی لیکن یہ کیس نہیں ہے، لڑکی کو کم عمر دکھنا چاہیے تھا ، یہ کیس نہیں ہے، لڑکی کو اپنی عمر کے بارے میں بتانا چاہیے تھا لیکن یہ کیس نہیں ہے، جس وقت اس نے سارے میڈیا کو بتایا ہے کہ وہ کم عمر تھی اس وقت اس کی عمر بیس سال سے زائد تھی۔‘

فرانس میں قانون کے مطابق اٹھارہ سال سے عمر کے ساتھ معاوضے کے عوض سیکس کرنے کو کم عمر کے ساتھ سیکس کہا جاتا ہے اور اگر جنسی فعل پر رضامندی ظاہر کرنے والے کی عمر پندرہ سال بھی ہو تو اسے تین سال تک قید اور پینتالیس ہزار یورو جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔

اٹھارہ سالہ زاہیا کا کہنا ہے کہ انھوں نے دونوں کھلاڑیوں کو اپنی عمر کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ اس سے پہلے فٹبالر کریم بینزیما نے اپنے وکیل کے توسط سے بتایا تھا کہ انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔

رواں سال کے آغاز پر پیرس میں پولیس نے مونا لیزے شاہراہ پر واقع ایک نائٹ کلب زمان کیفے میں کارروائی کرتے ہوئے اٹھارہ جسم فروش خواتین کو گرفتار کیا تھا۔

ان میں زاہیا شامل نہیں تھیں لیکن ان کا نام کیفے کے مینیجر کے فون ٹیپ کرنے کی وجہ سے تفتیشی اہلکار پہلے سے جانتے تھے۔

اسی بارے میں