ایک قدم ٹو فار؟

فائل فوٹو
Image caption سری لنکن ٹیم پر نو بال کی وجہ سے نکتہ چینی ہو رہی ہے

سری لنکا کے آف سپنر سورج رندیو نے جب ویریندر سہواگ کو نو بال پھینک کر انہیں دمبولے ون ڈے انٹرنیشنل میں سینچری سے محروم کیا تو بلا شبہہ انہیں یہ اندازہ نہیں ہوگا کہ کریز کے اس پار یہ ایک ’ایکسٹرا’ قدم ان کے لیے کتنا بڑا درد سر بن جائیگا۔

میچ جیتے کے لیے ہندوستان کو ایک رن کی ضرورت تھی اور اتفاق سے ویریندر سہواگ نناوے پر کھیل رہے تھے۔ رندیو نے دانستہ طور پر نو بال کی جس پر سہواگ نے چھکّا مارا لیکن نوبال کے ایک رن کی وجہ سے میچ ختم ہوگیا اور سہواگ ایک رن کی کمی کے سبب اپنی سنچری سے محروم ہوگئے۔

اس رول کا خود سہواگ کو علم نہیں تھا لیکن جو لوگ رندیو کو ایک ولین کے طور پر پیش کر رہے ہیں، انہیں کھیل کی دوسری باریکیوں کا بھی پوری طرح اندازہ نہیں ہے۔ اور جس طرح کا رد عمل ظاہر کیا جارہا ہے وہ بعض ماہرین کے مطابق غیر متناسب ہے۔

رندیو نے خود نو بال کی یا کسی کے کہنے پر، انہوں نے سہواگ سے، اور سری لنکن مینجر نے اپنے ہندوستانی ہم منصب سے معذرت کر لی ہے۔ معاملہ یہاں ختم ہوجانا چاہیے تھا لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔

Image caption نوبال سورج رندیو نے پھینکی ہے اور وہی نشانے پر ہیں

وقت کے ساتھ کرکٹ بھی بدلی ہے اور یہ اب وہ کھیل نہیں ہے جو تیس چالیس سال پہلے ہوا کرتا تھا۔ اب میچ فیکسنگ، سٹہ بازی اور بے پناہ دولت کے ساتھ آنے والے تمام تنازعات کھیل کا ایک حصہ بن گئے ہیں۔ اب کمپٹیشن بے پناہ ہے۔

کرکٹ جتنا ہنر کا کھیل ہے اتنا ہی دماغ اور نفسیات کا بھی ہے۔ رندیو نے جو کیا اس سے کھیل کے کسی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ کہا جارہا ہے کہ ان کا یہ قدم سپورٹس مین سپرٹ کے دائرے سے باہر ہے لیکن حکمت عملی کے لحاظ سے کتنا غلط ہے؟ ۔

زیادہ تر سابق کھلاڑی اور مبصرین نے رندیو کی تنقید کی ہے، صرف سابق آل راؤنڈر اجےجڈیجا کا کہنا ہے کہ ’ اگر سہواگ رندیو کی جگہ ہوتے تو وہ بھی ایسا ہی کرتے۔ یہ کرکٹ میں عام بات ہے!‘

میچ فکسنگ کے الزامات کے بعد جڈیجہ پر بھی ہندوستانی کرکٹ بورڈ نے پابندی عائد کی تھی لیکن کھیل کے بارے میں ان کی معلومات اور ان کے بے پناہ ہنر سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔

لیکن میرا ( اور شاید جڈیجہ کا بھی) پوائنٹ یہ ہے : ویرندر سہواگ انتہائی خطرناک کرکٹر ہیں، انہیں جس قیمت پر بھی روکا جاسکے، روکا جانا چاہیے۔ ان کی سینچری مکمل کروانا حریف ٹیم کی ذمہ داری نہیں ہے، سینچری بنانے سے ان کا اعتماد بڑھتا اور اگلے میچ میں وہ لنکا کے لیے پھر درد سر بنتے۔

یہ اعتماد کا کھیل ہے اور بیٹس مین کو آؤٹ کرنے کے لیے کس طرح کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں، وہ کھیل کو فالو کرنے والے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’سلیجنگ‘ سے بیٹس مین کو پریشان کرنے کی کوشش نئی نہیں ہے، یہ کام آسٹریلوی کھلاڑی سب سے موثر انداز میں انجام دیتے ہیں اور کھلاڑیوں سے آپ بات کریں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ سلیجنگ کے دوران گالی گلوچ بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

اگر آپ کرکٹ فالو کرتے ہیں تو آپکو یاد ہوگا کہ انیس سو اکیاسی میں آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل نے اپنے چھوٹے بھائی ٹریور کو نیوزی لینڈ کے خلاف ایک ون ڈے کی آخری بال بغیر ہاتھ گھمائے پھینکے کی ہدایت دی تھی تاکہ مہمان ٹیم جیت کے لیے درکار چھ رن نہ بنا سکے۔ جب کھیل کے سپرٹ کی بات ہوتی ہے تو اس واقعہ کا ذکر ضرور آتا ہے۔ (بعد میں گریگ ہندوستانی ٹیم کے کوچ بنے تھے!)

بہرحال، رندیو کی بال پر بہت سے سابق کھلاڑیوں نے بھی انتہائی دلچسپ بیان دیے ہیں۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ایک سابق کپتان نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب بیٹس مین بال ’سنِک‘ کرتا ہے اور کیچ پکڑے جانے کے باوجود ’واک’ نہیں کرتا (یعنی امپائر کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر پویلین نہیں لوٹتا) تو کہا جاتا ہے کہ وہ کھیل کی سپرٹ کو مجروح کر رہا ہے۔ لیکن فیلڈر جب یہ جانتے ہوئے کہ بیٹس مین نے بال کو ٹچ نہیں کیا ہے، کیچ کی اپیل کرتے ہیں تو کوئی اعتراض نہیں کرتا۔‘

انگلینڈ کے سابق کپتنا مائک ایتھرٹن کہتے ہیں کہ کرکٹ میں میچ فکسنگ بھی ہے، سلیجنگ بھی، نسل پرستی بھی اور بے ایمانی بھی، کھیل میں یہ سب کچھ شامل ہے لہذا یہ تاثر دینا کہ کرکٹ کوئی پاک صاف کھیل ہے جس میں کھیل کے جذبے کے خلاف کچھ نہیں ہوتا، غلط ہے۔(شاید آپکو یاد ہو کہ ایک میچ کے دوران ایتھرٹن کی جیب سے ریت نکلی تھا جسے وہ گیند گھسنے کے لیے استعمال کر رہے تھے لیکن وہ ایک الگ کہانی ہے)۔

بہرحال خود سہواگ نے کہا ہے کہ ’سری لنکا نے ایسا کیا کیونکہ کوئی ٹیم یہ نہیں چاہتی کہ اس کے خلاف سینچری بنائی جائے۔۔۔میرے خیال میں سیریز جس جذبے سے کھیلی جارہی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، یہ کھیل کا حصہ ہے۔‘

اور اس پورے تنازعہ کو صحیح تناظر میں ہندوستان کے سابق چیف سلیکٹر چندو بورڈے سے بہتر کون پیش کر سکتا ہے؟

وہ کہتے ہیں کہ سری لنکا کو ہی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔۔۔اس طرح کی حکمت عملی ہندوستان سمیت تمام ملک استعمال کرتے ہیں!

سری لنکا کے کپتان کمار سنگھاکارا نے اب کہا ہے کہ قصوروار کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ طوفان کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کارروائی تو وہ ضرور کریں، بس اتنا یاد رکھیں کہ کریز کے پار اس نوجوان کھلاڑی کا یہ پہلا قدم تھا!

اسی بارے میں