جوا، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم

محمد عامر
Image caption محمد عامر کو مین آف دی سیریز کا ایوارڈ دیا گیا

صدر آصف زرداری نے پاکستانی کرکٹرز کے مبینہ طور پر بک میکرز سے روابط کی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ سے ابتدائی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر آصف زرداری کو ان خبروں پر کافی تشویش ہے اور انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ سے کہا ہے کہ اب تک جو کچھ بھی ہوا ہے اس بارے میں ایک رپورٹ انہیں پیش کی جائے ۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستانی کرکٹرز کے مبینہ طور پر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے سے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں ۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ وزارت کھیل سے کہیں گے کہ اس بارے میں تحقیقات کی جائیں ۔

لارڈز ٹیسٹ کے دوران پاکستانی کرکٹرز کے مبینہ طور پر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے ملک کی بدنامی کا سبب قرار دیتے ہوئے اعلی سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریارخان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں انہیں دیکھنے سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز اس میں ملوث ہیں۔

Image caption وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں

انہوں نے کہا کہ جن کرکٹرز کے نام اسپاٹ فکسنگ میں سامنے آئے ہیں انہیں ٹیم سے فوری طور پر الگ کرکے وطن واپس بھیج دیا جائے۔

شہریارخان نے کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے جس کی اعلی سطحی تحقیقات کرا کر حقائق منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اور سابق سربراہ عارف عباسی کا کہنا ہے کہ لندن کی پولیس پاکستان کی طرح نہیں ہے۔ اس نے شواہد موجود ہونے کے بعد ہی پاکستانی ٹیم کے ہوٹل کا رخ کیا اور ٹیم کو شاملِ تفتیش کیا۔

عارف عباسی نے سوال کیا کہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ منیجر، اسسٹنٹ منیجر اور سکیورٹی افسر بھی موجود ہیں ان سے بازپرس ہونی چاہئے کہ انہوں نے اپنے فرض سے کیسے کوتاہی برتی کہ یہ واقعہ ہوا۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک ریٹائرڈ کرنل خواجہ نجم کی بطور تنخواہ دار ٹیم سکیورٹی افسر تقرری کر رکھی ہے جو ہردورے میں ٹیم کے ساتھ ہوتے ہیں ۔

پاکستانی کرکٹ میں میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے ریٹائرڈ جسٹس ملک محمد قیوم موجودہ صورتحال کو اپنی سفارشات پر عمل درآمد نہ ہونے کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔

جسٹس ( ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل کیا ہوتا تو آج یہ دن دیکھنا نہیں پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ کھلاڑیوں کے اثاثوں اور مالی معاملات پر نظر رکھی جاتی رہے لیکن کرکٹ بورڈ نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا۔

جسٹس ( ریٹائرڈ) ملک محمد قیوم نے کہا کہ ان کی رپورٹ کی روشنی میں جن کرکٹرز کو سزائیں اور جرمانے کئے گئے وہ کرکٹ بورڈ کی مجبوری تھی کیونکہ ایک وقت ایسا بھی آگیا تھا جب آئی سی سی کے انٹی کرپشن یونٹ کے اس وقت کے سربراہ نے ان سے کہا تھا کہ پاکستانی کرکٹرز مسلسل میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں اور وہ پاکستانی ٹیم کو معطل کردینگے۔

کیا اسپاٹ فکسنگ کا الزام ثابت ہونے کی صورت میں نیب بھی ان کرکٹرز کےخلاف کارروائی کرسکتی ہے ؟ اس سوال کی روشنی میں جب نیب کے پراسیکیوٹر جنرل جسٹس عرفان قادر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ فی الحال اس پر کوئی تبصرہ کرنا قبل ازوقت ہوگا البتہ اگر حکومت نے کہا تو اسے ضرور دیکھا جائے گا۔

اسی بارے میں