کوریائی کوہ پیما کے ریکارڈ پر سوال

اوہ ایون سن
Image caption اپریل میں اوہ یون سن کی کامیابی کے بڑے چرچے ہوئے تھے

کوریائی کوہ پیما خاتون اوہ یون سن کے متعلق اپریل میں دنیا کی چودہ چوٹیوں پر چڑھنے کے ریکارڈ کے متعلق بعض نئے شکوک سامنے آئے ہیں۔

کوریا کی الپائن فیڈریشن کا کہنا ہے کہ شاید وہ دنیا کی بلند ترین چوٹی کنچن جنگا پر نہیں پہنچ پائی تھیں۔

ہمالیہ کی سب سے اونچی چوٹی پر چڑھنے کا ریکارڈ رکھنے والی الیزبتھ ہاؤلی فیڈریشن کے دعوؤں کے متعلق تفتیش کر رہی ہیں۔

اگر دو ہزار نو میں ہاوئی اس چڑھائی کو وہ نا منظور کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو پھر یہ ریکارڈ سپین کی کوہ پیما ایڈونی پاسبان کو مل جائیگا۔

اوہ یون سن نے آٹھ ہزار میٹر سے اونچی اپنی چودہ منزلوں میں سے آخر میں ستائس اپریل کو انّاپورنا چوٹی سر کی تھی جبکہ پاسابان نے سترہ مئی کو شیشہ پنگامہ چوٹی سر کی تھی۔

محترمہ اوہ نے فیڈریشن کے اس فیصلے کو '' یکطرفہ رائے'' سے تعبیر کیا ہے۔ '' سبھی شرکاء کوہ پیائی کرنے والے تھے جنہوں نے شروع ہی سے میری کایابی پر شک ظاہر کیا تھ، تو ظاہر ہے ان کا فیصلہ پہلے ہی سے سوچا سمجھا ہے۔''

' ادھر ہاؤلی جن کے پاس ہمالیہ کا ریکارڈ ہے، نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ محترمہ اوہ نے کنچنچنگا کو سر نہیں کیا ہے۔

اس طرح کی خبریں ان کے ساتھ کوہ پیمائی کرنے والے ایک دوسرے ساتھی کے اس انکشاف کے بعد آئی ہیں کہ تیز ہواؤں کے سبب محترمہ اوہ کنچنچگا سے ایک سو پچاس میٹر پہلے ہی رک گئی تھیں۔

نوربو نامی شخص جو ان کے وفد کا حصہ تھا، کا کہنا ہے کہ وہ وفد کی قیادت کر رہے تھے تبھی انہیں لوگوں نے نیچے آنے کی آواز دی تھی۔

اسی وفد کے ایک گائیڈ داوا وان چنگ نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وفد چوٹی پر نہیں پہنچ سکا تھا۔

محترمہ ہاؤلی کا کہنا ہے کہ '' مجھے یقین ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہی ہوں گی، انہوں نے اپنے گائیڈ دوا وانگ چوک پر اعتماد کیا ہوگا۔''

محترمہ اوہ ایون سن کی اس مہم کے متعلق پہلے ہی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تصویریں ویسی نہیں جیسی کی توقع کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق شاید وہ دو سو میٹر پہلے ہی رک گئی ہوں گی۔

اسی بارے میں